نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختونخوا کا متحد ہو کر کام کرنے کا عزم

202

نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا نے صوبے کے ان مزدور محنت کشوں کے حقوق کے حصول کے لیے جو کارخانہ دار اور سرمایہ دار طبقے کے زیر سایہ کام کرتے ہیں ایک گرینڈ الائنس جس کو متحدہ مزدور الائنس خیبر پختونخوا کا نام دیا گیا کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس الائنس کے چیئرمین نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختونخوا کے صوبائی نائب صدر اور جماعت اسلامی پی کے 15 کے نامزد امیدوار معتبر سیاسی شخصیت انجینئر امیر عالم خان کو بنایا گیاہے۔ اس الائنس کے قیام کا سہرا نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا کے سر ہے۔
متحدہ مزدور الائنس خیبر پختونخوا میں محنت کش لیبر فیڈریشن، محنت کش لیبر یونین پاکستان ٹوبیکو کمپنی، فلپ مورس پاکستان لمیٹڈ، شمع گھی ملز، لکی سیمنٹ فیکٹری اور کئی دوسری یونینز شامل ہیں۔ اس الائنس میں انصاف لیبر ونگ کے پی کے، کسان راج کے پی کے، مزدور کسان پارٹی اور جماعت اسلامی کے رہنما شامل ہیں۔
متحدہ مزدور الائنس خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام مزدور محنت کشوں کے حقوق کے حصول کے لیے کئی بڑے مظاہرے بھی ہوئے۔ جن میں سب سے بڑا پروگرام خوشحال خان خٹک لائبریری اکوڑہ خٹک میں مزدور کنونشن تھا جس میں 250 مزدور رہنماوں نے شرکت کی۔ طلا محمد صوبائی صدر نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا کے زیر صدارت ہوا اور محترم آصف لقمان قاضی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی (جو مرکزی امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے سیاسی مشیر بھی ہیں۔) متحدہ مزدور الائنس خیبر پختون خوا کی کاوشوں سے شمع گھی ملز سے نکالے گئے 45 مزدوروں کو بحال کیا گیا۔ لکی سیمنٹ فیکٹری سے نکالے گیے محنت کشوں کی بحالی بھی نیشنل لیبر فیڈریشن کے صوبائی نائب صدر سمیع اللہ اور حاجی عقیل ڈومرہ ڈیرہ اسما عیل خان زون کے صدر و لکی سیمینٹ فیکٹری کے ذمہ دار سجاد کے سر ہے جوکے این ایل ایف کے ذمہ دار بھی ہیں۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی سے جبری نکالے گئے 144 مزدور محنت کشوں کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اسی سلسلے میں 19 ستمبر 2017 کو این ایل ایف KPK کی قیادت میں پریس کلب پشاور کے سامنے ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کے بعد صوبائی اسمبلی ہال تک ریلی نکالی گئی اور صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا گیا۔ تقریباً پورے دن پولیس نے محاصرے میں رکھا کیونکہ جہاں دھرنا ریڈ زون میں تھا۔ کور کمانڈر پشاورکے گھر کے بالکل سامنے اور ہائی کورٹ بلڈنگ کے قریب جبکہ دائیں جانب فرنٹیئر کانسٹبلری کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ایسی جگہ پر دھرنا دینا دل گردے والی بات ہے مگر این ایل ایف کی صوبائی قیادت کی موجودگی میں تمام محنت کش متحد رہے اور پورے دن مذاکرات جاری رہنے کے بعد شام 6 بجے دھرنا اس یقین دہانی پر ختم کیا گیا کہ ڈائریکٹر لیبر KPK کے ساتھ دو بار مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا اسد قیصر کی سربراہی میں چاررکنی کمیٹی قائم کی جائے جس میں دو ارکان حکومت اور دو ارکان اپوزیشن سے ہوں۔ جو مختلف فیکٹریوں سے جبری نکالے گئے محنت کشوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ تیار کر کے اس کا حل نکالے گی۔
نیشنل لیبر فیڈریشن KPKرہنماؤں کا دورہ
نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کے ایک پریس ریلیز کے مطابق نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا کے صوبائی صدر طلا محمد نے سوات کا تفصیلی دورہ کیا۔ ان کے ساتھ صوبائی جنرل سیکرٹری فلک تاج بھی تھے۔ طلا محمد نے درگیی، بٹ خیلہ، منگورہ اور سوات میں این ایل ایف کے کارکنان و ذمہ داران کے ساتھ میٹنگ کی اور اجتماعات سے خطاب کیا۔ نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا کے صوبائی صدر طلا محمد نے ذمہ داران و کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنے صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کر کے سرمایہ دارانہ و جاگیر دارانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں سرمایہ دارانہ و جاگیر دارانہ نظام اپنی آخری ہچکی لے رہا ہے۔ مزدور مسائل پر بات کرتے ہوئے صوبائی صدر این ایل ایف کے پی کے طلا محمد نے کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا نے مزدوروں اور محنت کشوں کی ہر فورم پر نمائندگی کی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر محنت، ڈائریکٹر لیبر اور سیکرٹری لیبر کے ساتھ وقتاً فوقتاً ملاقاتیں کی ہیں۔ موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپنے آپ کو متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کہنے والی پی ٹی آیی نے سب سے زیادہ اپنے دور حکومت میں محنت کشوں کا استحصال کیا ہے۔ طلا محمد نے کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن محنت کشوں کا واحد سہارا ہے جو بغیر ذاتی مفاد کے محنت کشوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ بعدازاں طلا محمد اور فلک تاج نے ضلع سوات کے جماعت اسلامی کے امیر محمد امین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور سوات میں مزدور محنت کشوں کے مسائل پر تفصیل سے بات کی۔ ضلعی امیر نے نیشنل لیبر فیڈریشن خیبر پختون خوا کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔