کوئٹہ:نواب زادہ گزین مری 5روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

455

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)کوئٹہ کی مقامی عدالت نے نواب خیربخش مری کے صاحبزادے گزین مری کو دہشت گردی،قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت درج مقدمات میں5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر کوہلو لیویز کے حوالے کردیاجبکہ ان کے 7 گرفتار ساتھیوں کو تیس تیس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ 18سالہ جلا وطنی ختم کرنے کے بعد کوئٹہ پہنچنے پر گرفتار ہونے والے نواب زادہ گزین مری کو24 گھنٹے بعد سخت سیکورٹی میں عدالت لایا گیا،جہاں انہیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راشد
محمود کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم کو کوئٹہ سے باہر منتقل نہ کیا جائے بلکہکوئٹہ میں رکھ کر تحقیقات کی جائے۔ گزین مری کے وکیل ارباب طاہر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کوہلو لیویز کی جانب سے جن مقدمات میں میرے مؤکل کو ملوث قرار دیا گیاہے وہ2004ء میں درج ہوئے ہیں جبکہ گزین مری 2000ء میں ہی ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے، ہم تمام قانونی پہلوؤں کو دیکھ کر اپنا جواب داخل کرائیں گے۔علاوہ ازیں گزین مری کے ساتھ کوئٹہ ائرپورٹ سے حراست میں لیے گئے 7افراد سلطان علی ، ملوک خان، داد علی، محمد رمضان، عبدالمجید، محمد ابراہیم اور اصغر علی کوکینٹ پولیس کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ ون محمد حنیف کی عدالت میں پیش کیا گیا۔اس موقع پر گرفتارافراد کے وکیل نے ضمانت کی درخواست پیش کی جس پر عدالت نے ساتوں افراد کو تیس تیس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عیوض رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ قبل ازیں گزین مری کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ انہیں پولیس اور اے ٹی ایف کی بھاری نفری کے ہمراہ بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔اس موقع پر عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس موقع پر مری قبیلے کے افراد کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی۔یاد رہے کہ نواب زادہ گزین مری بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس نواز مری قتل کیس میں بھی نامزد ہیں جس میں انہوں نے 26ستمبر تک حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے۔