(سیکولرازم کاجنازہ (سمیع اللہ ملک

158

کوئی سوچ بھی نہ سکتاتھابلکہ گمان تک نہ تھاکہ پہلی مرتبہ 2014ء4 میں حجاب میں لپٹی ہوئی 4 رکن خواتین نے پوری جرا?ت کے ساتھ ترک پارلیمان میں داخل ہوکر پچھلے 90 برس سے جاری تاریک سیکولر نظام میں ایک زلزلہ طاری کردیں گی اوریہ واقعہ تمام دنیاکے میڈیامیں شہ سرخیوں سے نشر ہورہاتھا کہ بالا?خرترکی میں سیکولرازم کاجنازہ نکلنے جارہاہے۔ ہمارے اسلامی معاشرے میں تمام وہ افرادجوخودکوسیکولرسمجھتے ہیں ،انتہائی ناراضگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں جب سیکولرازم کاترجمہ لادینیت یابے دینی سے کیاجاتاہے بلکہ الٹاالزام لگاتے ہیں کہ سیکولرازم کایہ مطلب ہرگزنہیں۔ سیکولرازم کے معنی تویہ ہیں کہ حکومت اپنے وضع شدہ اصولوں میں اپنے تمام امورمیں ا?زادہو، مذہب کوحکومتی امورمیں کوئی دخل حاصل نہ ہو اور نہ حکومت کسی مذہبی اصول ،قانون یاہدایات کوجوابدہ ہو،اسی طرح حکومت کی حاکمیت کے تحت تمام لوگ عقیدہ اورفکراپنانے اورکوئی عبادت کرنے میں اپنے مذہبی رسومات کے حوالے سے ا?زادہوں۔ حکومت کوکوئی حق نہ ہوکہ ذاتی عبادت اورمذہبی رسومات میں مداخلت کرے۔
اسلامی ممالک میں بسنے والے لوگ سیکولرازم کی تعبیرلادینیت اوربے دینی کرتے ہوئے اس لیے ٹھیک ہیں کہ یہ دین کے حوالے سے اسلام کوماننے سے انکاراورباالفاظ دیگر یہ نہ اسلامی نظام ہے اورنہ زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی کوئی رہنمائی ہے، بس اسلام ایک مذہب ہے اورعبادت کے طریقے بتاتاہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسلام کودین کہاہے، مسلمانوں کے لیے اسے دین کے طورپرپسندفرمایاہے اوردین کی حیثیت سے اس کے ماننے کوان کی ذمے داری قراردیاہے۔ سیکولرطبقہ سیکولرازم کے جومعنی بیان کرتاہے باوجوداس کے کہ یہ بے دینی کے مترادف ہے مگرغیرمسلم دنیامیں مقیم مسلمان اوراسلامی دنیاکے وہ مسلمان عوام جن پرظالم،جابراورگمراہ ڈکٹیٹرمسلط ہیں وہاں ایسا سیکولرازم نظام بھی غنیمت ہے جس میں کم ازکم عبادات اورمذہبی رسومات میں انہیں ا?زادی ہومگرافسوس دنیامیں جن ممالک کانظام سیکولر سمجھا جاتاہے،وہاں کے حکمران خودکوسیکولرسمجھتے ہیں اورسیکولر ازم کی مذکورہ بالاتشریح کرتے ہیں،انہوں نے کبھی بھی اس طرح کے سیکولرازم سے وفاداری نہیں نبھائی،ان کے قول وفعل میں بہت بڑاتضادہے اوروہ بہت بڑے جھوٹ اور فریب کا شکارہیں۔
ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ غیرمسلم اقلیت میں ہوں یااکثریت میں ایساسیکولرازم مسلم اورغیرمسلم دنیامیں موجودہے جس سے یہ لوگ پورے خلوص سے مستفیذ ہوتے ہیں مگراس سیکولر ازم سے مسلمان استفادہ کریں،یہ ناممکن ہے۔ مسلمانوں کی باری ا?تی ہے تویہ لوگ سیکولرازم کے تمام اصول پامال کرجاتے ہیں۔ مسلمانوں پرایسے ظالمانہ اورجابرانہ فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں جواسلام توکیا سیکولرازم کے اصولوں کے بھی سراسرمخالف ہوتے ہیں۔کچھ مغربی ممالک میں مسلمانوں کومسجدکی اشدضرورت ہوتی ہے اورباربارحکومتوں سے نئی مساجد کی تعمیرکامطالبہ کرتے ہیں مگرحکومتوں کی جانب سے انہیں پہلے تواجازت نہیں ملتی اوراگرملتی ہے توبھی انتہائی مشکل ہے۔تعمیرکی اجازت کے ساتھ میناروں کی عدمِ تعمیر سمیت اور بھی حدود وقیودلگائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مساجدکی تعمیرتقریباًناممکن ہوجاتی ہے۔
مساجدپرمینارکی تعمیرصرف اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیگرعمارتوں سے ممتازہو اورلوگوں کومعلوم ہوکہ یہ ایک عام عمارت نہیں بلکہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ کنکریٹ کایہ بے جان میٹریل کسی حکومت یاحکومتی روڈمیپ،کسی عقیدے اور فکرکی راہ میں کوئی خطرہ تونہیں بن سکتامگرپھربھی مسلمانوں کومساجدکی تعمیرکی اجازت نہیں دی جاتی اوراسی بہانے انہیں گرا دیا جاتاہے کہ بلندمیناروں کے وجودسے انہیں سیکولرمغربی افق مشرف بہ اسلام نظرا?تاہے۔حکومتی سطح پر میناروں کے انہدام سمیت تقریباًتمام مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اورتشددکی نئی لہریں اٹھنے لگی ہیں۔ کئی مغربی ممالک میں مساجدکو خطرہ درپیش ہے، ان پرمسلسل حملے کیے جارہے ہیں،انہیں جلایاجارہاہے۔ مساجد کی دیواروں پراسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزوال چاکنگ کی جاتی ہے،مسلمانوں کوروحانی تکلیف پہنچانے کے لیے خنزیرکاسریاگوشت پھینکا جاتاہے۔میناروں کے انہدام کے بعدسیکولرنظام سے بہرہ ورفرانس اورہالینڈسمیت یورپ کے کئی ممالک میں مسلمان خواتین کے پردے اورسرڈھانپنے کوقانونی جرم قراردیاگیا،جوسرڈھانپتی ہیں انہیں ملازمتوں سے فارغ کردیاجاتا ہے، شہروں میں ان کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔اسکارف پہننے والی خواتین پرحملوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔پچھلے دنوں سوشل میڈیاپریہ وڈیوبڑی سرعت کے ساتھ وائرل ہوئی جس میں ہالینڈمیں ایک مسلمان بچی کو محض حجاب کی وجہ سیسرعام 2 نوجوان بری طرح زدوکوب کررہے ہیں۔
مغربی دنیاانسانی ا?زادی اورمساوات کے بلندبانگ دعوے کرتی ہے مگربہ زبان حال وہاں رہنے والے مسلمانوں کویہ کہا جاتاہے کہ یہاں غلامی قبول کرنے میں ا?زادہواگراپنے مذہب ،کلچر،تاریخ،طرزِ زندگی اورروایات پرقائم رہنے پراصرار کروگے تومغرب میں تمہیں باغی سمجھاجائے گا۔یہاں تمہیں زندگی گزارنے کاحق حاصل نہیں ہوگااگرچہ یہ ان کا ا?بائی ملک ہی کیوں نہ ہو۔مختصر یہ کہ مغربی دنیاخودکوسیکولرکہتی ہے اورسیکولرازم کی تعریف یوں کرتی ہے کہ حکومت لوگوں کے مذہبی امورمیں مداخلت نہیں کرے گی مگراسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے بات برعکس ہے۔ حکومت مسلمانوں کے تمام مذہبی امورمیں مداخلت کرتی ہے یہاں تک کہ مسلمان خواتین کے معاملات،کسی مذہبی تشخص اورمساجد کی تعمیر ، ساخت اورڈیزائن میں بھی مداخلت سے دریغ نہیں کیاجاتا۔
یہ نہ حقیقی سیکولرازم کاطریقہ ہے اورنہ تحریف شدہ عیسویت اپنے متبعین کو اس بات پرابھارتاہے۔یہ بات ٹھیک ہے کہ مغربی لوگ نہ عیسائی ہیں اور نہ حقیقی معنوں میں سیکولرہیں بلکہ یہ سب نسل پرست اوراسلام کے دشمن ہیں اور اسلامی دنیامیں بھی سیکولرازم کے نام پرجابروظالم نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب 1923ء4 کوکمال اتاترک نے عثمانی خلافت ختم کرکے ترکی میں حکومتی نظام کے طورپر سیکولرازم مسلط کردیاتوحکومتی نظام میں مذہبی رہنمائی کی بوبھی جرم سمجھا جاتا تھا، چاہیے تویہ تھاکہ عوام اپنااسلامی عقیدہ اوراسلامی تشخص رکھنے میں ا?زادہوتے اورشخصی زندگی میں اپنی دینی رہنمائی میں انہیں ا?زادچھوڑدیاجاتامگرایسانہ ہوسکا۔
کمال اتاترک کے سیکولرازم کاپہلاحملہ اسلام اوراسلامی شعائرپرتھا۔اس نے ترقی پذیرترکی کی بنیادرکھنے کے نام پرترکی تہذیب اورثقافت کوانتہائی بے رحمی سے پامال کیا۔ یہ ترکی تاریخ کاانتہائی سیاہ باب سمجھاجاتاہے۔اسلامی شعائرکے خلاف اقدامات کاسلسلہ اذان پرپابندی سے ہوتاہوامسلمانوں کے دینی تشخص کے خاتمے، مردوں کے سروں سے پگڑیاں و ٹوپیاں اورعفت ما?ب خواتین کے سروں سے چادریں اتارنے تک طویل ہوتاچلاگیا۔ 30ء4 اور 40ء4 کی دہائی میں ترکی کی مسلمان خواتین کے سروں سے جبری طورپر اسکارف اتارلیاگیا۔کسی حکومتی اداے میں خواتین کواسکارف پہننے کی اجازت نہیں تھی۔کمال ازم کے تسلط کے بعدسے ا?ج تک ری پبلکن پیپلزپارٹی کے نام سے سیکولرتنظیم اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پرمغرب کی مالی اعانت سے چلنے والی این جی اوزکا کہناتھاکہ خواتین کی چادریں یابرقعے خواتین کا استیصال ہے۔
مذکورہ سیکولرجماعت اوراین جی اوزکایہ نعرہ تھاکہ حجاب ترکی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے مگرکمال اتاترک کی نئی ترکی میں دین کی دوری کے باعث معاشرے میں ہرخرابی اور برائی داخل ہوگئی۔شراب نوشی،سود،جوا، زنا، رشوت، غبن، بدامنی،چوری ڈاکے اورحکومتی کرپشن اپنے عروج پرپہنچ گئی، جس کی وجہ سے ترکی ہرلحاظ سے تنزلی کاشکارہوگیااورگرتے گرتے اس مقام پر پہنچ گیاکہ اسے ’مردِ بیمار‘کہاجانے لگا۔ ترکی کے باشعورعوام یہ سمجھ گئے تھے کہ کمال ازم نے ترکی کو اپنے اسلامی اورقومی تشخص سے بے بہرہ کرنے کے ساتھ ہرطرح کی تنزلی کاشکارکر دیا، اس لیے یہاں کے عوام نے اپنی خوشی اوراپنے ارادے سے اسلامی رہنمائی سے قریب ہونے کاسفرنئے سرے سے شروع کردیااورکئی رکاوٹوں کے باوجودمنزل کی جانب تیزی سے ا?گے بڑھنے لگے۔
ترکی کی مسلمان خواتین اس سے بخوبی واقف تھیں کہ بے پردگی کے ساتھ بدکاری ملی ہوئی ا?تی ہے جس طرح زمانہ جاہلیت میں بے پردگی کی وجہ سے زنامعاشرے کاجزولاینفک بن گیاتھااسی طرح موجودہ جاہلیت بھی خواتین کوبے پردہ کرکے ان کی عفت لوٹناچاہتاہے۔حجاب چھوڑنے کی وجہ سے خواتین کی حرمت اورعزت میں بہت زیادہ کمی ا?گئی ہے۔ گھریلونظام تباہ ہوکررہ گیاہے، خواتین گھروں اورمحفوظ چاردیواریوں سے نکلنے کے بعد مردوں کی جنسی خواہشات پوری کرنے کی بے وقعت اوربے اہمیت کھلونابن کررہ گئی ہیں۔ مغرب کی حقوق یافتہ اورحقوق کاتحفظ کرنے والی خواتین نے ان تمام برائیوں سے نجات پانے کے لیے اسلام قبول کرنے کاراستہ اپنالیاہے۔ جوخاتون مسلمان ہوتی ہے وہ پھرسرسے اسکارف اتارنے کانام نہیں لیتی اورپوری جرا?ت سے کہتی ہے کہ وہ حجاب میں خودکوانتہائی محفوظ سمجھتی ہے۔اس طرح ترکی کی خواتین نے بھی اس حقیقت کاادراک کرلیاکہ حجاب ہی ان کی زندگی کااصل سرمایہ ہے،وہ سرمایہ جس سے محرومی کے باعث وہ سب کچھ سے محروم ہوگئی ہیں اس لیے اس کے حصول کے لیے انہوں نے ہرطرح کی قربانی دی۔
فطرت انسان کواپنے اصل اوربنیادپرلے جاتی ہے۔ 30ء4 اور 40ء4 کی دہائی میں تقریباً حجاب کامکمل خاتمہ ہوچکاتھامگرکچھ عرصے کے بعد 60ء4 کی دہائی میں پھرایسی خواتین نظرا?ئیں جنہوں نے سروں پراسکارف اوڑھ رکھے تھے۔ خوش قسمتی سے فطری احساسات پھرسے ان میں انگڑائیاں لینے لگے تھے جس کی قوت کی نشانی اب پارلیمان میں نظرا?ئی۔ ترکی پر مسلط شدہ سیکولرازم کے نتیجے میں سامنے ا?نے والی ساری بدبختیوں اورہرطرح کے تنزل سے نجات پانے کے لیے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ ترکی کے اکثر مسلمانوں نے پھرسے اسلام سے قریب ہونے کاسفرکاا?غازکیا،انتہائی دانشمندی سے ا?گے بڑھے اوروہ وقت ا?ن پہنچاکہ 1970ء4 اور 1980ء4 میں اسلام پسندوں کی بنیاد رفاہ پارٹی کی شکل میں رکھ دی گئی۔ترکی کے عوام جودائیں اور بائیں بازوو?ں کی سیکولر جماعتوں کی خیانتوں،خودغرضیوں،لوٹ مار،رشوت،بداخلاقی،مظالم ، حکومتی بدنظمی اورکرپشن سے تنگ ا?ئے ہوئے تھے ، نے مختلف ادوارمیں اسلام پسندوں کو اقتداردلانے کے لیے کوششیں شروع کردیں مگرافسوس ہربارترکی کی بے دین فوج نے نہ صرف یہ کہ اسلام پسندوں کوا?گے ا?نے نہیں دیابلکہ اسلام پسند قائدین کو جیلوں میں ڈال کرتختہ? دارپرلٹکاگیا،یہاں تک کہ رجب طیب اِردوان اورعبداللہ گل کے ہاتھوں بننے والی اے پی کے یعنی انصاف وترقی پارٹی 2002ء4 میں اقتدارکوپہنچ گئی۔ گزشتہ حالات کوسامنے رکھتے ہوئے انہوں نے فوج سے کسی قسم کی نبرد ا?زمائی سے دامن بچائے رکھا۔ملک کواقتصادی مشکلات سے چھٹکارا دلایا،قومی خزانے کی حفاظت ، صحیح استعمال اورعوامی خدمت کوانہوں نے اپنا نعرہ بنالیا۔ اس نعرے کوعملی جامہ پہنانے کے لیے بہت اخلاص سے اپنی ا?ستینیں چڑھالیں جس میں انہیں بے انتہا کامیابی بھی ملی۔
اس دوران قومی خزانے کی لوٹ ماراوربے جااستعمال کا مکمل خاتمہ کیاگیا، مرکزی شہروں اوراطراف میں پھیلتی ہوئی بدامنی کا توڑ نکالا گیا ،جوئے کے سارے اڈے ختم کر دیے گئے، شہروں کی صفائی پربھرپورتوجہ دی گئی،نامناسب اقتصادی حالات سے ملک کونجات دلانے کے لیے فوری اوردورس اقدامات کیے گئے ، بیروزگاروں کوروزگاردلانے کے لیے مفیدپروگرام شروع کیے گئے جس کے نتیجے میں ملکی کرنسی کی عالمی منڈی میں قیمت بڑھتی چلی گئی۔ترکی کے ذمے واجب الاداقرضے اداکر دیے گئے یہاں تک کہ معاشی خون چوسنے والے یہودی ادارے ا?ئی ایم ایف کے تمام قرضوں سے بھی ترکی کونجات مل گئی اور ترکی اپنے پاو?ں پرکھڑاہوگیا۔وہ ترکی جس کاشماردنیاکے کمزور ترین ممالک میں ہوتاتھااس نے اتنی ترقی کی کہ دنیاکی پہلی 16 معاشی قوتوں میں اس کاشمارہونے لگااوراب دنیا کی 10 طاقتورترین معیشتوں میں اس کا شمارکیاجاتاہے۔
طیب اِردوان نے مخالفین اورتنقید کرنے والے معترضین کوجوابات دینے اوران سے بحث کرنے میں وقت ضائع کرنے سے خودکومحفوظ رکھا مگر 2008ء4 اور پھر 2011ء4 کے انتخابات میں انصاف وترقی پارٹی کوکامیاب کرواکے ترکی کے عوام نے اپنے فیصلے سے مخالفین کوعملی طورپرجواب دے دیا۔اس کے ساتھ طیب اِردوان نے اسلامی دنیاسے کٹے ہوئے ترکی کوپھرسے اسلامی دنیاسے جوڑنے اورملک کے اندراسلام کی نشاۃ ثانیہ اوراسلامی بیداری کے لیے جوکوششیں کیں ، اس کی فہرست بہت طویل اوراس کے فوائد ہمارے سامنے ہیں جسے بیان کرنے کے لیے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔ ملک کے اندراسلام کی نشاۃثانیہ کی کوششوں کانتیجہ ہے کہ جس ترکی نے 90 سال پہلے حجاب پرمکمل پابندی عائد کردی تھی ا?ج سے 3 سال قبل اسی ترکی میں پارلیمان کی 4 ارکان حجاب کے ساتھ داخل ہوئیں۔یہ وہی پارلیمان ہے جہاں سے 17 سال پہلے ایک خاتون رکن کوصرف اس لیے نکال دیا گیا تھا کہ اس نے اسکارف اوڑھ رکھاتھا۔اس وقت کے وزیراعظم بلندایجوت نے مذکورہ خاتون سے کہا تھا: ’یہ حکومت کوچیلنج کرنے کی جگہ نہیں ہے،اس خاتون کواپنی حدود جان لینی چاہییں‘ لیکن ا?ج اسی پارلیمان میں درجنوں خواتین مکمل حجاب کے ساتھ موجودہیں۔
یہ چاروں خواتین حج کے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے حجازمقدس گئی تھیں۔ اس سفرکے بعدان خواتین نے حجاب سر سے نہیں اتارے۔ ان میں سے ایک خاتون نے صحافیوں سے کہا: ‘میں اپنااسکارف کبھی بھی سرسے نہیں اتاروں گی کیونکہ دوپٹہ اوڑھنااوردیگرمذہبی رسومات کی ادائیگی میرے اور میرے رب کے درمیان معاملہ ہے، مجھے امید ہے کہ تمام لوگ میرے اس فیصلے کااحترام کریں گے اوراپنے رب کی عبادت کے لیے میرے سامنے رکاوٹ نہیں بنیں گے‘۔ رجب طیب اِردوان نے اس حوالے سے کہاکہ ایسا کوئی قانون نہیں جوخاتون کواسکارف کے ساتھ پارلیمان میں ا?نے سے روکے،ہمیں اپنی بہنوں کے فیصلوں کااحترام کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی پارلیمان کی ارکان اور عوامی نمائندہ ہیں۔ دوسری طرف طیب اِردوان نے یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کے ایک ساتھ رہنے پرپابندی عائدکردی اور حکومت انتہائی سختی سے اس عمل کی نگرانی بھی کررہی ہے۔
اپوزیشن پارٹی ری پبلکن پیپلزپارٹی کے سربراہ نے طیب اردوان کے اس فرمان پرناراضگی کااظہارکرتے ہوئے اس کی وضاحت مانگی جسے اکثریت نے مسترد کر دیا۔ پارلیمان کے ایک سیکولررکن نے کہاہے کہ انصاف وترقی پارٹی کی جانب سے ترکی کوراسخ العقیدہ اسلامی ملک بناے کی کوششیں انتہائی خفیہ مگرتیزی کے ساتھ جاری ہیں۔اب ایسالگتاہے کہ ترکی ایک اسلامی فلاحی حکومت کی منزل کی جانب اپناجاری سفربہت تیزی سے طے کررہاہے اوراس کی راہ میں حائل ساری رکاوٹیں ریت کے گھروندے ثابت ہو رہے ہیں۔یہ نہیں کہاجاسکتاکہ طیب اِردوان نے ترکی میں اسلامی انقلاب برپا کر دیا ہے یاوہ سیکولرنظامِ اورقانون میں بہت بڑی تبدیلیاں لے ا?ئے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں ا?ئین کی وجہ سے سیکولرازم کے مطابق اپناعمل کرناہرحکومت کی ذمے داری ہے جس سے صرفِ نظرکی صورت میں فوج کوحکومت ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے،اسی لیے طیب اردوان اس معاملے میں انتہائی محتاط اندازمیں ا?گے بڑھ رہے ہیں۔
حالیہ ناکام فوجی انقلاب کی بہت سی وجوہات میں ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ بیرون ملک سیکولرازم کے امین مغربی ممالک کے سرخیل امریکاکوطیب اِردوان کے اس طرزحکومت سے بغاوت کی بومحسوس ہورہی تھی لیکن قدرت نے اس ناکام فوجی انقلاب کے بعدبہت سی رکاوٹیں ختم کردی ہیں۔ طیب اِردوان جلدہی ملک میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کروانے جارہے ہیں جس کے خلاف مغربی میڈیامیں دن رات پروپیگنڈہ کرکے طیب اِردوان کوا?مریت کی جانب گامزن قرار دیاجارہاہے لیکن اس پروپیگنڈے کی بنا پرانہیں اپنی قوم میں مزیدمقبولیت حاصل ہورہی ہے۔ یہاں صرف یہ کہناہی کافی ہوگاکہ ترکی میں گزشتہ ایک عشرے سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے کے 7عشروں کی بہ نسبت بہت بہتری ا?ئی ہے۔ سر پرجابرانہ ا?ئین اور سیکولر فوج کی لٹکتی تلوار کے سامنے جتنی پیش رفت ہوئی ہے یہ بھی بہت کچھ ہے۔بہرحال وقت نے ثابت کردیاہے کہ ترکی میں سیکولرازم کاجنازہ بڑی دھوم دھام سے نکلنے کی تیاریاں عروج پرہیں۔