سری نگر‘جماعت اسلامی پر پابندی،گرفتاری کیخلاف احتجاجی مارچ

272

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں جماعت اسلامی پر پابندی اور ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مارچ کیا گیا‘ قابض فوج کے مظالم پر شوپیاں میں مکمل ہڑتال کی گئی‘ میر واعظ عمر فاروق کو پوچھ گچھ کے لیے نئی دہلی طلب کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کوکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں ، کارکنوں اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نےجموں و کشمیر کے اسٹیٹ سبجیکٹ کے قانون35۔ اے کے ساتھ چھیڑٍچھاڑ، جماعت اسلامی پر پابندی، محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں اور بھارتی تحقیقاتی ادارے ’این آئی اے‘ کے چھاپوں کے خلاف سری نگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک زبردست مظاہرہ کیا۔ حریت رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت مقبوضہ علاقے میں بری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہے‘ فلاحی اور دینی اداروں پر شکنجہ کسنے سے بھارتی حکمران اپنے لیے صرف نفرت کے بیچ بو رہے ہیں۔ دریں اثنا بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے حریت فورم کے چےئرمین میر واعظ عمر فاروق کو ایک جھوٹے کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے پیر کو نئی دلی طلب کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق این آئی اے نے اسی روز کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سیدعلی گیلانی کے بیٹے ڈاکٹر نسیم گیلانی کو بھی طلب کیا ہے۔ دریں اثنا جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر نظربند پارٹی چےئرمین محمد یاسین ملک کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ۔ بیان میں خبردارکیا گیا ہے کہ اگر انہیں کوئی گزند پہنچی تواس کی تمام تر ذمے داری قابض انتظامیہ پر عاید ہوگی۔ بھارتی فوجیوں کے مظا لم کے خلاف ہفتے کو ضلع شوپیاں کے علاقے کیلر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔