لاہور( نمائندہ جسارت) سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اکیڈمی کے زیر اہتمام مولانا مودودیؒ کی رہائش گاہ پر بیاد مودودی پروگرام منعقد کیا گیا جس سے معروف دینی اسکالر احمد جاوید نے مولانا مودودیؒ کی دینی اور ملی خدمات پر لیکچر دیا ۔اس موقع پر سیکرٹر ی جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ احمد جاوید نے اپنے لیکچر میں مولانا مودودی کو زبردست خرا ج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مودودی علمی لحاظ سے کثیر ا لجہت شخصیت تھے۔امت مسلمہ جن مسائل اور نقصانات میں گھری اور نقصات سے دوچارہے مولانا مودودی کی کتب ان سے نکلنے کے لیے رہنمائی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2،3 صدیوں میں اسلام پر جو کتابیں لکھی گئیں ان میں سب سے زیادہ جامعیت مولانا مودودی کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔انہیں پڑھنے والا ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ مولانا نے منظم انداز میں اسلام کو غالب کرنے کی جدوجہد کی۔اس دور کے معاصرین میں ان کی شخصیت پر تاثیر ہے اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک ان میں یہ تاثیر نظرآتی ہے۔مسلمانوں کے ذہنوں کو جن اقدار کی ضرورت تھی وہ مولانا مودودی کے لٹریچر نے فراہم کی ۔ اسلامی تحریکات اور اعلاے کلمتہ اللہ کے لیے جدوجہدکرنے والی تحریکوں میں یہ بات مشتر ک ہے کہ انہوں نے مولانا موددی کی قیادت پر اجماع کیا۔
مولانا مودودی نے دین کا گمشدہ مرکز بحال کیا۔انہوں نے ایک جماعت بنائی لیکن ان کی شخصیت کہیں بہت بڑی ہے۔انہوں نے رسولؐ کے لائے ہوئے دین کو خانقاہوں سے نکال کرعملی زندگی میں نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔جماعت اسلامی پاکستا ن کے سیکرٹری جنر ل لیاقت بلوچ نے اپنے مختصر خطاب میں مولانا مودودی کی خدمات کو سراہا اور مولانا مودودی اکیڈمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی مولانا مودودی کے کام کو بڑھانے کے لیے بہترین کام کررہی ہے۔ اکیڈمی مولانا کی لائبریر ی اور میو زیم کی دیکھ بھال کررہی ہے جو مولا نا مودودی کی فکر اور تحقیق کو آگے بڑھانے اور افراد کو تیار کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام صدمے میں ہے۔ مصرمیں اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام مہدی عاکف جیل میں 89سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔انہوں نے کہا کہ مصر ایک مسلمان ملک ہے اس میں اخوان المسلمون کو ظالمانہ طریقے سے اقتدار سے بے دخل کرکے ایک فوجی حکمران نے اخوان کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہدی عاکف نے ایک تہائی حصہ 28سال جیل میں گزارا ہے۔مہدی عاکف مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے بڑے گرویدہ تھے۔