اندھی، گونگی حکومت ایک مجبور بیٹی کی حفاظت بھی نہ کرسکی، سینیٹر سراج الحق

256

سیرالاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہ تبدیلی نہیں تبادلہ سرکار ہے، جرائم کا خاتمہ بیوروکریسی اور پولیس افسروں کے تبادلوں سے نہیں بے حس حکمرانوں کو بدلنے سے ہوگا،حکومت کی اپنی کوئی سوچ ہے نہ وژن ،اس نے سوچنے کیلئے بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے بندے رکھے ہوئے ہیں،عوام نے صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظام دیکھ لئے مگر کوئی نظام بھی ان کے مسائل حل نہیں کرسکا۔عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل صرف اسلامی نظام میں ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل راولپنڈی میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نےکہا کہ اسلامی حکومت اللہ کی رحمت اور نعمت ہے ۔ہم پاکستان میں خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہماری عدالتوں میں شریعت کے مطابق فیصلے ہوں ،عوام کو عدل و انصاف ملے ،عام آدمی کی جان مال اور عزت کا تحفظ حاصل ہو۔

انہوں نےکہاکہ پاکستان اسی عظیم مقصد کیلئے حاصل کیا گیا تھااور اس کے قیام کیلئے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا،پاکستان نے تو امت کیلئے ایک مثال بننا تھا یہ اسلام کا قلعہ تھا مگر اس قلعے میں بیٹیاں محفوظ نہیں، اندھی بہری اور گونگی حکومت ایک مجبور بیٹی کی حفاظت توکر نہیں سکی، حکمران شرمندہ ہونے کی بجائے کہتے ہیں کہ اسے رات سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا، ہم مزدور کو کارخانے اور کسان اور کاشت کار کو کھیت کی پیداوار میں شریک کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں،تاکہ کسانوں اور مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی جاگیردار اور سرمایہ دار ہڑپ نہ کرسکیں،جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کو میدان میں اتارے گی۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک پر غیرت و حمیت سے عاری ٹولہ مسلط ہے، معصوم بچوں اور بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنا نے کے بعد ان کا گلا دبا کر قتل کرنے والے آزاد پھر رہے ہیں، قوم کی بیٹیوں کو شاہراہوں پر روک کر ان کی عزتوں کو پامال کردیا جاتا ہے، بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل اور ایک ماں کے ساتھ گینگ ریپ کیاجاتا ہے مگر حکمران سوئے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ظلم و جبر اور استحصال کے اس نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا،تبدیلی نوجوان لاتے ہیں، لاکھوں نوجوان جماعت اسلامی میں شامل ہوکر ظلم کے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے متحد ہوچکے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جو لوگ آپس میں دست و گریبان ہوں وہ مسائل حل نہیں بلکہ مزیدمسائل پیدا کرتے ہیں، ان حکمرانوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر دفن اور کشمیر پر بھارت قابض ہوگیا، خارجہ محاذ پر پاکستان تنہا رہ گیا ہے، ملک میں آٹے چینی کی من مانی قیمتیں ہیں، چینی جو 55 روپے کلو تھی اس حکومت میں آج 115 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں نے معیشت اور معاشرت دونوں کو تباہ کردیا ہے، وزیراعظم نے معیشت کیا ٹھیک کرنا تھی ان کے دور میں تو کرکٹ بھی تباہ ہوگئی ہے، یہ ظلم کا نظام اب نہیں چل سکتا کہ کرپٹ اور ظالم جاگیرداروڈیرے اور سرمایہ دار اس ملک پر مسلط رہیں اور جب وہ جائیں تو ان کے بیٹے اور پوتے اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوجائیں ، ہم آئندہ انتخابات میں عوام کودیانتدار اور خدمت گار قیادت دیں گے جس کا ہراول دستہ نوجوان ہونگے ۔