رپورٹ: سلمان علی
دنیا بھر میں آج یوم فالج منایا جا رہا ہے۔ روزنامہ جسارت،نارف،ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن ،پیما،الخدمت کراچی ،کراچی پریس کلب اور فارم ایوو نے مشترکہ طور پراسی مناسبت سے عوامی آگاہی کے لیے ماہرین کے ساتھ ایک مذاکرے کا انعقاد کیا۔ جس کا عنوان عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے تجویز کیے گئے سلوگن ’دماغی فالج سے بچاؤ۔آپ کی نظر میں‘ رکھا گیا۔ مذاکرے میں ماہرین فالج و دیگر ڈاکٹرز تنظیموں کے علاوہ اس حوالے سے تحقیق اور آگہی کے کام کرنے والے اداروں کو بھی شامل کیا گیا۔ معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر عبد المالک نے مذاکرے کے شرکا کوموثر انداز میں فالج کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر آگہی فراہم کی۔ مختلف اداروںکے تحت منعقدہ مذاکرے کے ذریعے اجاگر کیے جانے والے مختلف اہم پہلوؤں کو مہمان ڈاکٹرز کی گفتگو کی روشنی میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی مناسبت سے مرض سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگہی فروغ پا سکے۔
مذاکرے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد مہمان ڈاکٹرز نے موضوع کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ ڈاکٹر عبد المالک نے ابتدائی بات چیت کے دوران مختصرا ً بتایا کہ فالج بنیادی طور پر ’دماغ کے اٹیک ‘کو کہتے ہیں ، اس کی 2 اقسام ہیں، جن میں خون کی نالی کا کولیسٹرول یا خون کے لوتھڑے سے بند ہو جانااور خون کی نالی کے پھٹ جانے کی وجہ سے ہونے والا فالج شامل ہیں۔ فالج کا حملہ عام طور پر شریانوں کے پھٹنے، ان میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ آنے اور دماغ میں خون کی ترسیل میں تعطل آنے سے ہوتا ہے۔خون دماغ میں جمع ہو جاتا ہے اوراس کے باعث جسم میں خون کی ترسیل متاثر ہوجاتی ہے۔ فالج کی تشخیص سی ٹی اور ایم آر آئی اسکین اور خون کی نالیوں کی انجیو گرافی سے کی جاتی ہے۔ فالج کے لیے سب سے بڑا خطرہ شوگر اور بلڈ پریشر کو قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت یہ مرض ہر 6 میں سے ایک شخص کو لاحق ہونے کا مکمل خطرہ ہے۔ ا س کی ابتدائی علامات میں جسم کا سن ہوجانا، منہ ٹیڑھا ہوجانا، الفاظ کی ادائیگی میں مشکل، الٹیاں آنا، شدید کمزوری، بازو یا ٹانگ بے جان محسوس ہوجانا،شدید جھٹکے لگنا،بے ہوش ہوجانا شامل ہیں۔ اگر فالج کے مرض کی تشخیص بروقت ہو جائے تو علاج کے نتائج کافی اچھے ہوتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو فالج ہونے کے بعد بھی معمول کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں جس کے لیے شرط یہ ہے کہ علاج بروقت شروع ہو جائے۔
فالج کا مرض کسی کو بھی لاحق ہو سکتا ہے لیکن صحت مندانہ طرز زندگی کو اپنا کرہم اس مرض سے بچ سکتے ہیں۔ یہی مذاکرے کا بنیادی موضوع بھی ہے۔ مذاکرے میں جہاں سینئر ڈاکٹرز نے موضوع پر مختلف حوالوں سے میں روشنی ڈالی وہیں انہوں نے پروگرام کے اختتام پر شرکا کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ مہمانوں کی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔
پروفیسرڈاکٹرمحمد واسع
(صدر شعبہ نیورولوجی ، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال )
کراچی سمیت پاکستان کے بعض شہروں کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے اور آپ یہ سوال کریں گے کہ آپ کا پروگرام تو ورلڈ اسٹروک ڈے اور فالج کے حوالے سے ہے اور اس کا آلودگی سے کیا تعلق؟ لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب 2016-17ء میں یہ ایک بہت اہم ڈیٹا ہے جو پوری دنیا کے سامنے آیا ہے کہ آلودگی اور فالج کا آپس میں کیا تعلق ہے اور یہی ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ہے کہ جب ہم فالج کے بچائو پر بات کرتے ہیں تو 2016ء میں دنیا نے یہ جان لیا کہ جس طرح فالج کی اور دیگر وجوہات ہوتی ہیں جیسے بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول اسی طرح یہ آلودگی اور فضائی آلودگی اس وقت فالج کی ایک بہت بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے اور اگر ہم فالج سے اپنے ملک کو بچانا چاہتے ہیں یا فالج کی شرح کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیںاس جانب بھی سوچنا ہوگا۔اس حقیقت کو اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے کہ اس کو کنٹرول کرنا شروع کیا جائے۔ دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو ہر سال فالج ہوتا ہے اور اس میں سے 60 لاکھ مر جاتے ہیںاور 5فیصد ایسے ہیں کہ جو معذور ہو جاتے ہیں۔ دُنیا میں یہ دوسری بڑی بیماری ہے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً ساڑھے 3 لاکھ لوگ اس بیماری کا شکار ہیںیعنی تقریباً ایک ہزار افراد روزانہ پاکستان میں فالج کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان ایک ہزار افراد میں سے تقریباً 400افراد روزانہ فالج کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ یہ تعداد معمولی نہیں ہے ، کسی دھماکے سے یا کسی اور خطرناک کام سے بھی اتنے لوگ نہیں مرتے جتنے روزانہ فالج کی وجہ سے مرتے ہیں۔ اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ فالج ایک قابل بچائو بیماری ہے ۔اگر اس سے بچاؤ کے عوامل پر ہم توجہ دیں تو تقریباً90فیصد فالج ایسا ہے جسے ہم کنٹرول کر سکتے ہیں۔ابھی تک فالج کی جو بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں ان میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر ، کولیسٹرول ، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہو جانااور تمام طرح کی تمباکونوشی شامل ہے۔ پاکستان کے اندر بہت طرح کے تمباکو استعمال ہوتے ہیں جن کو لوگ تمباکو سمجھتے ہی نہیں ہیںجیسے گٹکا گھروں میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض پورے پورے گائوں ایسے ہیں کہ جہاں ہر فرد گٹکا استعمال کرتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ تمباکوان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستان میں طرح طرح کے تمباکو استعمال ہو رہے ہیں جو سب کے سب خطرناک ہیں بشمول نسوار کے۔ ہمارے کئی دوست کہتے ہیں کہ نسوار میں تو کوئی نشہ نہیں ہوتا اور اس میں تو کوئی خطرناک چیز نہیں ہے لیکن اصل میں نسوار بھی تمباکو ہی کی ایک قسم ہے کہ جو اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنا سگریٹ اور گٹکا۔ ان سب کے بعد جو نئے اعداد شمار آئے ہیں اُن کے مطابق فضائی آلودگی دُنیا میں فالج کی ایک بہت بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔پچھلے سال ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا کہ دنیا بھر میں اسٹروک کی ایک تہائی وجہ فضائی آلودگی ہے اور یہ بہت بڑا ڈیٹا تھا۔ دنیا کے 188ملکوں سے یہ ڈیٹا جمع کیا گیااور 17 حقائق کو دیکھا گیا ہے کہ جس میں پتا چلا کہ دیگر حقائق کے ساتھ یہ فضائی آلودگی صرف گھر کے باہر نہیں بلکہ گھر کے اندر بھی جو آلودگی ہوتی ہے سگریٹ یا دھوئیں کی وجہ سے اور دیگر وجوہات سے‘ وہ بھی ایک بہت بڑی وجہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعداد تقریباً ایک تہائی ہے جس سے بچاؤضروری ہے ۔ بظاہر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید آلودگی مغربی ملکوں کا زیادہ بڑا مسئلہ ہے اور ترقی پذیر ممالک کا نہیں ہے لیکن فضائی آلودگی ترقی پذیر ممالک کا زیادہ بڑا مسئلہ ہے اور تحقیق نے ثابت کیا کہ تقریباً ترقی پذیر ممالک کے شہروں میں33فیصد فضائی آلودگی پائی جاتی ہے۔اورترقی یافتہ ممالک کے شہروں میں صرف 10فیصد فضائی آلودگی پائی جاتی ہے۔ یہ آلودگی فالج، دل کی بیماری، پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں فالج سے بچاؤ کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو اس کے لیے ہمیں انفرادی اور حکومتی سطح پر بھی اقدامات کرنے ہونگے ۔اپنے شہر میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم فضائی آلودگی سے اپنے شہروں کو بچائیں گے اس لئے کہ فضائی آلودگی نہ صرف دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے بلکہ پھیپھڑوںاور دماغ کی بیماریوں کی بھی بڑی وجہ ہے اور جوعالمی ادارہ صحت نے ’عالمی یوم فالج‘ کے حوالے سے اس سال ’سلوگن‘ دیا ہے اُس میں بھی سب سے اہم چیز یہی ہے کہ فالج ہونے نہ دیا جائے ۔ فالج سے بچایا جائے اور جس حد تک ہم اس کو بچا سکتے ہیں اس کو بچانے کی کوشش کی جائے۔
ڈاکٹر قیصر جمال (عباسی شہید ہسپتال، جنرل سیکریٹری ۔پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ کراچی )
بلڈ پریشر کو سائلنٹ کلر کہا جاتا ہے یعنی خاموش قاتل۔ خاموش قاتل اس وجہ سے کہ بہت سارے لوگ کہ جن کو فالج کاحملہ ہو جاتا ہے اُن کو اس بات کی آگہی نہیں ہوتی کہ ان کو بلڈ پریشر کی بیماری لاحق تھی اور جب ایمرجنسی میں لائے جاتے ہیں پھر ان کا بلڈ پریشر چیک کیا جاتا ہے تو وہ ایک خاص تعداد سے اوپر جا چکا ہوتا ہے۔حقائق تو یہ ہیں کہ 40 سال سے زیادہ عمر کا ہر تیسرا پاکستانی اس وقت بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہے۔ یعنی پاکستان کی آبادی کا 33 فیصد بلڈ پریشرکے مریض بن چکے ہیں اور یہ صرف ہمارا ڈیٹا نہیں ہے اس کو ہم جب دیگر ممالک سے موازنہ کرتے ہیں تو انگلینڈ میں یہ تعداد 66فیصدہے‘ امریکا میں 50 فیصد لوگوں کو بلڈ پریشر ہے‘ کینیڈا میں 24 فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔ دماغ کے خلیوں تک خون نہ پہنچنے کی وجہ سے خلیے مرنے یا زخمی ہونے لگتے ہیں اور نتیجتاً فالج اور جسم کے ناکارہ ہونے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہے۔ جسم کے ایک حصے کا ناکارہ ہوجانا (مفلوج ہونا) یا پھر بعض صورتوں میں موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسے سنجیدگی سے اس معاملے کو دیکھنا ہم سب پر لازم ہے۔ پاکستان میں 40فیصد افراد کو پتا چل پاتا ہے کہ اُنہیں بلڈ پریشر ہے ، جنہیں پتا چل جاتا ہے اُن میں سے بھی صرف 75فیصد اس کا علاج کرتے ہیں ، جبکہ اُن میں سے بھی 22فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول میں نہیں رہتا ، گویا وہ صرف دوا کھاتے ہیں علاج، پرہیز اور چیک اپ پر کوئی توجہ نہیں رکھتے ۔ یہ صرف اعداد شمار ہیں، ان میں کینیڈا اس لیے سب سے کم ہے کیونکہ وہاں بلڈ پریشر کنٹرول سب سے زیادہ ہے۔ اپنے طرز زندگی کو بہتر بنا کر ہم اس مرض پر قابو پا سکتے ہیں۔ شوگر کا معاملہ یہ ہے کہ اس مرض تشخیص ہی بہت عرصے بعد ہوتی ہے ، کئی تو ایسے آتے ہیںجن کو کئی اقسام کے دیگر مسائل پیچیدگی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں ،کسی کو آنکھوں کی بیماری، کوئی ہارٹ اٹیک، کوئی فالج کے ساتھ پہنچتے ہیں۔ ہمارا دنیا بھر میں اس مرض کے مریضوں کے حساب سے ساتواں نمبر ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ درجہ ہمیں 2020ء میں ملنا تھا جو ہم نے 3 سال قبل ہی حاصل کر لیا۔ ان امراض کو قابو نہ کیا جائے تو بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ہمیں۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ ہمیں اپنے طرز زندگی کو بدلنا ہوگا ۔ یہ وقت ایک خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ (باقی صفحہ 09پر)
ڈاکٹر فاروق راٹھور (پی این ایس شفا، اسلام آباد، پاکستان سوسائٹی آف ری ہیبلیٹیشن)
اس ضمن میں ایک بات جاننا ضروری ہے کہ فالج کو کسی طور سے بھی بوڑھوں کی بیماری نہیں کہا جا سکتا ہے۔ بہت سارے فالج کے مریض ایسے ہیں کہ جن کی عمریں 35سے 40سال کے درمیان ہیں۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب انسان کے بچے بڑے ہو رہے ہوتے ہیں کچھ آپ کے خواب ہوتے ہیں کچھ چیزوں کو آپ نے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوتاہے۔ سوچیے کہ آپ پر وہ ٹائم آجائے کہ آپ ہل نہیں سکتے اور گھر کا وہ بڑا جس نے 30، 40 سال گھر چلایا، 4، 5 بچے پالے ، اب وہ ایک پانی کے گلاس کے لیے جب اپنے بچے کو اشارہ کرتا ہے ۔ (باقی صفحہ 09پر)
کیونکہ اس کی زبان بند ہے تو اس کی کیا کیفیت ہو گی۔ یہ فالج کی ایک کرب ناک شکل ہے۔ اس لیے جہاں اس مرض کا علاج ، اس کی دوا انتہائی ضروری اور اہم ہے اسی طرح بحالی کا عمل جس کو ہم rehabilitationبھی کہتے ہیں وہ بھی انتہائی ضروری ہوتاہے۔ہمارے ملک کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ چیزیں مکس کر دی جاتی ہیں ۔ ہمارے یہاں اکثر rehabilitationسے صرف فزیوتھراپی اور کچھ ورزشیں مراد لی جاتی ہیں ۔ جان لیںکہ فزیو تھراپی بحالی کا صرف ایک حصہ ہے ۔ فزیوتھراپی کا نام بحالی نہیں ہے۔ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے صرف 50یا 60لوگ ایسے ہیں جنہوں نے rehabilitationکی ہائر ایجوکیشن لی ہوئی ہے تقریباً 8ملک سے باہر کام کرتے ہیں پیچھے رہ گئے ہیں 50یا 55، اُن میں سے 35مسلح افواج میں ہیں، تو پبلک سیکٹر میں اس وقت صرف 20لوگ ایسے ہیں جو بحالی کے ماہرین ہیں جو سارے کے سارے صرف پشاور، کراچی ، اسلام آباد میں دستیاب ہیں۔ کوئٹہ کے علاوہ پورے بلوچستان کے پبلک سیکٹر میں کوئی بھی فالج سے بحالی کاڈاکٹر دستیاب نہیں ہے ۔ دوسری اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ rehabilitation کب شروع کی جائے۔ اصول یہ ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے اس کی بحالی کی کوششیں شروع کردیجیے۔ کیوں؟ اس کی مثال میں ہمیشہ لوگوں کوہوائی جہاز کے ذریعے دیا کرتا ہوں کہ ہوائی جہاز جب اڑتا ہے تو تقریباً 45ڈگری پر فلائی کرتا ہے اور کچھ اوپر جا کر پھر وہ جامد سا ہو جاتا ہے اورپھر وہ سیدھا چلتا ہوا اپنی منزل پر پہنچتا ہے آپ کو پتا بھی نہیں چلتا کہ آپ ہو امیں اڑ رہے ہیں ۔فالج میں بھی پہلے 6مہینے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ جس شخص کو پہلے 3سے 6ماہ میں اچھی rehabilitation ملتی ہے ان لوگوں کی ریکوری بہت اچھی ہوتی ہے۔جتنا بحالی کے عمل میں تاخیر کی جائے گی، ریکوری کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے اور آخر میں آپ کو اتنی ہی زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ یہ بحالی اسٹروک مینجمنٹ کا انتہائی ضروری اور اہم حصہ ہے۔ اس کو جلد از جلد شروع کرنا چاہیے۔ صرف فزیو تھراپی اور خصوصاً وہ فزیوتھراپی کہ جہاں فزیوتھراپسٹ صبح و شام گھر آتا ہے اور وہ اسٹروک والا مریض کئی ماہ بیڈ پر پڑا رہتا ہے اور وہ فزیوتھراپسٹ آکر اس کا ہاتھ کھینچتا رہتا ہے اس کا نام بحالی نہیں ہے۔ بحالی کا مطلب ہے کہ آپ اس شخص کو واپس اس مقام تک لے جائیں جہاں پہلے وہ کام کر رہا تھا نوکری کر رہا تھا۔ اسی معمول میں وہ واپس آجائے اس کوبحالی کہتے ہیں۔جو صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب بہت سارے ماہرین rehabilitation ڈاکٹرز کی قیادت میں اکٹھے ہوں اور مل کر ہر مریض کو اس کی rehabilitation کے مطابق ایک منصوبہ دیں۔
ڈاکٹر اظہر چغتائی( ڈائریکٹر الخدمت ، شعبہ ہیلتھ کیئر)
بطور بچوں کے ڈاکٹر کے میں یہ بات ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے توایک صاف تختی کی مانند ہوتا ہے جس پر ہم لکھتے ہیں ۔ ہم اس کو بائے بائے سکھاتے ہیں وہ بائے بائے سیکھ لیتا ہے ہم اس کو السلام علیکم سکھاتے ہیں وہ السلام علیکم سیکھ لیتا ہے ۔ میں اس کو چپس کھانا سکھائوں تو وہ چپس کھانا سیکھ لے گا، میں اس کو روٹی یا چاول کھانا سکھائوں تو وہ روٹی یا چاول کھانا سیکھ لے گا، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جو بھی میں اس صاف تختی پر لکھتا جائوں گا اس کے اوپر جو بالکل خالی کتاب ہی کی مانند ہے وہ شامل ہوتا چلا جائے گا۔ ہماری یہ تمام چیزیں بچے کی شخصیت کو بنارہی ہوتی ہیں ، جسے ہم لائف اسٹائل بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اگر ماں باپ ایسے ہوں کہ ابا جاب سے آئے تو وہ موبائل میں لگ گئے، ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا، چینل دیکھنا شروع کیے تو بچہ بھی یہی سیکھے گا۔تو اگر ہم بچے کی تربیت میں شروع سے اچھی غذائیت صحت کے بارے میں معلومات اور عادت ڈالیں گے تو اُس وقت اس کی سمجھ میں تو نہیں آئے گا مگر یہ باتیں اُس کے ذہن میں نقش ہوتی چلی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی کچھ عادات بن جائیں گی جیسے ہاتھ دھو کر کھانا کھانا چاہیے ‘ واش روم کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا بہت ضروری ہے تو یہ تمام چیزیں اس کی شخصیت کو بنا رہی ہوتی ہیں، جب وہ سمجھداری کی عمر پر پہنچ جاتا ہے۔ فالج کی وجوہات میںموٹاپا بھی ایک وجہ قرار دی جاتی ہے جو کہ اسی طرز زندگی کی بے ترتیبی سے فروغ پاتی ہے۔ ان چیزوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں میں بھی موٹا پا بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے فاسٹ فوڈ بہت زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے اسکول کے اندر گرائونڈ ہوتے تھے جس پر بچے بھاگتے دوڑتے تھے اب وہ بھی تمام چیزیں ختم ہو تی چلی جا رہی ہیں ۔اب تو اسکول 1000گز سے 600گز اور کچھ تو 200گز کے مکان کے اندر 4منزلہ اسکول ہوتا ہے تو جو ٹوٹل ایکسرسائز اب بچوں کی ہوتی ہے وہ چند کلو کا بستہ ہوتا ہے جسے وہ پہلی منزل سے چوتھی منزل تک جاتا ہے یہ بس اس کی ٹوٹل ایکسرسائز ہوتی ہے۔ اس پر اگر ہم کام کرنا شروع کریں کہ بچے کو اچھی ورزش اور اپنی کیلوریز ختم کرنے کی یا فاسٹ فوڈ کلچر سے بچنے کی عادات ڈالیں تو وہ پھر اُسے نوجوان یا ادھیڑ عمر ہو نے تک کم از کم موٹاپے، شوگر، بلڈ پریشر جیسے امراض سے نجات ملنے کا غالب امکان ہوگا۔ہم نے اپنے ڈاکٹروں سے کہنا شروع کیا ہے کہ آپ صرف مریض کو دوا نہیں دیں بلکہ ساتھ ساتھ ان کی آگہی اور ان کے ساتھ مشاورت بھی کریں گے کہ طرز زندگی کس چیز کا نام ہے ۔ صرف دوا دے کر آپ کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام نہیں دیں گے۔کسی کو اس کی اگلی زندگی سے متعلق سمجھانا۔ مثلاً اگر ایک ڈاکٹر والدین کو یہ سمجھائے گا کہ اگر آپ چپس کھلائیں گی ‘ جوس پلائو گی تو یہ بچہ پھول تو جائے گالیکن اس کے امراض بھی بڑھتے چلے جائیں گے یہ کوئی متحرک ، چاق و چوبند بچہ نہیں ہو گا۔ ہمیں موٹا بچہ پسند نہیں ہے ہمیں متحرک ،چست اور چاق و چوبند بچہ پسند چاہیے ۔ یہ جو چکنائیوں کا جمنا ہوتا ہے یہ بچپن سے شروع ہو چکا ہوتا ہے یہ 25سال کی عمر میں شروع نہیں ہوتا۔ تو اس ضمن میں آگہی کا فروغ ہم سب کی ذمے داری ہے ، دوا سے زیادہ بچاؤکی باتیں کریں۔ اگر ہم لوگوں کو یہ سمجھائیں گے کہ یہ تمام غذائیں اللہ کی نعمتیں ہیں اس کا صحیح استعمال کیسے ہو گا اور صحیح استعمال کے بعد پاکستان کے لیے ایک مفید نوجوان کیسے بنا سکتے ہیںتو یہ بڑا اہم کام ہے ۔ اسٹروک 35سال کی عمر میں ہوتو رہا ہے لیکن اس کی بچت کئی سال پہلے سے شروع ہو سکتی ہے تاکہ ہم اپنے بڑھاپے کو بہتر طریقے سے بغیر بیماریوں کے گزار سکیں۔
ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی (صدر ۔پاکستان اسلامک میڈیکل ایسو سی ایشن،کراچی )
ایک پرانا اور مشہور قول ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ یہ جو آگہی کے پروگرام ہیں، چاہے وہ کسی بھی بیماری سے متعلق ہوںاس میں جس بنیادی چیز پر زور دیا جاتا ہے وہ یہی ہوتی ہے کہ اس سے کس طرح سے بچا جائے۔ یہاں آکر آپ کو کوئی علاج نہیں بتاتاکہ خدانخواستہ فالج ہو گیاتو اس کا علاج کیا ہوگایا اگر کسی کو مرگی ہے تو کیا ہوگابلکہ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے کس طرح سے بچا جا سکتا ہے۔ آگہی بنیادی طور پر معاشرے میں شعور پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں جس چیز کی سب سے بڑی کمی ہے وہ تعلیم تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ تربیت کی بھی کمی ہے۔جیسے ڈاکٹر اظہر نے ہمارے طرز زندگی پر کہ والد صاحب نے کھانا کھایا اور موبائل میں لگ گئے یا ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی دیکھنے لگے تو نہ ان کی اپنی کوئی فزیکل ایکسرسائز ہے اور نہ وہ بچے کو ترغیب دیتے ہیں۔ تمام چیزیں بچپن سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ پہلے کوئی اچھے سے اچھا پڑھنے والا لڑکا بھی کسی نہ کسی کھیلوں کی سرگرمی میں ضرور شامل ہوتا تھا۔ مجھے کراچی کی وہ راتیں یاد ہیں کہ جب کراچی کی سڑکوں پر رات کو نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ ہوتے تھے ۔ سردیوں کی راتوں میں جیسے ابھی شروع ہو جائے گا اکتوبر نومبر سے کہ کوئی گلی مجھے اپنے محلے کی ایسی نہیں یاد کہ جہاں بیڈ منٹن کے نیٹ نہ لگے ہوتے ہوں اور لڑکے رات کو بیڈ منٹن نہ کھیل رہے ہوتے ہوںلیکن اب یہ سب چیزیں ختم ہو رہی ہیں۔ میںجسمانی سرگرمی کے حوالے سے ایک بڑا دلچسپ واقعہ آپ کو سنائوں کہ کسی عزیز کی شادی تھی۔ میرے بڑے بیٹے کے امتحان ختم ہوئے تھے تو وہ سب دوست جمع تھے اور کسی دوست کے گھر پر کوئی کھانے پینے کا پروگرام تھاتو وہ دوست سارے جو محلے والے تھے ‘میرے گھر پر آگئے اور کہا کہ آپ اس طرف جا رہے ہیں تو آپ ہمیں چھوڑ دیجیے گا۔ میں نے کہا کہ بیٹا میں شادی میں جا رہا ہوں مجھے آپ کو واپس لینے میں بہت دیر ہو جائے گی۔تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہم اپنے دوست کے گھر میں رہ لیں گے تو ان میں سے ایک لڑکے نے کہا کہ انکل مجھے تو ذرا جلدی آنا ہے۔ تومیں نے کہا کہ بیٹے آپ اتنی دور سے کیسے آئیں گے تو اس لڑکے نے کہا کہ نہیں میں کسی طرح آجاؤں گا۔ تو میرے بیٹے نے کہا کہ اصل میں اس کا آج فائنل ہے۔ میں نے کہا کہ بھئی کس چیز کا فائنل ہے توکہنے لگے کہ کرکٹ کا فائنل ہے۔ میں بڑا خوش ہوا۔ یقین جانیے کہ جب میں کسی بچے کو کھیلتے کودتے دیکھتا ہوں اور کسی کھیلوں کی سرگرمی میں حصہ لیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے دل سے خوشی ہوتی ہے۔میں نے کہا کہ بیٹا کہاں ہے یہ ٹورنامنٹ تمہارا؟ تو معلوم ہوا کہ کمپیوٹر پر کرکٹ کا ٹورنامنٹ ہے جس کا وہ فائنل کھیلیں گے۔ تو یہ ہمارے معاشرے کاحال ہو چکا ہے۔اس چیز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ تو آگہی کے پروگراموں کی بڑی اہمیت ہے اس سے جو شعور بیدار ہوتا ہے وہ بڑی دور تک جاتا ہے۔ شاید اس وقت اس چیز کی کوئی اہمیت نہ ہو لیکن یہاں سے اٹھنے والا ایک آدمی بھی اگر آج سے کچھ دیر واک شروع کر دیتا ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ بھی اس سیمینار کی ایک کامیابی ہے۔ تو میں یہ کہوں گا کہ ہمارے اوپر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس قسم کے آگہی کے پروگرامات کی تشہیر سوشل میڈیا کے ذریعے کریں۔ یہ ہمارے منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہم مختلف امراض سے متعلق آگہی پر چھوٹے سے کلپس بنا کر واٹس ایپ اور فیس بک پر ڈالیں، گو کہ اس کا آغاز بھی کچھ حد تک ہو گیا ہے۔کیونکہ لوگوں کے پاس وقت نہیں ہوتا تو جس کو ضرورت ہو وہ اس کو فیس بک وغیرہ پر دیکھ لے۔لیکن یہ وہ مقام ہے جسے نظر انداز کیا گیاہے۔ قریب ہی واقع ہاکی کلب آف پاکستان کبھی بڑا آباد ہوتا تھا یہاں بڑے بڑے اسکولوں کے ٹورنامنٹ ہو تے تھے‘ کئی دفعہ میں کالج اور اسکول کی طرف سے یہاں پر آیا۔لیکن اب یہ سب چیزیں ختم ہو گئی ہیں ۔ زیادہ تر بیماریاں جو ہمارے معاشرے میں ہیں وہ قابل بچاؤ ہیں ۔ آپ سب شرکا کی بھی ذمے داری ہے کہ آگہی کے فروغ میں آپ بھی ہمارا حصہ بنیں ، جو کچھ یہاں ماہرین نے بتایا ہے اُس کو اپنے احباب میں موضوع بنائیں ۔مثلاً تمباکو نوشی ہے ایک اہم مسئلہ جس کے حوالے سے باقاعدہ ایک مہم بھی چلائی گئی ۔فالج کا مرض پیدائشی طور پر نہیں وقوع پذیر ہوتا اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجوہات ہوتی ہیں تو اس کو کنٹرول اور بچاؤ کی کوشش کی جانی چاہئے اور یہ آگہی کام آپ کے میڈیا کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر قیصر سجاد( جنرل سیکریٹری ، پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن)
آگاہی دینا ایک بہت بڑا کام ہے، کسی کو بتانا کہ یہ راستہ آگے بند ہے آپ اِدھر سے چلے جائیں، یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے، ورنہ پھر وہ آدمی آگے جا کر جو پھنستا ہے تو بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھا کام ہے۔ اسلامی طور سے بھی اور اخلاقی طور سے بھی اور صحت کے حوالے سے تو ہے ہی بہت اچھا کام۔ میں صرف 2 باتوں پر توجہ دلاؤں گا۔ ایک سرکار پر اور ایک عوام پر ۔ دیکھیں ہمارے یہاں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا نعرہ ہی یہ ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے مگر معذرت کے ساتھ کہ ہمارے ملک میں یہ بالکل رائج نہیں ہے۔ ہمارے یہاں ڈاکٹر کے پاس جائیں گے، ان کو فیس دیں گے، ان سے لڑیں گے لیکن یہ طریقہ اختیار نہیں کریں گے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔ نہ وہ حکومت کرتی ہے اور نہ وہ عوام کرتی ہے۔ میں جب چھوٹا تھا تو سنتا تھا کہ ملیریا مچھر سے ہوتا ہے اور ملیریا اب ختم ہو جائے گا۔ یہ پروگرام ، وہ پروگرام ، لیکن ملیریا نہیں ختم ہوا۔اس کے بعد ڈینگی آگیا۔2005ء میں ڈینگی بچاؤ پروگرام کراچی کا میں جنرل سیکرٹری تھا، اس وقت پورے پاکستان کا سیکرٹری جنرل ہوں لیکن اس وقت مجھے افسوس ہوا کہ کراچی جیسے شہر میں ڈینگی سے52لوگ انتقال کر گئے جس کی وجہ کیا تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ صحیح طریقے سے آگاہ نہیں تھے۔ لوگوں کو پتا نہیں تھا۔ لوگ تو لوگ ہمارے ڈاکٹروں کو بھی نہیں پتا تھا کہ بخار میں اینٹی بائیوٹک یا asprine, disprine نہیں دیتے ، لیکن عوام ہماری یہ خوب کھاتی ہے اور اس سے یہ ہوا کہ پلیٹلٹ نیچے آتے گئے اور لوگوں کو بلیڈنگ ہوئی اور لوگ انتقال کر گئے۔ میں نے ایک گائیڈ لائن بنائی اور لوگوں کو دی۔ کچھ ہمارے ساتھ حکومت نے بھی کام کیا تو عوام میں بھی آگہی آگئی۔ پاکستان میں کسی بھی رہنما کے لیے‘ پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے‘ پاکستان میں کسی بھی حکومت کے لیے تعلیم اور صحت کبھی بھی ترجیح میں نہیں رہے، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں شعبے جن کو ترقی کرنا چاہئے ان کا بیڑا غرق ہوچکاہے۔ دیکھیں ہم تو چل پھر رہے ہیں۔ ابھی ماشاء اللہ پروگرام کے بعد آپ سب بھی چلے جائیں گے۔ میری دعا ہے آپ سب صحت مند رہیں آپ کی پوری فیملی صحت مند رہے لیکن خدانخواستہ اگر آپ ایسے ہو جاتے ہیں کہ آپ چل نہیں پا رہے‘ آپ اپنے ہاتھ سے گلاس نہیں پکڑ پا رہے ‘ آپ پورے کے پورے بیڈ پر لیٹے ہوئے ہیں کچھ نہیں کر پا رہے آپ کو کسی نرس کی ضرورت ہے کہ وہ آئے اور آپ کی مدد کرے۔ آپ تھوڑا سا سوچیں کہ جب ہم محتاج ہوتے ہیں کسی پر تو اس وقت ہماری کیا حالت ہوتی ہے ۔جب ہم آزاد ہوتے ہیں اس وقت کیا ہوتا ہے اور جب ہم غلامی کی زندگی میں ہوتے ہیں تو اس وقت کیا ہوتا ہے۔ کیا آپ میں سے کوئی شخص بتا سکتا ہے کہ ہمارے کسی بھی ہسپتال میں اسٹروک کا کوئی شعبہ ‘کوئی یونٹ ‘ کوئی سرگرمی یا کوئی کمرہ مختص کیا گیا ہے ؟کوئی نہیں ؟اسی طرح سے ہمارے عوام میں کسی کو نہیں پتا کہ اگر اسٹروک ہوتا ہے تو وہ کیوں ہوتا ہے اس کی وجہ کیا ہے اور کیا ہم اسٹروک جیسی بیماری سے بچ سکتے ہیں اور اگر پتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یار دیکھی جائے گی‘ ابھی کچھ نہیں ہوتا۔یہ ہمارا رویہ ہو گیا ہے۔ میں 20یا 22سال سے چھالیہ کے حوالے سے بول بول کر تھک گیا ہوں اب تھوڑا بہت کچھ ڈربنا یا جا رہا ہے وہ بھی گٹکے کے حوالے سے بات ہو رہی ہے لیکن چھالیہ کے بارے میں لوگوں سے میں کہتا ہوں کہ یار یہ کیوں کھاتے ہو ۔ لوگ کہتے ہیں ارے ڈاکٹر صاحب کچھ نہیں ہوتا میں تو بچپن سے کھا رہا ہوں۔ 4 سال بعد وہی شخص میرے پاس آگیا اور آکر بیٹھ کر کانپ رہا ہے۔ جب آپ کو ہلکا سا چھالہ نکلتا ہے اورڈاکٹر کہتا ہے کہ سرجری کرانی ہے تو جان نکلنے لگتی ہے۔ تو آپ پہلے سے کیوں نہیں بچاؤ کرتے۔ آپ کو پتا ہے کہ اسٹروک کن کن چیزوں سے ہوتا ہے اگر نہیں پتا ہے تو آپ معلومات کریں ۔ یہاں تو یہ ہے کہ ٹی وی پر کوئی ڈاکٹر اگر بات کر رہا ہوتا ہے تو لوگ چینل تبدیل کر دیتے ہیں۔آج کے سب سے مشہور چینل وہ ہیں جو شام 7سے رات12یا 1تک چلتے ہیں جن میں ٹاک شوزدیکھے جاتے ہیں ۔مجھے افسوس ہے ‘ جتنے بھی اینکرز بیٹھے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔ ان میں سے کوئی ایک اینکر بیٹھ کر ہیلتھ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔پاکستان میں صحت کے بے شمار مسائل ہیں آپ مجھے بتا دیں کہ کوئی اینکر ٹی وی پر بیٹھ کر کسی ہیلتھ ایشو پر بات کرتا ہو؟میں نے تو یہ کبھی نہیں سنا تھا اور نہ کبھی دیکھا کہ کسی ریڈیو یا ٹی وی پر کبھی کبھار کوئی ٹاک شو صحت کے حوالے سے نشر ہواہو۔ مجھے پتا لگا کہ پاکستان میں صرف 10اسٹروک کے اسپیشلسٹ ہیں۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ اتنا بڑا ملک ہے اس میں صرف 10 ماہرین ہیں اور نیورولوجسٹ بھی بہت کم ہیںلیکن یہ سب سسٹم کی خرابی کی وجہ سے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ سرکار کوئی کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔میں نے عدالت عظمیٰ کو ایک خط لکھا کہ یہ جو علاج کروانے ہمارے سیاست دان ملک سے باہر جاتے ہیں اس پر پابندی لگائی جائے۔خاص طور پر وہ بیماریاں جن کا علاج پاکستانی ڈاکٹر یہاں کر سکتا ہے تو آپ باہر کیوں جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ہمارے اپنے ڈاکٹرز کی بے توقیری کرتے ہیں۔ ہماری غریب عوام کو آپ نے نجی ہسپتالوں میں چھوڑا ہوا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں یہ لوگ اپنا اپنے بچوں کا یہا ں آکر علاج کرائیں گے چاہے وہ سیاسی ہوں ‘ بیوروکریٹس ہوں ، تب یہاں کی حالت زار خود بخود سدھرے گی ۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔سب سے اہم یہ ہے کہ جب آپ دیر سے سوتے ہیں تو کھانا دیر سے کھاتے ہیں تو طرز زندگی کیسے صحت مند بنے گا۔ اس کو ختم کرنے کے لیے میں نے بہت سارے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ 10بجے سب کام ختم ہو جانا چاہیے ، شادی بیاہ و دیگر تقاریب کوئی بھی 10 بجے کے بعد نہیں جاری رہ سکتیں۔وزیر اعلیٰ لوگوں کی زندگی بچائیں۔ میں نے آپ سے بھی درخواست کی ہے کیونکہ تمام تر جان و مال کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے توحکومت یہ کام کرے کہ کھانے پینے کا جو یہ نظام ہے ، شادی بیاہ میں یا کسی بھی تقریب میں وہ آپ 10 بجے کے بعد نہ کریں۔ دوسری بات یہ کہ سگریٹ یا تمباکو اور بہت ساری اس جیسی چیزیں ایسی ہیں جو فالج کی وجوہات میں سے ہیں ، سگریٹ سر سے لے کر پیر تک آپ کو بیمار کرتا ہے لیکن ایک اور چیز فیشن میں آگئی ہے شیشہ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر آپ شیشہ کیفے میں بیٹھے ہیں تو ایک گھنٹے میں آپ 200سگریٹ پیتے ہیںاس بات کسی کو پتا نہیں ہے۔مذاق میں، تفریح کے نام پر آ پ بیماریاں لے کر اپنے ساتھ زیادتی کررہے ہوتے ہیں۔ہمارے ملک میں 2002ء کا آرڈیننس ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ عوامی مقامات پر سگریٹ نہیں پی سکتے لیکن اس کا اطلاق صرف اور صرف ہوائی اڈوں پر ہمیں نظر آتا ہے۔ باقی ہر جگہ کھلے عام لوگ سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں۔اچھی صحت اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ میں عبد المالک صاحب کے ساتھ تمام لوگوں کو جو صحت عامہ کے حوالے سے جتنی بھی کوششیں کر رہے ہیں مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں ،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس مشن میں آپ کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔