ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

686

حبیب الرحمن
فی زمانہ پوری دنیا کا مزاج ایک ہی جیسا معلوم ہوتا ہے گویا یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ: ’’دیگ کے صرف ایک چاول کو پرکھ کر پوری دیگ کا حال معلوم کیا جا سکتا ہے‘‘۔ ایک فرد اور پوری دنیا کے انسانوں میں جو بات مشترکہ طور پربدرجۂ اتم پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ سارے انسان ’’مفادات‘‘ کے اسیر ہیں۔ مفادات کا غلام ہونا شاید اتنی حیران اور پریشان کن بات نہ ہو لیکن مطلب براری کے بات مڑ کر دیکھنا بھی گوارہ نہ کرنا اور آنکھیں پھیر لینا بہت تکلیف دہ عمل ہے اور اس میں بلا لحاظ مذہب و ملت، دنیا کے سارے انسان برابر کے شریک و مجرم ہیں۔
ابھی کل ہی کی بات تو ہے کہ امریکا و پاکستان ایک دوسرے کے کپڑے اتار نے میں مصروف تھے کہ اچانک دونوں میں رومانس شروع ہو گیا۔ اب پھر بے رخی کی خبریں آرہی ہیں۔ پہلے تو وہ سارے لوگ جن کو اپنی ذہانت پر بڑا ناز تھا وہ اس طرز عمل پر ششدر رہ گئے حالاں کہ انہیں اس بات پر اس قدر حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ ماضی میں ایسا ایک بار نہیں، متعدد بار ہوتا رہا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، دور ہو جاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے گلے لگ جاتے ہیں لیکن ہمارے ذہین اور فطین دانشوران اور تجزیہ نگاران نسیان کے ایسے مریض ہیں کہ کسی بات کو چند لمحوں پہلے کہنے کے بعد بھول جاتے ہیں اور اگر کوئی پوچھے کہ آپ کیا فرمارہے تھے تو چونک کر کہتے ہیں ’’کیا کہا،کیا فرما رہے تھے؟‘‘
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور امریکا کی مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ کی بدولت ایک عظیم کارنامہ انجام دیتے ہوئے ایک غیر ملکی خاندان کو دہشت گردوں سے آزاد کراکے ان کے آبائی وطن بھجوا دیا ہے۔ یہ وہ میاں بیوی ہیں جو پانچ چھ سال قبل اغوا کیے گئے تھے اور کسی کو (امریکا کے علاوہ) اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں اور کس کی قید میں ہیں۔ بلا شبہ اغوا کنند گان کو بنا کسی نقصان پہنچے اغوا کاروں کی قید سے چھڑالینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا جس کی داد امریکی صدر ٹرمپ نے بھی دی اور بہت کھل کر دی۔ یہاں جو نقطہ قابل غور ہے کہ جس وقت پاکستان اور امریکا کی سرکار اپنی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی تھیں اور لگتا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ ضرور ہو کر رہے گا ٹھیک اسی انتہائی صورت حال کے بیچ ایسا کیا ہو گیا کہ مغوی پاکستان کی سرحدوں کے اندر داخل بھی ہو گئے اور بنا خراش بازیاب بھی کرالیے گئے؟
ایک جانب پاکستان کا یہ عظیم کارنامہ اور اس پر آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ اور دوسری جانب صدر ٹرمپ کی خوشی اور اطمینان کا اظہار اور پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر بڑھانا اور دوریوں کو ختم کرنے کا عندیہ، ایک خوش کن اقدام تھا جس کو پاکستان کے تقریباً تمام حلقوں نے سراہا تو دوسری جانب اس قربت کو دنیا نے مشکوک نگاہوں سے دیکھا جس کی سب سے بڑی مثال ’’نیوز ڈسک‘‘ کی یہ رپورٹ ہے جو ۱۹؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو شائع ہوئی جس کے مطابق پاکستان کو الٹی میٹم دے دیا گیا تھا کہ: ’’پاکستان اغوا کی گئی فیملی کو بازیاب کرائے بصورت دیگر امریکا اس فیملی کو ٹھیک اسی طرح بازیاب کر لے گا جس طرح اسامہ بن لادن کو بازیاب کر لیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جو ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ میں شائع ہوئی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ امریکی سفیر ’’ڈیوڈ ہیل‘‘ کو یہ ہدف دیا گیا تھا کہ وہ پاکستانی کرتا دھر تاؤں سے بات کرے کہ مغویوں کو بازیاب کرائے۔ اس رپورٹ میں ایسا تاثر دیا گیا ہے جیسے یہ سب کچھ بندوق کی نوک پر کرایا گیا ہو اور اس میں احسان مندی کی کوئی بات ہی نہ ہو۔
اس کارروائی کو لگتا ہے وقتی طور پر تو بہت سراہا گیا لیکن مقصد براری کے بعد امریکی ’’توتا چشمی‘‘ اپنا رنگ دکھانے لگی۔ وہی امریکا جس کا صدر اس کارروائی پر ریشہ ختمی ہوا جا رہا تھا، اب اپنی مکارانہ فطرت کے مظاہرے پر جیسے اتر سا آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے بھی مدد لے سکتا ہے کیوں کہ واشنگٹن خطے میں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے۔ واشنگٹن میں امریکا بھارت فرینڈ شپ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر مسٹر ہیلی نے بھارت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو وہ سیکورٹی کونسل کے موجودہ ویٹو ڈھانچے میں دخل اندازی نہ کرے۔ نئی دہلی میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتی نژاد امریکی سیاست دان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھارت کی مدد کی ضرورت ہے جب کہ امریکا، افغان جنگ کے جلد خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کی اس طاقت ور ریاست کی جانب مدد کی نظر دیکھ رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت، افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیر نو کے لیے دی جانے والی امداد کے تناظر میں امریکا کی مدد کر سکتا ہے بلکہ بھارت پڑوسی ملک پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھی امریکا کی مدد کر سکتا ہے۔ امریکی سفیر ہیلی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے اپنی جانب سے بنیادی کام کر لیے ہیں تاہم ہمیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم انہیں (پاکستان کو) جوابدہ بنائیں جس کے لیے بھارت ہماری مدد کرنے جارہا ہے۔ امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے واضح کیا کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے جنوبی ایشیا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا اپنے تمام معاشی، سفارتی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لائے گا۔ پاک امریکا تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی سطح پر شراکت دار ہیں لیکن امریکا، پاکستان میں ایسی کوئی حکومت برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جو امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک سچی اور سیدھی سی بات سمجھ میں آکر نہیں دے رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ‘‘ (یعنی ہر وہ قوم جو دین اسلام میں داخل نہیں ہے) کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ یہ میں نہیں ہم سب کا مالک و خالق ’’ایک اللہ‘‘ کہہ رہا ہے جس کا کہا کس طرح غلط ہو سکتا ہے۔ یہاں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ دوستی اور اس کا مفہوم کچھ اور ہے اور برادرانہ، اچھے اور احسن تعلقات رکھنا کچھ اور۔ مسلمانوں کو ہر مذہب کو ماننے والوں سے تعلقات رکھنے چاہئیں اور دنیا کی ہر قوم کے مقابلے میں بہتر سے بہتر رکھنے چاہئیں کیوں کہ اس کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ اقوام عالم کو ہم متاثر کرکے ان کو دینِ اسلام کے قریب کر سکیں۔ یہ اخلاق وکردار ہی کا ثمرہ تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام پھولا اور پھلا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر مسلموں کو ہم اپنا ہمدرد اور دوست بنا بیٹھیں یا سمجھنے لگیں۔
دنیا ساری کی ساری مطلب اور مفاد کی ہوتی ہے۔ مفاد پورا ہونے کے بعد اس کا بدل جانا بعید از قیاس نہیں ہوتا۔ ایفائے عہد صرف اور صرف مسلمانوں ہی کا وتیرہ ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کیے گئے معاہدوں کی ہمیشہ پاس داری کی لیکن اس پاس داری کو ان کی کمزوری خیال کیا گیا اور عہد و پیمان کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ آج بھی اگر اسی قسم کی صورت حال ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نئی بات اگر ہے تو وہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے مسلمان بھی اس عادت بد کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے، آگے کی جانب سفر کرنا ہے تو جہاں معاہدوں کی پاس داری کرنا ہوگی وہیں دوسروں کو بھی کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر مناسب اور کرارا جواب دینا ہوگا۔ یک طرفہ امریکی و غیرملکی کارروائیوں پر چلنے کا مطلب ضعیفی ہے اور ضعیفی کے متعلق علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات