خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید ہو گئے ۔پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ مسجد میں فائرنگ کا مرتکب حملہ آور گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
حملہ آور کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی ۔
پولیس حکام کے مطابق چار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے ۔جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں ۔حملے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا ہے ۔اورزخمیوں کو اہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔
جبکہ مسجد میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد میزبان ٹیم اور بنگلہ دیش کے درمیان کرائسٹ چرچ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔اور بنگلہ دیش کی ٹیم بھی دورہ نیوزی لینڈ سے وطن واپس لوٹ رہی ہے ۔
نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے درمیان تیسرےٹیسٹ میچ کا آغاز 16 مارچ سے کرائسٹ چرچ میں ہونا تھا ۔لیکن کرائسٹ چرچ کی مسجد میں فائرنگ کے بعد دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کو منسوخ کر دیا گیا ہے ۔
اخبار کے مطابق جمعہ کو جس وقت فائرنگ کا واقعہ پیش آیا بنگلہ دیش کی ٹیم مسجد کی جانب جا رہی تھی کے فائرنگ کی آوازیں سن کر رک گئی ۔
انہیں ابتدائی طور پر بس سے اترنے سے روک دیا گیا تھا پھرکئی منٹ تک صورتحال میں بہتری نہ آنے پر ٹیم کو واپس ہوٹل پہنچا دیا گیا ۔
بنگلہ دیشی ٹیم کے سیکیورٹی آفیشلز نے تصدیق کی کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی بحفاظت ہوٹل پہنچ چکے ہیں ۔
نیوزی لینڈ میں موجود بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں اس طرح کے انتہاپسندانہ اقدامات کی کوئی جگہ نہیں ۔یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔