ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس میں واقع ہیروں کی سب سے بڑی کان کی ایک سرنگ میں پانی بھر گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس دوران 100 سے زیادہ کان کن وہاں کام کررہے تھے جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیموں کو بلایا گیا۔ امدادی کا رکنوں کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز پیش آنے والے حادثے کے بعد 9 کان کن ابھی تک لاپتا ہیں۔ روس میں سب سے زیادہ ہیرے نکالنے والی کمپنی ’ الروسا‘نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکھا ریجن کے علاقے میں واقع کان میں 9 کان کنوں کی تلاش جاری ہے جو کان میں پانی بھرنے کے بعد لاپتا ہو گئے تھے۔ یہ کان دارالحکومت ماسکو کے مشرق میں تقریباً 2600 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی وزارت نے کہا ہے کہ لاپتا ہونے والے کان کنوں کی تلاش جاری ہے تاکہ ان کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ وزارت نے بتایا کہ کان کے اندر ایک گڑھے میں تقریباً 3 لاکھ کیوبک میٹر پانی بھرا ہوا تھا جس میں شگاف ہونے سے پانی اس جانب بہنا شروع ہو گیا جہاں مزور کام کر رہے تھے۔ کان کی مالک کمپنی الروسا نے بتایا کہ حادثے کا سبب غالباً یہ ہے کہ گڑھے میں موجود پانی کی سطح اتنی بڑھ گئی کہ وہ کناروں سے چھلک پڑا اور ڈھلوان کی سمت بہنے لگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گڑھے سے پانی چھلکنے کا ایک سبب چٹانی دباؤ بھی ہو سکتا تھا جس سے کان کی چٹانوں میں شگاف پیدا ہو گیا۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ کان کے تمام حفاظتی آلات درست طور پر کام کر رہے تھے۔ روس کے ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ میر نامی کان میں اس وقت امدادی سرگرمیاں معطل ہو گئیں جب بجلی بند ہونے سے کان کے اندر جانے والی لفٹ رک گئی۔ ٹیلی وژن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی وڈیوز نشر کیں جن میں سیلابی پانی کنٹرول روم میں داخل ہو تے اور کان کی سرنگ کی چھت سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ الروسا نے کہا ہے کہ 133 کان کنوں کو کان سے نکال لیا گیا ہے۔ 2 کان کنوں کو جنہیں معمولی زخم آئے تھے اسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔