مقبوضہ کشمیر ،قابض انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے 325 اسکول بند بھی کردیے 

150

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے فلاحی ادارے فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلنے والے 325اسکول بند کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زاید طلبا وطالبات کا تعلیمی مستقبل مخدوش ہو گیا، ان اسکولوں سے وابستہ 10 ہزار سے زاید افراد بے روزگار ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے ایک بیان میں فلاح عام ٹرسٹ کے تحت قائم اسکول بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک لاکھ سے زاید طلبا و طالبات کا تعلیمی مستقبل مخدوش ہو گیا ہے اور کشمیر کوتعلیمی بحران کی طرف دھکیل دیا گیاہے۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ فلاح عام ٹرسٹ خالصتاًتعلیم سے جڑا ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ سرکاری طور تسلیم شدہ اسکول ہیں اور یہاں بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے تجویزکردہ نصاب کی تعلیم دی جاتی ہییہ کوئی 2 یا3 اسکول نہیں ہیں بلکہ لگ بھگ 325اسکول ہیں جہاں ایک لاکھ سے زاید بچے زیرتعلیم ہیں ۔انہیں بند کرنے کی کسی بھی کوشش کے تعلیمی شعبے پر شدیداثرات مرتب ہوں گے ۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس موقعے پر ان اسکولوں پر پابندی سے پہلے ہی بحران کا شکار تعلیمی شعبہ مزیدابتر ہوگا۔وار نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ وادی سے باہر کے کالجوں سے ہزاروں طلبہ کو باہر نکالاگیا ہے اور ہم ابھی اس صورتحال سے نمٹ رہے ہیں اور ان طلبہ کاانتظام کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ کشمیرمیں اسکول بند کرکے اب حکومت ہمیں مزید پہاڑسے نیچے دھکیل رہی ہے۔ہم اب جائیں تو کہاں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ہماری گنجائش نہیں ہے ۔اس سے ریاست کاتعلیمی شعبہ بحران کا شکار ہوگا جو پہلے ہی ستیاناس ہوا ہے ۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ان اسکولوں میں اکثر طلبہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ یہ اسکول ان کے لیے واحد متبادل تھا جہاں وہ اپنے بچوں کو کم سے کم فیس پرمعیاری تعلیم دلاسکتے تھے ۔اسکول بند ہونے سے صرف غریب طبقہ متاثر ہوگا۔ان غریب والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کا خواب دیکھا تھا کا دل ٹوٹ جائے گا۔اس سے سماج کے ایک پورے طبقے کے خواب چکنا چور ہوں گے ۔وار نے کہا کہ حکومت کو کم سے کم بچوں کے مفاد کا سوچنا چاہیے ،ان بچوں کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پرزوردیا کہ وہ فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلائے جانے والے اسکولوں کوتالہ بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے کیونکہ یہ ایک غیرسیاسی ادارہ ہے جس کا مقصد عام لوگوں کو معیاری تعلیم دینا ہے فلاح عام ٹرسٹ کو جماعت اسلامی سے الگ تصور کیا جائے ۔اگر آپ کوئی شک ہے تو ان کے نصاب کی جانچ کیجیے اور وقتاًفوقتاًان کا معائنہ کیجیے ،لیکن ان اسکولوں کو بندنہ کیاجائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اسکولوں سے 10ہزارسے زایدافرادکاروزگار وابستہ ہے اور وہ سب بے روزگار ہوجائیں گے ۔اس پابندی سے ہمیں دوطرفہ ضرب پہنچے گی ۔ ایسوسی ایشن نے کچھ اسکولوں کی انتظامیہ کو ہراساں کرنے کی مذمت کی جس کا مقصد ان اسکولوں کو تباہ کرنا ہے۔