نواز مود? ملاقات موجود? حالات ?? تناظر م?? ا?م ??، ل?اقت بلوچ

264

قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ نواز مودی ملاقات موجودہ حالات کے تناظر میں اہم ہے۔ لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور ملاقات اور مذاکرات اپنے ایجنڈے پر ہی رکھنا چاہتا ہے۔

قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اسلام آباد میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری،ایران کے سفیراور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی اورجماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ ملاقات میں تبادلہ خیال کیا۔ لیاقت بلوچ کا ملاقات میں کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات سے پہلے اور ملاقات کے موقع پر واضح اوردو ٹوک موقف سے گریز کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ موقع تھا کہ بھارتی جارجیت ،پاکستان میں دہشتگردی میں بھارتی کردار،مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے نریندر مودی سے صاف بات کی جاتی۔

قائم مقام امیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تو کشمیری رہنماﺅں کا افطار ڈنر منسوخ کر دیا لیکن بھارت کشمیر پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی نریندر مودی بھارتی جارحانہ حکمت عملی کو ختم کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ ،پاک چائنہ اکنامک کاریڈور کی طرح بھار ت سے تعلقات ،مذاکرات اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے قومی اتفاق رائے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ وزیراعظم نواز شریف تنہا بھارتی جھوٹی نمائشی سفارتکاری کے جال میں نہ پھنسیں یہ وقت پاکستان کے مضبوط موقف کے اظہار کا ہے۔

لیاقت بلوچ نے بزرگ سیاست دان، آزادجموں کشمیرحکومت کے سابق صدر ،وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان کے انتقال پر سردار عتیق احمد خان اور ان کے خاندان کے افراد سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ مرحوم محب دین،محب وطن رہنما تھے، انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے مسلسل جدوجہد کی جبکہ قومی سیاست میں اپنی متحرک شخصیت سے اہم مقام پایا۔ کشمیر بنے گا پاکستان، ان کا نعرہ تھا انشااللہ یہ ضرور حقیقت بنے گا۔ کشمیریوں کی آزادی ،حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے حصول کے لئے لازوال قربانیا ں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے پاکستان کے شنگھائی تنظیم کا رکن بننے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر کردار کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے اند ر معاشی دہشت گردی ،کرپشن ،اقرباپروری ،قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا راستہ اختیا ر کیا جائے ۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور دنیا بھر سے امداد کے لیے کشکول پھیلائے رکھنا ناکام اقتصادی حکمت عملی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ قومی مسائل اور پوری قوم کی صلاحیتوں پر اعتماد کرکے خود انحصاری پر مبنی حکمت عملی بنائی جائے اس کام کے لیے حکمران طبقہ کو اپنا کلچر اور کرپٹ رویے تبدیل کرنا ہوں گے۔