سری نگر:قابض بھارتی فورسز کی محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں 

90

سری نگر، نئی دہلی(اے پی پی+صباح نیوز) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے سری نگر کے علاقے لال چوک میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق قابض فورسز نے لال چوک میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں،ان میں سوار مسافروں اور راہگیروں کی تلاشی لی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے لال چوک میں قائم ہوٹلوں کی بھی تلاشی لی جب کہ تلاشی اورآپریشن کے دوران قابض اہلکاروں نے اونچی عمارتوں پر پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں جب کہ ڈرون کیمروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عالمی ادارے کے انسانی حقوق کمیشن کی پورٹ میں پیش کی جانے والی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے فوری کارروائی کریں ۔ میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی طرف سے ایک طویل عرصے کے بعد پیش کی جانے والی رپورٹ کا خیر مقدم کر تے ہیں اور وہ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ رپورٹ میں پیش کی جانے والی سفارشات پر عملد ر آمدکے لیے فوری اقدامات کریں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ضلع پلوامہ میں ایک طلبہ سمیت 3 نوجوانوں پر کالا قانون’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘ لاگو کر دیاہے۔جن نوجوانوں پر کالا قانو ن’’ پی ایس اے‘‘ لاگو کیا گیا ان میں کریم آباد کا رہائشی 20 سالہ عامر شفیع، کھار پورہ سرنو کا رہائشی22سالہ محمد شفیع میر اور سرنو ہی سے تعلق رکھنے والا 23سالہ سہیل احمد شامل ہیں۔ان پر بھارتی فورسز پر پتھراؤ کرنے کی پاداش میں کالا قانون لاگو کیا گیا ۔ کالا قانون لاگو کیے جانے کے بعد تینوں کو گزشتہ شام جموں خطے کی کوٹ بھلوال جیل میں منتقل کیا گیا۔ محمد شفیع میر اور عامر شفیع کوایک ماہ جبکہ سہیل احمد کو 2 ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ تینوں نوجوانوں کے اہلخانہ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بیٹوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے لہٰذا انہیں فوری رہا کیا جائے۔ادھرنئی دہلی کی ایک عدالت نے غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری نوجوان محمد اسلم وانی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کے احکامات دے دیے ہیں۔اسلم وانی کو بھارتی تحقیقاتی ادارے اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 6 اگست2007ء کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتارکیا تھا ۔اسلم وانی 2005ء سے 2010ء تک جھوٹے مقدمے میں بھی 5 برس جیل میں گزار چکا ہے۔ یاد رہے کہ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کو بھی ایک پرانے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر رکھا ہے اور وہ اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں، انہیں 2017ء میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ ان کیخلاف تاحال کچھ بھی ثابت نہ کر سکا ۔