دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے کردار پر امریکا میں اہم اجلاس آج ہوگا

158

واشنگٹن(آن لائن) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے امریکا میںآج جمعرا ت کو اہم اجلاس طلب کرلیا گیاجبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ سرحد پرپاکستان کی حالیہ کارروائیاں حوصلہ افزاہیں،پاکستان پرپابندی زیرغورنہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹ کی بااختیار خارجہ تعلقات کمیٹی کا اجلاس واشنگٹن میں ہوگا جس کا عنوان ’پاکستان: امریکی مفادات کے لیے چیلنجز‘ ہے اور اس میں انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔تاہم گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے حملے کا اثر اس اجلاس پر پڑ سکتا ہے ۔امریکی قومی سلامتی کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ امریکا مزید محفوظ، مستحکم اور خوش حال افغانستان کے قیام میں افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔واضح رہے کہ رواں برس امریکی کانگریس نے پاکستان کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کو امریکی وزیر دفاع کی جانب سے اس بات کی تصدیق سے مشروط کیا تھا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیاں کرے ۔امریکی وزیر دفاع نے اس بات کی توثیق کرنے سے انکار کردیا تھا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیاں کررہا ہے جس کے بعد امداد روک دی گئی تھی، امریکا سمجھتا ہے کہ کابل میں ہونے والے حملوں کے پیچھے حقانی نیٹ ورک کا ہی ہاتھ ہے ،خاجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین باب کورکر جنہوں نے یہ اجلاس طلب کیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ امریکا عالمی امور میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرے۔دریں اثناواشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ افغان سرحد کے قریب پاکستان کی حالیہ کارروائیاں حوصلہ افزا ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں پیش رفت نظرآتی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں ہیں۔مار ک ٹونر نے کہا کہ پاکستان پر پابندیوں کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ ہم پاکستان اور بھارت میں انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ترجمان محکمہ خارجہ نے ایک بار پھرڈو مور کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام آباد کو تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرنا ہو گا۔