بوسنیا میں سربین افواج کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کو 20 سال مکمل ہوگئے جس کی یاد میں بلغراد میں مقامی افراد کی جانب سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
بوسنیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریب میں سربیا کےوزیراعظم نے شرکت کی جس پر مقامی افراد نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے سربیا کے وزیر اعظم پر بوتلیں پھینکی اور پتھراؤ کیا۔ پتھراؤ کے نتیجے میں وزیر اعظم کا چشمہ ٹوٹ گیا تاہم زخمی ہونے سے بال بال بچ گئے۔
سربین وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پر پتھراؤ قاتلانہ حملہ ہے جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔