بلاشبہ حرمین شریفین کی تعمیر و توسیع اور انتظام و انصرام اور حجاج و معتمرین کرام کے لیے سہولتوں کی فراہمی میں حکومت سعودی عرب اور خادم حرمین شریفین کی قابل تعریف ، قابل قدر خدمات ہیں جنہیں دنیا بھر میں انتہائی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر سے بالعموم اور پاکستان سے بالخصوص ہر سال حج و عمرے کی سعادت حاصل کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ حجام کرام کی تعداد تو مقرر ہے ، تاہم عمرہ ویزا حاصل کرنے والے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان سے ساڑھے پندرہ لاکھ فرزندان توحید نے عمرہ کی سعادت حاصل کی اور اس سال توقع ہے کہ یہ تعداد 18 لاکھ کے قریب ہوگی ،تاہم حال ہی میں عمرہ ویزا حاصل کرنے کے لیے بائیومیٹرک کی ایک انتہائی ناقابل عمل پابندی کا نفاذ کیا گیاہے نہ تو اس پابندی کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کا کسی بھی سطح پر جائزہ لیا جارہاہے ۔ ایک دو ہفتہ پہلے بتایا گیا ہے کہ عمرہ ویزا کو فنگر پرٹنس کے ساتھ مشروط کیا جارہاہے اور پابند کیا گیاہے کہ ہر ویزا حاصل کرنے والا ’’اعتماد‘‘ کمپنی کے دفاتر میں آ کر فنگر پرنٹس دے گا ۔ پورے ملک میں ’’اعتماد ‘‘کے دفاتر صرف لاہور، کراچی ، اسلام آباد ، کوئٹہ اور پشاور میں ہیں ۔ ہزاروں نہیں لاکھوں عازمین عمرہ کو ان دفاتر میں پہنچنا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان ، رحیم یارخان ، راجن پور سے لاہور میں ، دیر چترال سے پشاور میں ، تربت و گوادر سے کوئٹہ اور اسی طرح دور دراز مقامات سے ہزاروں روپے خرچ کر کے خواتین سمیت ان دفاتر میں پہنچنا اور ان لاکھوں افراد کا فنگر پرنٹس دینا انتہائی مشکل ہی نہیں قطعی ناممکن ہے ۔ چنانچہ دو تین روز میں اعتماد کے دفاتر پر ہزاروں افراد کی یلغار، دروازے ، کھڑکیاں توڑنے اور دھکم پیل میں زخمی ہونے کے مناظر اب پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر عام دیکھے جاسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومت سعودی عرب کی یہ کوئی انتہائی لازمی شرط ہوتی تو پھر باقی ممالک پر بھی اس کا نفاذ ہوتا تاہم ہماری معلومات کے مطابق اس کا نفاذ صرف پاکستان میں ہی کیا گیاہے ۔ اسی طرح سعودی حکومت جدہ و مدینہ منورہ ائر پورٹس پر فنگرز پرنٹس حاصل کرتی ہے ۔ نیز مشین ریڈایبل پاسپورٹس پر ان کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔ اسی طرح ناگزیر ہو تو نادرا ڈیٹابیس سے انہیں لیا جاسکتا ہے اس سلسلہ میں حکومت پاکستان اور وزارت مذہبی امور کی عدم توجہی بھی مجرمانہ ہی نہیں ، مشکوک بھی ہے ۔ اس سلسلہ کے دور تین پہلو قابل ذکر ہیں :۔
*۔’’اعتماد ‘‘فی پاسپورٹ پانچ سو روپے فیس لے گا ۔ بحیثیت مجموعی اعتماد کمپنی 70 کروڑ روپے کی فیس جمع کرے گی ۔ (اعتماد مراکز میں آمد و رفت پر زائرین کے ذاتی اخراجات کروڑوں میں نہیں ،اربوں میں ہوں گے )
*۔ اعتماد کمپنی خود ٹریولنگ ایجنسی چلا رہی ہے اس کے دفاتر ان کے دفاتر ہی میں ہیں ۔
*۔اعتماد کا بائیو میٹرک سسٹم نہ تو سعودی ایمبیسی سے منسلک ہے اور نہ ہی سعودی وزارت خارجہ سے ۔
*۔اعتماد اصلاً ایک انڈین فرم ہے اور اس کی ٹیکنالوجی انڈیا کے مین ڈیٹا سرور سے منسلک ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر انڈیا کو پاکستانیوں کی معلومات مع فنگر پرنٹس منتقل ہونا پاکستان کی سیکورٹی کے لیے شدید خطر ہ ہے ۔
*۔ چوں کہ حکومت سعودی عرب حرمین شریفین اور حجاج و معتمرین کرام کے لیے خدمات و سہولتوں کا ایک شاندار ماضی اور بہترین ریکارڈ رکھتی ہے اس لیے ہم بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ خادم حرمین شریفین اور عزت مآب ولی عہد اور سعودی وزارت حج اس گمبھیر صورت حال سے پوری طرح آگاہ نہیں ۔
*۔چوں کہ اہل پاکستان کے دل حرمین شریفین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ خادم حرمین شریفین کی خدمات کو قدر و منزلت اور عقیدت کی نگاہوں سے دیکھاہے اس لیے محسوس ہوتاہے کہ عین عمرہ سیزن کے آغاز میں ایسی ناقابل عمل پابندی عائد کر کے اہل پاکستان کے دلوں میں حکومت سعودی عرب کے بارے میں منفی خیالات پیدا کرنے کی کسی طر ف سے سازش ہوئی ہے یہ سازش کس نے کی؟ یہ معلوم کرنا خود سعودی عرب کی وزارت حج کا کام ہے تاہم ہماری گزارش ہے کہ اس پابندی کا فوری خاتمہ کیا جائے اور اگر ناگزیر ہو تو ماضی کی طرح جدہ و مدینہ منورہ ائر پورٹس یا پھر روانگی کے وقت پاکستانی ائر پورٹس پر ان کا اہتمام کیا جاسکتاہے اور اس مقصد کے لیے زائرین کو معمول سے دو تین گھنٹے قبل بلایا جاسکتاہے یا پھر نادرا کے ذریعے یہ کام ہوسکتاہے جس کے ملک بھر میں دفاتر ہیں۔ اسی طرح حکومت پاکستان ، وزارت مذہبی امور ، وزارت خارجہ ، وزارت داخلہ کو بھی اس صورتحال کی اصلاح میں فوری کردار ادا کرناچاہیے ۔