ذمے داران مساجدسے چند گزارشات 

321

مولانا مجیب الرحمن

آپؐ نے فرمایا: ’’اگر کسی شخص کی مسجد میں آمد ورفت رہتی ہے تو تم اس کے ایمان کی گواہی دو۔‘‘ صرف آمدورفت پر ایمانی شہادت کی تعلیم دی گئی ہے، اس سے آگے بڑھ کر اگر کوئی مسجد کی خدمت میں مصروف رہتا ہو تو اس کے کیا فضائل ومناقب ہونگے؟ کسی کو مسجد کی خدمت نصیب ہوجائے تو یہ ایک بڑی نعمت ہے ، اس پر جس قدر شکر گزاری کی جائے کم ہے مشرکینِ مکہ بھی مسجدِ حرام کی تعمیر اور اس کی دیکھ بھال کو اپنے لیے قابلِ فخر تصور کرتے تھے ، اور جابجا اس کا اظہار بھی کرتے تھے؛ لیکن قرآنِ کریم نے اس کا رد کیا کہ بغیر ایمان کے صرف تعمیرِمسجد انسانی نجات کے لیے کافی نہیں، آج ذمہ دارانِ مساجد مساجد کی دیکھ بھال میں مساجد کی نگرانی سے متعلقہ امور کی انجام دہی میں تندہی کا مظاہرہ تو کرتے ہیں؛ لیکن ساتھ ہی کچھ نقائص وخامیاں بھی ہیں جن کی نشاندہی مقصود ہے جن کے ازالے سے یہ خدمت مزید سرخروئی کا باعث ہوگی۔
امام کا احترام
افضل شخص ہی کو امام بنایا جاتا ہے، کم از کم قرأتِ قرآن و علم کے اعتبار سے افضل ہو، امامتِ کبریٰ کے لیے بھی علیؓ نے امامتِ صغریٰ ہی کو دلیل بنایا تھا، شریعتِ مطہرہ میں بھی امام کے کچھ اوصاف بیان کیے گئے ہیں کہ متقی ہو، صاحبِ ورع ہو وغیرہ وغیرہ، جب ہم نے اس شخص کو نماز جیسی مہتم بالشان عبادت کے لیے امام تسلیم کر لیا تو پھر اس کے خلاف رکیک جملے، اس کے روبرو طنزیہ کلمات، اس کی غیبت کیا معنیٰ رکھتی ہے؟
مساجد کا جائزہ لینے سے بکثرت مشاہدہ ہوتا ہے کہ ائمۂ کرام کی ناقدری ایک عام وبا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے، ایک شخص کو امام بھی بنایا جارہاہے اور اس کی ناقدری بھی ہو رہی، امام کی عزت وعظمت ایک ذمے دارِ مسجد کا وطیرہ ہونا چاہیے؛ تاکہ ذمے دار سے اور لوگ بھی سبق سیکھیں، اگر کوئی امام مسجد کے جائز اصولوں کے مطابق خدمت کے لیے آمادہ نہ ہو تو شرافت کے ساتھ اسے علاحدہ کر دیا جائے، اب تو بالعموم ائمۂ کرام حافظ وعالم ہوتے ہیں، ان کے ساتھ نازیبا رویہ تو انتہائی مہلک ہے، صحابہ کرامؓ تو ان افراد کی خدمت میں مصروف ہوتے جو قرآنِ کریم کی تلاوت یا نماز میں مشغول ہوتے۔
امام ابوداؤد نے اپنے مراسیل میں نقل کیا ہے کہ کچھ صحابہ کرامؓ ایک شخص کی بڑی تعریف کررہے تھے، اور یہ کہنے لگے کہ ہم نے ان جیسا آدمی نہیں دیکھا، جب سفر میں ہوتے تو قرأتِ قرآن میں مصروف ہیں، اور جب سواری سے اترتے ہیں، نماز میں مصروف ہیں، تو ان صحابہ کرامؓ سے کہا گیا کہ اس شخص کا سامان کون اٹھائے گا؟ اس کے جانور کون چرائے گا؟ تو صحابہ کرام نے فرمایا ہم کریں گے، آپؐ نے فرمایا تم سب خیر پر ہو۔ (حیاۃالصحابہ)
بعض دفعہ ابتدا امام کی آمد کے ساتھ اعزاز و اکرام کا معاملہ ہوتا ہے؛ لیکن رفتہ رفتہ امام کی خامیوں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے، امام کی غلطیو ں پر نکتہ چینی کی جاتی ہے، مستحبات کے ترک پر نکیر کی جاتی ہے؛ حالانکہ یہ نکیر درست نہیں، اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا: لا تَجَسَّسْوا (الحجرات) کسی کی ٹوہ میں مت پڑے رہو، کسی کے عیوب پر مطلع ہونے کی کوشش مت کرو۔ ذمہ دارانِ مسجد یہ بات ذہن میں رکھیں کہ امام بھی انسان ہی ہے، کوئی معصوم فرشتہ نہیں کہ ان کی غلطیوں کو نظر انداز کریں
مؤذن کے ساتھ رویہ
حدیث پاک میں آتا ہے، آپؐ نے فرمایا کہ روزِ محشر لوگوں میں گردن کے اعتبار سے لمبے مؤذن حضرات ہوں گے، ایک اور حدیث میں فضیلت والی چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ اگر پہلی صف اور اذان دینے کی فضیلت کا علم ہوجائے تو آپس میں قرعہ اندازی کی نوبت آجائیگی۔ ایک جانب مؤذن کی یہ فضیلت ہے، دوسری جانب ذمے داروں کا رویہ ہے کہ وہ مؤذنین کے ساتھ آبائی وخاندانی ملازمین کا سا برتاؤ کرتے ہیں، انھیں تنخواہ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمارے زر خرید غلام ہیں، اگر اسلامی حکومت ہوتی تو بیت المال ان کا کفیل ہوتا، اب چوں کہ بیت المال کا وجود نہیں؛ اس لیے عوام ان کی تنخواہوں کے ذ مے دار ہیں، اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مؤذن اور امام دونوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں، ان کے ساتھ حسنِ اخلاق کا معاملہ کریں، غیر اخلاقی رویے سے کلی اجتناب کریں۔ کئی مؤذنین اپنے ذمے داروں کے رویہ سے نالاں رہتے ہیں، بعض دفعہ ذمے د اروں کے ہراساں کرنے سے مؤذنین اس عظیم خدمت سے دستبردار ہوجاتے ہیں، ذمے دار مؤذنین کی معاش کی بنا پر انھیں تنگ نہ کریں۔
مساجد کی جائیداد واموال کا تحفظ
بہت سے لوگوں نے اپنی جائدادیں مسجد کے لیے وقف کی ہیں، اب ان اوقافی جائدادوں کا تحفظ اربابِ انتظام کے سپرد ہے، کئی مقامات پر مساجد کی جائیداد پر خود ذمے دار ہی قابض ہیں، اور کرایہ بڑھانے کے لیے تیار نہیں، عرف کے خلاف سب سے سستے کرایہ میں خود رہ رہے ہیں، اور اگر ابتداءً معاہدہ نہیں ہوا ہے، اس کے باوجود قانونی جھول وکمزوری کا سہارا لے کر کرایے میں اضافہ نہیں کر رہے ہیں، یہ اپنی قوت اور عہدے کا ناجائز استعمال ہے، کئی مقامات پر مسجد کا مال کہہ کر بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، کوئی پْرسانِ حال نہیں، آج مساجد کے نام پر عطیہ دینے والوں کی کمی نہیں، لیکن صحیح اور معتمد افراد کی قلت ہے، جس کی بنا پر لوگ دینے سے کتراتے ہیں؛ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ متولی حضرات مساجد کے اموال کی صحیح نگرانی کریں، صحیح مقام پر کفایت شعاری کے ساتھ خرچ بھی کرنے کا اہتمام کریں۔