کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری)رضاکار کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں قوموں کی ترقی رضاکاروں کی مرہون منت ہوتی ہے جس میں وہ بغیرکسی مالی فائدے کے ملک وقوم کی ترقی کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، معاشرے میں انسانیت کی خدمت کے جذبہ کو فروغ دینا ضروری ہے، کم مراعات یافتہ طبقے کی خواتین کو ہنر مند بنا کر اپنے پیر وں پر کھڑا کرنا ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کا قابل تحسین اقدام ہے،
معاشرے کے دوسرے شعبوں کو بھی اس مشن میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے آنا چاہیے،ان خیالات کا اظہار خواتین رہنماؤں نے ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کے زیراہتمام رضا کاروں کے عالمی دن کی مناسبت سے کراچی پریس کلب میں ”تخفیف غربت کے لیے رضاکارانہ جدوجہد کی اہمیت“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینا ر سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سیمینا ر سے ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی بورڈ ممبرسماجی کارکن و سینئر صحافی حمیرہ قریسی،ریحانہ افروز،نزہت شیر یں، پروفیسر شاہدہ قاضی،سینئر جرنلسٹس شہر بانو، جامعہ کراچی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر معروف بن راوف،ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ پروجیکٹ پر کام کرنے والی خواتین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین بڑی تعداد میں شریک تھیں،
ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر شاہدہ قاضی نے کہاکہ آج کا دن اس اعتبار سے یادگار ہے کہ ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ نے تخفیف غربت پروگرام کے سلسلے میں ماڈل پروگرام پیش کیا ہے۔ انہوں نے خواتین کے حوالے سے ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کے ایڈوکیسی، ٹریننگ اور فراہمی روزگار پروجیکٹ کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ضرورتمند خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے معاشرے اور خاندان کے لیے مفید بنانے کے کام کو جاری رکھا جائے گا،
سینئر صحافی شہر بانو نے خواتین اور غربت کے عنوان پر اپنے خطاب میں خواتین کے نامساعد معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ خواتین خاندان اور معاشرے کی اہم اکائی ہیں جو معاشی کسمپرسی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ کم تعلیم یافتہ اور ناخواندہ خواتین کو ان کو ہنر کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب لے جانا انتہائی اہم کام ہے جس میں معاشرے کے ہر طبقے کو کردار ادا کرنا چاہیے،
پروفیسر ڈاکٹر معروف بن رؤف نے تخفیف غربت کے عمل میں معاشرے کے ہر طبقے کی رضاکارانہ شمولیت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سب بڑی رضا کار ایک ماں ہوتی ہیں، رضاکارکسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو بلامعاوضہ بغیر کسی لالچ اور طمع کے معاشرے کی تعمیروترقی میں اپنا کردار اداکرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہرسال دنیامیں رضاکاروں کوخراج تحسین پیش کرنے کے لیے یہ دن منایاجاتاہے‘ آج کے دن کومنانے کامقصد قوموں کی معاشی اوراجتماعی ترقی ہے،معاشرے میں رضاکارانہ جذبہ ابھارنے کی ضرورت ہے، اپنی ذاتی مصروفیات اور لسانیت سے بالا تر ہو کر بلا تخصیص انسانیت کی خدمت کرنے والے لوگ معاشرے کا بہترین سرمایہ ہیں،معاشرے میں انسانیت کی خدمت کے جذبہ کو فروغ دینا ضروری ہے،
سیمینا ر سے خطاب کرتے ہوئے حمیرہ قریشی نے کہا کہ ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کا مقصدغربت کے خاتمے کے لیے امدادی پروگرام کے بجائے فراہمی روزگار کے ادارے قائم کیے جائیں۔ فلاحی تنظیموں کو ضرورت مندوں میں خیرات بانٹ کر مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بجائے ایسے منصوبوں کا آغاز کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں محنت کی کمائی کھانے والوں کا عزم رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے، انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے تحت شہر و دیہات کی ضرورتمند ہنرمند خواتین کو ان کی دہلیز پر روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔
ٹرسٹ کی رضاکارانہ خواتین دیہاتوں اور مضافاتی بستیوں میں پسماندہ خواتین کو اپنی محنت کی کمائی کے ذریعے اپنی ضروریات پورا کرنے پر آمادہ کرکے ان کو ہنر سکھاتی ہیں۔ انہوں
نے کہاکہ اس پروجیکٹ کے ذریعے ہم دیہی خواتین کو محض روزگار فراہم نہیں کرتے بلکہ مجموعی طور پر ان کے طرز زندگی میں بہتری کے خواہاں ہیں،اس لیے ہماری ٹیم انہیں صحت و صفائی، بچوں کی تربیت، دیکھ بحال، عورت کے حقوق و فرائض، بہتر اخلاق اور دیگر معاشرتی مسائل پر رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس موقع پر پروجیکٹ کی مصنوعات کو بھی پیش کیا گیا۔آخر میں رضا کاروں کے عالمی دن کے موقع پر ٹرسٹ کی جانب سے کام کرنے والی خواتین اور مہمانان کو تقریب کی یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔