PC ہوٹل کراچیILO کی سفارشات پر عمل کرے

127

ملک کے ممتاز ٹریڈ یونین رہنماؤں کرامت علی، حبیب الدین جنیدی، لیاقت علی ساہی، قمر الحسن، شفیق غوری اور میر ذوالفقار علی نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی کے معاملات میں پندرہ سال گزرنے کے با وجود کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین ا لاقوامی تنظیم محنت ILO اس بارے میں اپنی سفارشات 2013 میں دے چکی ہے اور حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے کہ ان سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے مگر طویل عر صہ گزرنے کے با وجود محنت کشوں کو کوئی ریلیف حاصل نہیں ہو سکا۔ صوبائی سیکرٹری محنت اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ آجر سے قانون اور عدالتی احکامات پر عمل کرائیں مگر وہ ایسا کرنے میں قطعی ناکام رہے ہیں۔ ہوٹل انتظامیہ صوبائی سیکرٹری محنت کی جانب سے بلائی گئی میٹنگز میں شرکت کرنے سے احتراز کرتی ہے بلکہ وہ کسی بھی ایسے فورم کو اہمیت نہیں دیتی جہاں قانون کی بالادستی اور عدالتی احکا مات پر عمل درآمد کی بات کی جائے۔ ان رہنماؤں نے مشترکہ طور پر وزیر محنت اور سیکرٹری محنت حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی کی انتظامیہ حکومت سندھ کے احکا مات کو نظر انداز کر رہی ہے تو ان کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کی جائے بلکہ حکومت پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کا مکمل اور عوامی اعلان کے ساتھ بائیکاٹ کرے، جبکہ آجران کی تنظیموں اور نمائندوں نے بھی اس بات
پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی کی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور لا قانونیت کے باعث نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ آجران کے نمائندوں کو بھی بین الااقوامی فورمز پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان رہنماؤں نے مزید کہا ہے کہ اگر حکومت سندھ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی کے محنت کشوں کو انصاف کی فراہمی میں نا کام رہتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ حکومت کی بیوروکریسی میں شامل وہ عناصر کامیاب ہیں جو صوبہ میں محنت کشوں کے حقوق کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ محنت کشوں کے نمائندوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر حکومت سندھ نے اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا تو ہم احتجاجی اقدا مات پر مجبور ہوں گے اور یہ احتجاج اگلے ماہ ہونے والی سہ فریقی سندھ لیبر کانفرنس میں بھی جاری رہے گا۔