محمد سمیع
ہمارے کارٹونسٹ بعض اوقات غضب کا کارٹون بناتے ہیں جو ذہن سے جاکر اس طرح چپک جاتے ہیں کہ نکلتے ہی نہیں خواہ آپ اسے لاکھ بھولنے کی کوشش کریں۔ کافی عرصے پہلے میں نے ایک کارٹون دیکھا تھا جسے میں اب تک نہیں بھولا۔ اس میں آسمان پر علامہ اقبال کی وہ مشہور تصویر پیش کی گئی تھی جس میں وہ اپنے رخسار پر ہاتھ رکھ کر غور وفکر میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ظالم کارٹونسٹ نے اسی تصویر کی بھرمار اپنے اس کارٹون میں زمین پر کردی تھی۔ میں اس کارٹون میں یہ پیغام مضمر سمجھا تھا کہ جس طرح آسمان پر علامہ اقبال فکر مند نظر آرہے ہیں اسی طرح پاکستان کے سارے اقبال یعنی عوام زمین میں فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ آسمان پر کا تو پتا نہیں کہ وہاں علامہ اقبال پاکستان کے بارے میں اپنی موت کے بعد فکرمند ہیں یا نہیں البتہ زمین پر تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر درد مند پاکستانی پاکستان کے استحکام اور اس کی سالمیت کے بارے میں فکرمند ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ مذکورہ کارٹون کو پاناما لیکس کے ہنگاموں میں دیکھیں تو واقعی آج کل عوام کا وہی حال ہے جو اس کارٹون میں دکھایا گیا تھا۔
علامہ اقبال کو لوگ ویژنری کہتے ہیں اور یقیناًجب ہم ان کا یہ قول پڑھتے ہیں کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک اسلامی ریاست کا قیام تقدیر مبرم ہے تو ان کے ویژن کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تو ہندوستان کے صرف شمال مغرب میں اسلامی ریاست کے قیام کو تقدیر مبرم قرار دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان عظیم یہ کیا کہ نہ صرف ہندوستان کے شمال مغربی علاقے بلکہ مشرقی علاقے پر مشتمل ملک عطا فرمادیا اور اسی لیے بجا طور پر اسے مملکت خداداد پاکستان کہتے ہیں۔ لیکن آج ہمارے ملک کا سیکولر طبقہ اس ملک کو اسلامی ریاست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اسے سیکولر ریاست قرار دینے کے لیے اپنی ناکام کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے او ر اس حد تک آگے نکل گیا ہے کہ وہ قائد اعظم کو بھی سیکولر قرار دینے پر بضد ہے۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ اس طبقے کو ابھی اس کی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ علامہ اقبال کو یا ان کی فکر کو سیکولر قرار دے سکے۔
میں نے اوپر لکھا ہے کہ علامہ اقبال ایک وژنری شخصیت تھے اور صرف عالم اسلام ہی نہیں، دنیا بھی انہیں وژنری تسلیم کرتی ہے۔ اس وژنری شخصیت نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا لیکن اگر ہم غور کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے ہم نے پاکستان کو ایک دیوانے کا خواب بناکر رکھ دیا ہے یعنی اس طرح ایک وژنری شخصیت کو بھی دیوانہ قرار دے دیا ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو ہم نے نہ صرف علامہ اور پاکستان کے ساتھ بلکہ اپنے ساتھ بھی کیا ہے۔ علامہ اقبال نے اس بعد میں وجود میں آنے والی ریاست کو پہلے ہی اسلامی ریاست قرار دے دیا تھا۔ شاید جس زمانے میں وطن عزیز کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا، ہمارے عوام کا دینی جذبہ برقرار تھا۔ یہ جذبہ اس حد تک برقرار تھا کہ ایوب خان اپنی اس خواہش کو بروئے کار نہ لاسکا کہ اس ملک کا نام تبدیل کرکے جمہوریہ پاکستان رکھ دے یعنی اس کے نام سے لفظ ’’اسلامی‘‘ کو حذف کردے۔ اسی جذبے کا نتیجہ تھا کہ دستور ساز اسمبلی نے قرار مقاصد کو بھی پاس کردیا۔اس وقت سے اب تک ہمارے ہاں اسلام کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے اسے منافقت کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرارداد مقاصد اور اس شق کی موجودگی کہ یہاں کوئی قانون سازی قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہوسکتی، اس میں ایوب خان کے زمانے میں جاری کردہ عائلی قوانین، تحفظ حقوق نسواں ایکٹ اور اب غیرت کے نام پر قتل کے نام پر جو قانون سازی کی گئی ہے، ان سب پر علماء کے تحفظات موجود ہیں۔ لیکن ان سب ایشوز پر کوئی تحریک نہیں چلائی گئی۔ ہمارے قائدین کو فکر جمہوریت کی ہوتی ہے۔ اس کی بحالی کی فکر تو ہوتی ہے اور اس کے لیے تحریکیں بھی چلائی جاتی ہیں لیکن اسلامی شریعت اور اسلامی قوانین کی پامالی پر کوئی تحریک نہیں چلائی جاتی۔ یہ اس قوم کا المیہ ہے۔
عوام کو بہلانے کے لیے اسلامی مشاورتی کونسل قائم کی گئی جس کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ جاری قوانین کا جائزہ لے اور جو قانون قرآن و سنت سے متصادم ہو اس بارے میں اپنی سفارشات مرتب کرکے حکومت کو پیش کرے۔ کہتے ہیں کہ ایسی سفارشات کے انبار لگ چکے ہیں لیکن پارلیمنٹ کو فرصت نہیں کہ ان پر غور بھی کرسکے۔ اب تو ہمارے ایک سینئر سینیٹر صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی مشاورتی کونسل کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ اسے ختم کیا جائے۔
ضیاء الحق کے دور میں چند اسلامی شقیں دستور میں ڈالی گئیں اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ شقیں اب تک قائم ہیں البتہ جس مقصد کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کو وجود میں لایا گیا تھا، وہ اب تک پورا نہیں ہوا۔ سود کے حوالے سے اس کے فیصلے کا جو حشر کیا گیا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہمارے حکمراں امریکا سے ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہم پر کوئی جنگ مسلط نہ کردے لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے اور اس کی حرام کردہ شے کو حلال کرکے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب سے جنگ کے الٹی میٹم کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بلکہ اب تو پاکستان کی خالق جماعت کئی حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔
اس ساری صورت حال کے پیش نظر علامہ اقبال سے معذرت کرتے ہوئے یہ کیوں نہ کہا جائے کہ:
اقبال ترے دیس کا کیا حال سنائیں
سنانے کو تو بہت کچھ ہے لیکن پھر وہی کارٹون یاد آتا ہے جس کا ذکر سطور بالا میں آچکا ہے اور قلم چلنے سے انکار کردیتا ہے۔ لہٰذا قارئین تھوڑے لکھے کو ہی کافی سمجھیں۔