مظہر اقبال
حیا ہمارا جز و ایمان ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلوں کے مالکان کو یہ چھو کر نہیں گزری۔ میٹرک انٹر تک جو بچی اذان کی آواز سن کر اپنے دوپٹے ٹھیک کرتی ہے میڈیا میں آنے کے بعد وہ آنچل کی عفت وعصمت بھول جاتی۔ دراصل یہ میڈیا کا ماحول ہے جو اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے ہمارے بزرگوں نے تو یہ ملک اس لیے بنایا کہ نئی نسلیں صراطِ مستقیم پر چلیں مگر میڈ یا والوں نے انہیں کیٹ واک کے راستے پر چلا دیا۔ ہمارا ایمان اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ چینلز والے ہمارے بچوں کی معصو میت چھین لیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ٹی وی کے ایک پروگرام میں مرحوم پر وفیسر غفور احمد صاحب مدعو تھے۔ اسی پروگرام میں ایک فیشن ڈیزائنر کو بھی بلایا گیا تھا۔ جب فیشن ڈیزائنر نے کچھ قابل اعتراض لباس دکھائے تو مرحوم پروفیسر غفور احمد نے اسی وقت بلا جھجھک یہ کہا: ’’محترم یہ لباس ہماری روایات کے مطابق نہیں۔ آپ ایسے لباس ڈیزائن کریں جو ہماری اسلامی روایات سے میل کھائیں‘‘۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ مغرب زدہ لوگ چینلوں پر بے حیائی کا پر چار کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ٹی وی چینل پاکستانیوں سے اربوں روپے کما چکے ہیں مگر ان کے ڈراموں سے لفظ پاکستان غائب ہے۔ ہمارے فوجی سرحدوں پر جام شہادت نوش کر رہے ہیں مگر ٹی وی والوں کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان شہیدوں کی کہانیاں دکھا سکیں۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ پمرا کے خوف سے وہ ان شہیدوں کی تدفین دکھا دیتے ہیں۔ ایک ٹی وی پروڈیوسر نے بتایا کہ ہمیں اس شرط پر چینل والے ڈرامے کی منظوری دیتے ہیں کہ ہم اس میں زیادہ سے زیادہ عورتوں کو روتا ہوا دکھائیں گے۔ یعنی ہر دوسرے منظر میں عورت غم سے نڈھال ہے۔ عورتوں کی چیخ و پکار اور سسکیاں سنائی جاتی ہیں۔ اگر ہماری خواتین کا یہ حال ہے تو پارکوں، بازاروں اور بیوٹی پارلروں پہ کیا مریخ سے کوئی مخلوق آتی ہے۔ الحمدللہ ہمارا ایک ہنستا بستا معاشرہ ہے۔ کچھ مسائل ہیں اور وہ بھی نالائق سیاست دانوں کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے چینلز والے ڈرامے نئی نسل کو دین کی روشنی میں نہیں دکھا سکے۔
جناب مسئلہ صرف یہیں تک نہیں۔ معاشرے میں رشوت اور چور بازاری ہو رہی ہے مگر چینلز والے ساس بہو کے جھگڑے دکھا رہے ہیں۔ ایک کمرے میں میاں کو بٹھا دیا جاتا ہے۔ تو دوسرے کمرے میں نند کو اور صحن میں ساس بہو جھگڑا کرتی نظر آتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے سرکاری افسران رشوت خوری میں ملوث ہیں لیکن ڈراموں میں آپ کو صرف رومانس نظر آئے گا۔ دراصل یہ اس گرہستن کو بیوقوف بنا رہے ہیں جسے اپنی اولاد کی آبیاری کرنی ہوتی ہے۔
یہاں پر میں برادر اسلامی ملک ترکی کا مزید ذکر کروں گا۔ وہ بچوں کے کارٹون پروگرام میں بھی آداب اور لحاظ کو ملحوظ خا طر رکھتے ہیں۔ آپ اس خبر پر ضرور حیران ہوں گے کہ ہمارے چینلوں نے بچوں کے پروگرام بنانے بند کر دیے ہیں۔ صرف غیر ملکی کارٹون بغیر سنسر کے چلائے جا رہے ہیں۔ بچوں کو ’’بھیم‘‘ کے ہندو کردار دکھائے جاتے ہیں۔ چینلوں والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ان پر بہت بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ بامقصد پروگرام پیش کرکے عوام کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔
آج کل Ready-Made مصنف آگئے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے تو فوراً اس کی ڈرامائی تشکیل شروع ہو جاتی ہے اور پھر اس ڈرامے کو اتنا لمبا کھینچا جاتا ہے جب تک کہ کمپنیاں اشتہار دینا بند نہ کر دیں۔ ایک گاؤں کی لڑکی ماڈل بنتی ہے اور پھر قتل ہو جاتی ہے ہمارے چینلز اس سارے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ایک چینل تو اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے اس نے تو ماڈل پر قسط وار ڈراما بھی بنا ڈالا۔ کیا انہیں عافیہ صدیقی کی کہانی یاد نہیں آئی۔ اس پر تو کسی چینل نے ڈراما بنانے کی کوشش نہیں کی۔ ایک زمانہ تھا جب PTV کے لیے ڈراما لکھا جاتا تھا تو اس کا پورا پلاٹ منظوری کے لیے جاتا تھا اور نامی گرامی اسکالر اس کا جائزہ لیتے تھے۔ اب یہی کام O-Level کرنے والی ایک بچی کو دے دیا جاتا ہے۔ اور O-Level والی مخلوق اردو کو بھی رومن میں لکھتی ہے۔ میں اور آپ یہ امیدیں باندھے بیٹھے ہیں کہ ہمارے عائلی اور معاشرتی مسائل کو انبیاء اور صحا بہ کرام کی زندگیوں کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد ہوش کے ناخن لیں۔ اگر ان چینلوں کو پٹا نہ ڈالا گیا تو یقین کیجیے ہمارے اور بھارتی معاشرے میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔