نائلہ رضوان
بہت سے والدین اس بات سے پریشان ہوجاتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہمارے کتنا قریب ہے؟ اور اکثر وہ اپنے رشتے کی مضبوطی کے لیے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے والدین کے لیے ذیل میں کچھ سوالات دیے جارہے ہیں جو آپ کو یہ ثبوت دیں گے کہ آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ کتنا مضبوط رشتہ ہے۔
٭ کیا آپ کا بچہ روزانہ آپ کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتا ہے؟
٭ جب آپ کام سے واپس گھر آتے ہیں تو آپ کا بچہ دوڑ کر آپ سے ملنے آتا ہے؟
٭ کیا آپ کا بچہ اپنی پسندیدہ چیزیں آپ کو دکھانے کی کوشش کرتا ہے؟
٭ بچہ آپ کو پورے دن کی روداد سنانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے احساسات آپ پر ظاہر کرتا ہے جب وہ کسی مشکل میں ہو یا خود کو غیرمحفوظ سمجھتا ہو تو کیا وہ آپ کی آغوش کا سہارا لیتا ہے؟
٭ کیا آپکا بچہ روزانہ آپ کے آفس فون کرتا ہے؟
٭ کیا آپ کا بچہ روزانہ آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش کرتا ہے؟
٭ جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو کیا وہ اپنی زندگی کا ہرلمحہ آپ سے شیئر کررہا ہے؟
٭ کیا بچہ آپ کی ہر بات یقین سے مان لیتا ہے؟
اوپر دیے گئے سوالات کے جوابات سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آپ اپنے بچے کو کتنا اور کس حد تک جانتے ہیں۔
بچوں کے لیے والدین کی شخصیت ایک ماڈل جیسی ہوتی ہے اور وہ تمام عمر ان سے سیکھنے کے عمل میں رہتے ہیں وہ ان کی حرکات و سکنات ان کا رہن سہن سب کچھ دیکھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی زندگی بھی اپنے والدین کی شخصیت کا عکس بن جاتی ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے جتنے کم ہوں گے ان کا رشتہ اتنا ہی گہرا اور مضبوط ہوتا جائے گا۔ ایسا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب دونوں اطراف میں ایک جیسے جذبات جنم لیں اور ان کا آپس میں زیادہ سے زیادہ رابطہ قائم ہو۔ اس رشتے کی مضبوطی کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کو ترجیحی بنیادوں پر اپنانا چاہیے۔
٭بچوں کی روزمرہ مصروفیت میں دلچسپی لیں۔
٭بچوں کی عادات بہتر بنانے کے لیے ان میں انسانیت کی اہمیت اجاگر کریں اور اچھی عادات اپنانے پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
٭ بچوں کی ہر بات دھیان سے سنیں تاکہ انہیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔
٭ اپنے بچوں کے ساتھ ایک نشست میں کم از کم 30 منٹ ضرور گزاریں جس سے آپ کے رشتے کی مضبوطی جڑی ہوئی ہے۔
٭اگر آپ کا بچہ کوئی اچھی بات یا قابل ستائش کام کرتا ہے تو اسے ضرور تعریفی کلمات سے نوازیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے بچے میں حوصلہ پیدا ہوگا اور وہ خود اعتمادی سے زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔ والدین کی حوصلہ افزائی بچے کی زندگی میں خوشیاں لانے کا موجب بنتی ہے۔
٭ اگر بچہ کوئی غلط حرکت کرتا ہے تو اسے سخت سزا دینے کے بجائے پیار سے سمجھائیں تاکہ اسے غلط اور صحیح میں تفریق کرنا آسان ہوجائے۔ علاوہ ازیں خود کوئی ایسی بات نہ کہیں جو بچے کو غلط راہ اختیار کرنے پر اکسائے۔
٭ بچوں کا کردار اور رویہ اپنے والدین کے کردار کی عکاسی کرتا ہے لہٰذا بچوں کے سامنے مہذبانہ اور نرم رویہ اختیار کریں۔
٭ بچوں پر کبھی بھی رعب نہ ڈالیں اس سے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ زبردستی کریں بلکہ ان کے موڈ کے مطابق ان کی خوشی میں شرکت کریں۔
٭ بچوں میں احساس شرکت کو فروغ دیں تاکہ و ہ زندگی میں مقابلہ بازی کا صحیح اندازہ کرسکیں اور اپنی اسکول یا کالج لائف میں مختلف مقابلوں میں شرکت کرسکیں۔
اگر آپ اپنے بچوں کی پرورش میں ان تمام باتوں کو مدنظر رکھیں گے تو بچوں کی آنے والی زندگی پرسکون ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی آپ کے اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوجائیں گے۔