لاہور (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی آج بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کو ہونے والی پھانسیوں پر حکومتی خاموشی کے خلاف وزیراعظم سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دے گی۔بنگلا دیش میں ہونے والی پھانسیوں پر حکمرانوں کی خاموشی قومی سلامتی کے خلاف اقدام
ہے،جماعت اسلامی بنگلا دیش دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر بنگلا دیش کو بھارت کی کالونی بنانے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،بنگلا دیش بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سہ فریقی معاہدے کی بنگلا دیش خلاف ورزی کر رہا ہے، فوری طور پر پاکستان بھارت اور بنگلادیش سے سفارتی تعلقات ختم کر کے اپنے سفیروں کو واپس بلائے، عالمی محاذ پر بنگلا دیش میں قتل عام اور سفاکی کے خلاف آواز بلند کی جائے، سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان عالمی عدالت انصاف میں جائے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے نائب امیر میاں محمد اسلم، امیر ضلع زبیر فاروق خان اور آل پاکستان تاجر اتحاد کے صدر کاشف چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آج بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کو ہونے والی پھانسیوں اور اس پر پاکستان کے حکمرانوں کی مکمل طور پر بے حسی اور مجرمانہ غفلت و خاموشی کے خلاف وزیراعظم سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس وقت انتہائی اہم موڑ پر ہے۔ کرپشن کے حوالے سے عدالتی کمیشن کا نہ بننا بھی اہم ترین مسئلہ ہے اور کراچی میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی بھی قوم کی پریشانی کا باعث ہے لیکن ان تمام امور کے ساتھ ساتھ بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم اور سازشیں سب کے سامنے ہیں۔ بھارت بنگلا دیش کو کٹھ پتلی بنا کر اپنے عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں بنگلادیش کے سفارتخانے اور بے حسی کی آماجگاہ بنی ہوئی وزارت خارجہ کے باہر احتجاج کی اجازت مانگی تھی جو ہمیں نہیں دی گئی جس کے بعد ہم نے مجبوراً وزیراعظم سیکرٹریٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے اور پرامن رہنا، قانون کو ہاتھ میں نہ لینا ہم اپنی قومی ذمے داری سمجھتے ہیں۔ بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہر مکروہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس پر سیاسی و عسکری قیادت نہ سمجھ آنے والی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بنگلا دیش میں عملی طو رپر انسانی حقوق اور شخصی جمہوری آزادیوں کا قتل ہو رہا ہے۔ شہید ہونے والے قائدین کے گھر کی خواتین، ان کی اولاد، کاروبار اور گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت او آئی سی کے رکن ممالک کے اندر سفارتی جدوجہد کرے تاکہ تمام مسلمان ملک بھارت اور بنگلا دیش کا معاشی بائیکاٹ کریں۔ اگر بھارت بنگلا دیش میں اپنے عزائم میں کامیاب ہو گیا تو کشمیریوں پر ظلم بڑھے گا۔ پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک بہت فعال ہو گا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی راہ میں اور زیادہ رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں گی۔ حکومت عالمی محاذ پر فعال اور جرأت مندانہ انداز میں اس کیس کو لڑے۔