کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں گرین لائن میٹرو بس منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے کا امکان ہے، وفاقی حکومت نے بسوں کی خریداری کیلیے تاحال ٹینڈر کا اجرا ہی نہیں کیا، ٹینڈر کے اجراء کے بعد بسوں کی امپورٹ میں چار سے پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔
کراچی میں بس چل رہی ہے نہ شہریوں کا بس چل رہا ہے، وفاقی حکومت کا شہر قائد میں گرین لائن میٹرو بسیں چلانے کا منصوبہ 2017ء سے تکمیل کا منتظر ہے۔
تین ماہ سے کراچی میں گرین لائن میٹرو بسوں کا ٹینڈر جاری نہیں ہوسکا ہے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اکتوبر میں منظوری دی مگر ایکنک نے میٹرو بسوں کی خریداری کا تاحال فیصلہ نہیں کیا ہے۔
گرین لائن میٹرو منصوبے کے لیے اٹھارہ میٹر کی 80 بسیں خریدی جانی ہیں، مخصوص طرز کی میٹرو بسوں میں دوسو مسافر سفر کرسکیں گے۔ معذور افراد کے لیے خصوصی ریک ہوگا۔ ایک میٹرو بس کی خریداری پر دولاکھ ڈالر سے دولاکھ ستر ہزار ڈالر تک کا تخمینہ ہے۔
وفاقی حکومت نے گرین لائن میٹرو بس آپریشن،بسوں کی خریداری کے لیے مختص 4500 ملین روپے بھی جاری نہیں کیے ہیں۔ ٹینڈر کے اجراء کے بعد کمپنیوں کی پری کوا لی فیکیشن اور آرڈر کے اجراء سے لے کر امپورٹ تک مزید پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔