کراچی ( اسٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے چینی کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آٹا، چینی، چاول، دال کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ عوامی اورجمہوریت کی دعویدار حکومت نے چینی کی قیمت میں فی کلو 4 روپے اضافہ کرکے عوام پرمہنگائی کی بمباری کی اپنی روایت جاری رکھی ہے۔ ایکس مل قیمت 60روپے فی کلو مقرر کی گئی ۔ اس وقت مارکیٹ میں 72 سے 78 روپے فی کلو ملنے والی چینی 85 سے 90 روپے فی کلو پہنچنے کے امکانات ہیں ۔ اس وقت بھی حکومت عوام سے چینی کے فی کلو پر 8 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے جبکہ2 ماہ قبل ہی حکومت نے یکمشت 8 روپے فی کلو اضافہ کیا تھا ۔ اربوں روپے سبسڈی لینے کے بعد بھی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا کر عوام کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرکے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے نان ایشوز پر سیاست اور عوام لڑاؤ حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ،روز مرہ کی اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کا جینا دو بھر کردیا گیا ہے جبکہ عوام کی داد رسی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے حکومت کے اندر اور باہر موجود شوگر ملز مافیا اپنے مفادات کے لیے عوام کا خون نچوڑنے میں 100 فیصد متفق ہے مگر انہیں کوئی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔گزشتہ سال بھی گنے کے کاشتکار مناسب نرخ کے لیے سراپا احتجاج بنے رہے اس سال بھی شوگرملزمافیا عوام کا خون نچوڑنے میں مصروف ہے۔ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی انہی ملزمافیا کودی جاتی ہے، اس کے باوجود چینی کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے قیمتوں میں مزید اضافہ کرکے عوام کی زندگی تنگ کی جارہی ہے جو کہ حکومتی وعدوں اوردعوؤں کی سراسرنفی ہے۔