سری نگر(خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد کیخلاف آج مکمل ہڑتال کی جائے گی ،کشمیری عوام سیاہ جھنڈوں سے مودی کا استقبال کریں گے ،بھارتی وزیراعظم کی آمد پر مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے، مظاہرے روکنے لیے فوج کی بھاری نفری تعینات ، جگہ جگہ ناکے اور تلاشی کی کارروائیاں ، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، حریت قیادت نظر بند جبکہ سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج مقبوضہ کشمیر کا ایک روزہ دورہ کریں گے جہاں وہ جموں کے علاوہ لداخ بھی جائیں گے ،مودی جموں میں 35ہزار کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان اور لداخ میں بجلی کے منصوبے کا افتتاح کر کے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے ۔مودی کے دورے کے سلسلے میں سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے، جگہ جگہ ناکے لگا کر گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے اور جموں میں فوج کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ قابض فوج نے سری نگر کے اہم مقامات پر مزید چیک پوسٹیں قائم کردی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں فورسز نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے جس میں سیکڑوں نوجوانوں کو اور حریت رہنماؤں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا ہے ۔ دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد کے خلاف کشمیری عوام ہڑتال کریں گے ۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ کشمیری نریندر مودی کے دورے کے روز مکمل اور بھر پور ہڑتال کر کے بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر بھی واضح کریں گے کہ وہ حق خود ارادیت کی جدوجہد کو ہر قیمت پر اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی کشمیر آکر ترقیاتی منصوبوں اور پیکجز سے کشمیریوں کو خرید نہیں سکتے ہماری طویل اور صبر آزما تحریک اس بات کی گواہ ہے کہ مراعات، استعماری پیکیج، نوکریوں اور تعمیر وترقی کے لالی پاپ سے اس قوم کو بہلایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قبضے سے آزادی یہاں کے عوام کا خواب نہیں بلکہ ایک مقدس مشن اور اپنے لہو سے سینچی ایک تحریک ہے اور اگر کٹھ پتلی لوگ ایسی باتوں سے ناآشنا ہیں یا یہ الفاظ اُن کی سمجھ سے بالا ہیں تو وہ اپنے پُرکھوں سے پوچھیں کہ جب وہ انگریزوں کے خلاف صف آرا تھے تو طاقت اور فوجی حرب وضرب کے نشے میں وہ بھی یہی کچھ کہہ رہے تھے، لیکن وقت کے منہ زور تھپیڑوں نے قابض اور غاصب کی سلطنت ہی خس وخاشاک کی طرح یوں بکھیر دی کہ وہ خطہ ارض کے دو چوتھائی حصے پر حکمرانی کرنے والے آج ایک چھوٹے سے ٹکڑے تک سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ اتوار کے روز اپنے گھروں کے اندر بیٹھیں، اپنے کاروبار اور ٹرانسپورٹ کو معطل کردیں اور ایسی بھرپور احتجاجی ہڑتال کریں کہ مودی جی کو پیغام مل جائے کہ ان کا ظلم و جبر کشمیریوں کی مزاحمت کو توڑنے اور اس قوم کو جھکانے یا سرینڈر کرانے میں ناکام و نامراد ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج نئے نئے سہولت کار اور چہرے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آرہے ہیں جنہیں آزادی اور انسانی حقوق کے علم بردار بنا کر اور ایک نیا بیانیہ کھڑا کرکے یہ لوگ اسمبلی اور بھارتی پارلیمان کے اندر سے کشمیریوں کے لیے آزادی اور مسئلہ کشمیر کا حل لائیں گے لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام اپنے مقدس مشن کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔