کراچی(اسٹاف رپورٹر)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر جاوید انور نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ قوانین کے خاتمہ کے لئے علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا ء کے پرامن احتجاج پر پولیس اورریپڈ فورس کا تشدد ظلم کی انتہا ہے،
قانون نافذ کرنے والوں نے ہنگامی مدد فراہم کرنے والوں پر حملہ کیاجس سے پی ایچ ڈی کے طالب علم کا ہاتھ ضائع ہوگیا۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو بھارت کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء سے اظہا ر یکجہتی کے حوالے سے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،
انہوں نے کہا کہ یوپی پولیس اور ریپڈ فورس نے دسمبر کے وسط میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (بھارت)پرحملہ کیا ہے۔ حقائق جاننے کے لئے صحافیوں،قانون دانوں،ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سابق آئی اے ایس ہرش مندر کے زیر قیادت یونیورسٹی کادورہ کیا اور اپنی رپورٹ میں طلبا ء کی جانب سے احتجاج کو پرامن قرار دیا ہے،
انہوں نے کہا کہ پولیس اور ریپڈ فورس نے طلبا ء پر لاٹھی چارج آنسوں گیس اور ربڑ کی گولیوں کابھی استعمال کیا جو کہ شدید فرقہ ورانہ منافرت کی مثال ہے۔ پولیس نے نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد کے القاب سے نواز اور زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے جس سے ایسا لگا کہ جیسے کوئی یونیورسٹی میں منظم قتل عام کروانا چاہتا ہے،انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں۔بعد ازیں بھارت کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء سے اظہا ر یکجہتی اور شہریت کے متنازع بل کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا، مظاہرین نے نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی،
احتجاج کرنے والے مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرزاور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء پر ریاستی تشدد، شہریت ترمیمی بل کی شدید مذمت کرتے ہیں،بھارتی شہریت کا نیا قانون نامنظور، مسلمانوں کے خلاف متنازع بل واپس لینے کے حق میں نعرے درج تھے۔