جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ کا کہناہے کہ ثابت ہوگیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے پیچھے راءکا ہاتھ ہے ۔پاک بھارت تعلقات میں کشمیر کے حق خود ارادیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔ ملک کے اندر سے کرپشن اور اقرباپروری ختم کرنی ہوگی۔
قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت فاران کلب ،گلشن اقبال میں عوامی دعوت افطار سے خطاب کیا جس میں انکا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ملک کو سودی معیشت سے نجات دلانے کی ضرورت ہے جبکہ نواز اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ میں سودی معیشت کے خاتمے کے خلاف جو اپیل دائر کی ہوئی ہے وہ اسے فوری واپس لیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں عدالتی کمیشن کے فیصلے کوسب کو قبول کرنا چاہیے ۔ انکا کہنا تھا کہ کراچی کے اندر ناجائز دولت سمیٹنے والوں کی سرپرستی سیاسی بنیادی پر کی جاتی رہی ہے جبکہ کراچی کے حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں امن ناگزیر ہے،کراچی میں ٹارگٹد آپریشن پر سب جماعتوں کا اتفاق ہو ا تھا خود ایم کیو ایم بڑھ چڑھ کر کراچی میں فوج بلانے کی بات کررہی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں مجرموں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی ہونی چاہیے۔
عوامی دعوت افطار میں بجلی کے طویل بریک ڈاﺅن ،غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ، پانی کے بحران اور شدید گرمی میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ کے الیکٹرک ،گورنر سندھ ، وزیر اعلی سندھ اور صوبائی حکومت کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور دو ہزار سے زائد شہریوں کے قتل کا مقدمہ انسدادی دہشت گردی ایکٹ کے تحت کے الیکٹرک ، صوبائی حکومت ،گورنر اور وزیر اعلی سندھ کے خلاف کاروائی کی جائے ۔