معاشرے کی اصلاح کیسے اور کیوں ضروری ہے 

1216

بنت عطاء
جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے معاشرے میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے تو دوسری جانب نوجوان نسل بگڑتی چلی جارہی ہے۔ اس خرابی اور بگاڑ کے ذمے دار میڈیا سمیت میں اور آپ بھی ہیں۔ معاشرے کے سدھار کے لیے ہم خود سے کوئی عملی اقدام نہیں کرتے۔ دوسروں کے حق میں ہم بہترین جج اور اپنے حق میں ہم بہترین وکیل ہیں۔ دوسروں پر ہم جھٹ سے کفر، شرپسند یا فسادی ہونے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں اور اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کی ہزاروں تاویلیں، دلائل پیش کرکے اپنا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
معاشرے کی اصلاح اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ اصلاح قول سے نہیں آپ کے عمل سے ہوگی ۔ سب سے پہلے خود میں بہتری لانے کی کوشش کیجیے۔ جب تک آپ خود بہتر نہیں ہوں گے آپ دوسروں کو بھی بہتر نہیں بنا سکتے۔فرمان باری ہے کہ: ’’اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ‘‘۔ پہلے خود کو بچانے کا حکم دیا گیا اس کے بعد دوسروں کو بچانے کہا گیا۔ جو برائی آپ کو دوسروں میں نظر آئے غور کیجیے کہیں وہ آپ میں بھی موجود تو نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ ہے تو پہلے اسے دور کیجیے۔اپنی اصلاح اس لیے بھی بے حد ضروری ہے کہ بچے کی پرورش میں ماحول کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ اگر آپ جھوٹ بولیں، نماز نہ پڑھیں، اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کریں، قوانین اور ضوابط کی پاس داری نہ کریں تو آپ کبھی یہ سب کرنے کا اپنے بچے کو نہیں کہہ سکتے۔ آپ کا بچہ آپ کے نقش قدم پر چلے گا۔ بچہ آس پاس موجود افراد کی نقل و حرکت کا بغور مشاہدہ کرتا ہے پھر انہیں عمل میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔
نبی مہربان ؐ نے بھی دعوت اسلام اپنے گھر سے شروع کی۔ آپ ؐ کی زوجہ سیدہ خدیجہؓ ایمان لانے والی پہلی خاتون ہیں۔ اسلام کی تبلیغ گھر سے شروع ہوئی اور دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ تبدیلی بتدریج آتی ہے ایسا نہیں ہوگا کہ دو دن میں آپ کو کامیابی مل جائے۔ آپ کو حوصلے، ہمت اور ثابت قدمی سے کام لینا ہوگا۔
یہ لازم نہیں کہ دیندار گھرانوں میں دیندار بچے ہی پروان چڑھیں نہ ہی یہ ضروری ہے کہ بے دین، گناہ گار، فاسق و فاجر شخص کے گھر کافر ہی پیدا ہوں۔ معاملہ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح یہ سوچنا بھی سراسر حماقت ہے کہ ہمارا حسب نسب فلاں پیغمبر یا فلاں ولی اللہ سے جاکر ملتا ہے تو وہ ہماری سفارش کرکے ہمیں جہنم سے بچالیں گے۔ حسب نسب ہمارے کسی کام نہ آئے گا۔ فرعون جیسے سرکش کی بیوی آسیہ، سیدنا موسی ؑ کا فرعون کے گھر پرورش پانا، نوح ؑ کے بیٹے کا کفر پہ مرنا، سیدنا لوط ؐ کی بیوی کا نافرمان ہی رہنا، سیدنا ابراہیم ؑ کے والد کا اسلام کی دولت سے محروم رہنا یہ سب اس بات کی واضح مثالیں ہیں۔
اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ ماحول، آپ کا عمل واقعی اثر انداز ہو۔ بات استعداد کی بھی ہے کہ حق بات قبول کرنے کی استعداد کس میں کتنی ہے۔ اگر کسی کی گم راہی مقدر ہو تو اسے کائنات کی کوئی طاقت ہدایت نہیں دے سکتی۔ اس کے باوجود ہمیں حق بات پر عمل کرکے دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے کیوں کہ ہمارا کام کوشش کرنا ہے ہدایت دینا ہمارا کام نہیں وہ اللہ کا کام ہے۔ فرمان باری تعالیٰ بھی یہی ہے کہ: ’’آپ جس کو چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ جسے اللہ چاہے ہدایت سے نواز دیتا ہے‘‘۔ اسی طرح آپ دوسروں پر جبراً اپنی بات مسلط کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’تمہیں ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کیا گیا‘‘۔ بلکہ تمہیں قولوا للناس حسنا کی علمی تفسیر بننا ہے۔ یعنی لوگوں سے اچھی اور بہترین بات کرو۔ کوئی آپ کی بات تسلیم کرے نہ کرے آپ عمل کرتے جائیں آپ پیچھے نہ ہٹیں۔
ہم میں سے ہر شخص کو اللہ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے کسی کے پاس کم ہے کسی کے پاس زیادہ۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس صلاحیت کو کس طرح بروئے کار لاسکتے ہیں۔ کس حد تک ہم اس کا مثبت یا منفی استعمال کرسکتے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیں اسی سمجھ داری، بردباری، دانش مندی سے کام لینا ہوگا ہمیں خود سمجھنا ہوگا کہ ہمارے آس پاس کا ماحول کیسا ہے۔ ہمیں اس میں خود کو کس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے۔