اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی نے بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم کو پھانسی دیے جانے کے خلاف ترمیمی قرارداد منظور کر لی۔ بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس میں جماعت اسلامی کے رہنما شیر اکبر نے ایوان میں تحریک پیش کی کہ ایوان کی کارروائی معطل کر کے بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو دی جانے والی پھانسیوں پر مذمتی قرارداد منظور کی جائے جس کی ایوان نے توثیق کی۔جس کے بعد شیر اکبر نے بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم
کو پھانسی دیے جانے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی ۔ا نہوں نے کہا کہ بنگلا دیش جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیاں دے کر 1971ء کے واقعے کی یادیں تازہ کر رہا ہے، اس طرح کے عمل سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ بنگلا دیشی حکومت شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ اس لیے میر قاسم کو پھانسی دیے جانے پر مذمتی قرارداد منظور کی جائے جس کو ایوان میں متفقہ رائے سے منظور کر لیا۔علاوہ ازیں اپوزیشن جماعتوں نے ٹیکس قوانین نرمی آرڈیننس پیش کرنے پر شدید احتجاج کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ حکومت آرڈیننس جاری کر کے پارلیمنٹ کا مذاق اڑا رہی ہے، ہر2سے 3ماہ بعد نیا آرڈیننس لا کر پارلیمنٹ کو ٹیکس معاملات پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔