عمران خان کے سیاسی و عمرانی سمجھوتے

232

سید محمد اشتیاق
عمران خان نے تبدیلی اور نظام حکومت میں شفافیت کے نعرے کے ساتھ عملی سیاست میں قدم رکھا۔ عمران خان کو ہمیشہ اپنے قوت بازو پر بھروسا رہا ہے۔ اس وجہ سے کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے بجائے، اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔ تحریک انصاف کی تشکیل کے بعد عمران خان پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر تو وارد ہوگئے۔ لیکن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور محترم نواز شریف کی موجودگی میں، ان کی سیاست میں آمد کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ عمران خان کو بھی جلد اندازہ ہوگیا کہ ان قد آور سیاست دانوں اور جماعتوںکی موجودگی میں، ان کی اور ان کی جماعت کی دال گلنے والی نہیں ہے۔ اسی لیے جب ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور ہر فوجی آمر کی طرح احتساب کا نعرہ لگایا تو عمران خان نے اس کا خیر مقدم کیا۔ عمران خان کی پرویز مشرف سے قربت یہاں تک بڑھی کہ جون 2001ء میں منعقد ہونے والے متنازع و غیر آئینی صدارتی ریفرنڈم میں اپنے سیاسی کزن علامہ طاہر القادری کے ہمراہ پرویز مشرف کے پولنگ ایجنٹ کا کردار ادا کرنے پر بھی راضی ہوگئے۔
2002ء کے عام انتخاب میں عمران خان میانوالی سے رکن قومی اسمبلی تو منتخب ہوگئے لیکن جو خواب وزیر اعظم بننے کا وہ دیکھ رہے تھے۔ وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا کیوںکہ ان کی جماعت کے علاوہ جناب طاہر القادری کی جماعت کو بھی انتخاب میں بد ترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنمائوں اور منحرفین پر مشتمل سیاسی جماعت کی تشکیل کی اور حکومت بنانے کی دعوت دی۔ عمران خان کا اس سیاسی صورت حال پر جزبز ہونا تو یقینی تھا۔ جس کا بدلہ انہوں نے اس طرح لیا کہ اگلی مدت کے لیے پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب سے قبل اپوزیشن کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جناب نواز شریف اور عمران خان نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔ نواز شریف تو سابق صدر آصف زرداری کے سمجھانے بجھانے پر انتخابات میں حصہ لینے پر راضی ہوگئے لیکن عمران خان اپنے فیصلے پر قائم رہے گو کہ ان کو قلق رہا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے اور نواز شریف پر دھوکا دینے کا الزام لگایا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں عمران خان، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر سیاسی گٹھ جوڑ کا الزام لگاتے رہے۔
تبدیلی اور شفافیت کا نعرہ عوام کے ساتھ حکومتی اور مقتدر اداروں لیے پر کشش تو تھا لیکن نظام حکومت میں تبدیلی اور شفافیت کیسے آئے گی۔ اس کا ادراک کسی کو نہ تھا۔ کہنے والے کہتے ہیںکہ 30 اکتوبر 2011ء کو لاہور میں منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے کامیاب جلسے کے پیچھے، کسی صاحب ادراک و مقتدر شخصیت کا ہاتھ تھا۔ جیسا کہ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے والے قریباً ہر مذہبی و سیاسی رہنما کا رہا ہے۔ عمران خان نے سیاسیات انگریزوں سے پڑھی ہے۔ سیاست میں قدم رکھنے کے بعد ان کو اندازہ ہوگیا کہ عملی سیاست میں کامیابی کے لیے پاکستان کے سب سے محب وطن مقتدر حلقوں کے سامنے سر جھکائے بغیر گزارا نہیں، سو آثار یہی بتاتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کے پیچھے محب وطن مقتدر حلقوں کا آہنی ہاتھ شامل ہے۔
2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹوں کی صورت میں عوامی پزیرائی حاصل ہوئی۔ گو کہ تحریک انصاف وفاق میں تو حکومت تشکیل دینے کی حامل جماعت قرار نہیں پائی۔ لیکن صوبہ خیبر پختون خوا میں جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ صوبے کے عوام نے تبدیلی اور شفافیت کے نعرے کے وعدے پر تحریک انصاف کو وٹ دیے تھے۔ چار سال گزرنے کے بعد تبدیلی اور شفافیت کا نعرہ ہوا میں تحلیل ہوچکا ہے اور صوبے کے عوام میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ بلا شبہ عمران خان پاکستان کے مقبول سیاسی رہنما ہیں اور آئندہ سال منعقد ہونے والے عام انتخابات میں اپنی جماعت کو ہر حال میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے اپنے بدترین سیاسی جماعتوں اور مخالفوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مخالفت برائے مخالفت کا ہی سہارا کیوں نہ لیناپڑے۔ عمران خان پاکستانی سیاسیات کو سمجھنے کے بعد، پاکستانی عوام کا مزاج بھی سمجھ گئے ہیں۔ اسی لیے تحریک انصاف جو نوجوانوںکی جماعت اور تبدیلی و شفافیت کا نعرہ لگاتی آئی ہے۔ بدعنوان اور لوٹے سیاست دانوں میں خود کفالت کی طرف گامزن ہے۔
تحریک انصاف کے بانی اراکین و رہنما صورت حال سے دلبرداشتہ ہوکر تحریک کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ گزشتہ روز محترمہ ناز بلوچ بھی تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور اصولی سیاست کے دعوے سے انحراف کی وجہ سے تحریک کا ساتھ چھوڑ کر پیپلز پارٹی سے جا ملی ہیں۔ محترم شفقت محمود صاحب نے، ان کے تحریک کا ساتھ چھوڑنے پر ردعمل دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک عام کارکن تھیں۔ ایسی صورت حال میں یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان صاحب کے تبدیلی اور شفافیت کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور وہ وزیراعظم بننے کی آرزو میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ہر طرح کے سیاسی و عمرانی سمجھوتے کے لیے بخوشی راضی ہیں۔