حافظ محمد ادریس
ختم نبوت کے منکرین اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ فتنہ آپؐ کے دور ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ جہاں آپ ؐنے اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا، وہیں آپ ؐ نے قیامت تک نمودار ہونے والے ان کذابین کا بھی تذکرہ فرمایا تھا۔ بندۂ مومن کبھی ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچ سکتا کہ آپؐکے بعد کوئی نبی اور رسول آسکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ کا تو اس باب میں قول فیصل ہے جو کذاب نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس سے یہ پوچھنا بھی کہ وہ اس کی دلیل پیش کرے۔ ایمان سے خارج کردیتا ہے۔ آج کل یہ فتنہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ ان کذابین میں سے بنو حنیفہ کا سردار، مسیلمہ کذاب نہایت خطرناک تھا۔ اس کا انجام بھی عبرت ناک ہوا۔ یہ شخص بہت دھوکے باز، عیّار، مکّار اور چرب زبان تھا۔ اس نے آپؐ کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ یہ بدبخت کہا کرتا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی اللہ کے رسول ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں۔ نبی اکرم ؐ نے یہ سن کر اسے کذّاب قرار دیا تھا۔ مسیلمہ کا ایک خط تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے، جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آپؐ کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے۔ نبی اکرم ؐ کے وصال سے تھوڑا ہی عرصہ قبل اس نے آپؐ کے نام جو خط لکھا وہ مورخ طبری نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے: (جلد سوم ص ۱۴۶۔۱۴۷)
مِنْ مُسیلمہ رسول اللہ الیٰ محمدٍ رسول اللہ سلامٌ علیک فانی اُشرکتُ فی الامر مَعَکَ۔مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے، محمد رسول اللہ کی طرف، آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔
مسیلمہ اور اس کے پیروکار بہت مکار، فریبی اور دھوکے باز تھے۔ وہ اذان اور نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ اذان میں اشھدان محمدا رسول اللّٰہ کے بعد اشھد ان مسیلمۃ رسول اللّٰہ کہا کرتے تھے۔ نبی اکرم ؐ نے اس کا خط ملتے ہی اس پر لعنت بھیجی اور اسے کافر وکذّاب قرار دیا۔ بنوحنیفہ کے بیش تر مسلمان نیک نیتی کے ساتھ سمجھتے تھے کہ مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہے۔ اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کے بعد انہوں نے اس کی اتباع شروع کردی۔ اس کے باوجود کچھ مخلص اور فہیم اہلِ ایمان اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔ اس کے خلاف آپ ؐ فوج بھیجنا چاہتے تھے، مگر اجل مسمّٰی نے آپ کو مہلت نہ دی۔ یہ اہم کام سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں انجام دیا گیا۔
یہ شخص دھوکا دینے کے لیے کبھی نرمی اختیار کرتا اور کبھی اپنی دھونس جمانے کے لیے ظلم وستم کی انتہا کردیتا تھا۔ امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ سورۂ النحل کی آیت نمبر۱۰۶میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کرلیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ (النحل: ۱۶:۱۰۶)
اس کی تفسیر میں امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آپ ؐ کے صحابہؓ اس رخصت کے باوجود عمومی طور پر عزیمت کا راستہ اختیار کرتے تھے اور جان کی قربانی دے دیتے تھے، مگر کفریہ کلمہ اپنی زبان سے نہیں نکالتے تھے۔ سیدنا حبیب بن زید انصاریؓ (سیدہ ام عمارہ کے فرزندِدل بند) یمامہ کے علاقے سے گزر رہے تھے۔ مسیلمہ کو اس کی اطلاع ملی۔ مسیلمہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور کہا: ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ مسیلمہ کذّاب ہے۔ اس نے کہا: تم اگر یہ گواہی نہ دو گے تو میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے فرمایا: تمہیں جو کچھ کرنا ہے کرلو، میں ہر گز یہ گواہی نہیں دوں گا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ ان کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ ہاتھ کٹنے کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ پھر ان کا ایک پاؤں کاٹا گیا، مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ پھر دوسرا ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹا گیا۔ امام ابن کثیرؒ کے الفاظ میں: فَلَمْ یَزَلْ یَقْطَعُہٗ اِرْباً اِرْباً وَھُوَ ثَابِتٌ عَلٰی ذَالِکَ۔ یعنی انہیں ایک ایک عضو کاٹ کر شہید کیا گیا، مگر وہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ (تفسیرابن کثیر، ج۴، ص۲۲۸، مطبوعہ، بیروت)
مسیلمہ کذاب کے خلاف سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے سیدنا عکرمہؓ بن عمروکو ایک فوج دے کر روانہ کیا اور حکم دیا کہ تمہارے پیچھے شرحبیل بن حسنہؓ ایک مزید دستہ لے کر آرہے ہیں۔ ان کے آنے تک جنگ شروع نہ کرنا، جب وہ پہنچ جائیں تو مسیلمہ پر حملہ کردینا۔ اہلِ یمامہ نے مضبوط قلعے تعمیر کر رکھے تھے اور مسیلمہ کے گرد مختلف قبائل کے مرتدین اور جنگجو بھی ہتھیار بند ہو کر پہنچ چکے تھے۔ سیدنا عکرمہؓ اور ان کے ساتھی جب اس علاقے میں پہنچے تو انہوں نے سیدنا شرحبیلؓ اور ان کے ساتھیوں کا انتظار کرنے کے بجائے مسیلمہ سے جنگ چھیڑ دی۔ چوں کہ ان کی تعداد کم تھی اور دشمن پہلے سے تیار بیٹھا تھا، اس لیے مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو جب یہ اطلاع ملی تو انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور ایک خط میں سرزنش کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے کیوں عجلت سے کام لیا اور شرحبیل کے پہنچنے سے قبل جنگ کیوں چھیڑ دی، خیر جو مقدر تھا وہ ہوا، اب واپس مدینہ آنے کے بجائے مہرہ اور عمان کے مرتدین کے خلاف لڑنے کے لیے حذیفہؓ اور عرفجہؓ سے جاملو۔ جب وہاں سے فارغ ہوجاؤ تو پھر حضرموت اور یمن کے مرتدین سے لڑنے کے لیے مہاجر بن ابی امیہؓ کے پاس چلے جانا۔
اس عرصے میں سیدنا خالدؓ بھی اپنی مہمات سے فارغ ہوچکے تھے اور مالک بن نویرہ کے قتل کی شکایات پر مدینہ آکر خلیفۂ رسولؐ کی خدمت میں اپنا موقف پیش کررہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان کی معذرت اور وضاحت قبول کرتے ہوئے انہیں مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر سپہ سالار بنا کر بھیجا اور سیدنا شرحبیلؓ کو حکم دیا کہ وہ خالدؓ کے لشکر میں شامل ہو کر مسیلمہ کے مقابلے پر جہاد میں حصہ لیں۔ سیدنا خالد کے لشکری تو پہلے سے ان علاقوں میں موجود تھے۔ ان کی مدد کے لیے مدینہ سے انصار ومہاجرین صحابہ پر مشتمل دو دستے بھی روانہ کیے گئے۔ ان صحابہؓ میں بہت سے حفاظ وقرأ بھی شامل تھے اور وہ اصحاب بھی بڑی تعداد میں تھے، جو بدر واحد اور احزاب وحنین کے معرکوں میں آپؐ کے ساتھ جہاد میں حصہ لے چکے تھے۔ مہاجر صحابہؓ کے امیر سیدنا ابوحذیفہؓ اور انصار کے امیر سیدنا ثابت بن قیس انصاریؓ تھے۔ فوج کے علم بردار سیدنا عمربن خطابؓ کے بھائی سیدنا زید بن خطابؓ مقرر کیے گئے۔ (البدایۃ والنہایۃ، امام ابن کثیر، المجلد الاول، ص ۱۳۱۸۔۱۳۱۹)
جنگ یمامہ تاریخ اسلام کے عظیم ترین اور اہم ترین معرکوں میں شمار ہوتی ہے۔ سیدنا خالدؓ اپنی فوج کو لے کر اس علاقے میں پہنچے تو دیکھا کہ مسیلمہ چالیس ہزار جنگجو اپنے گرد جمع کیے اپنے قلعے کے باہر عقربا کے مقام پر خیمہ زن ہے۔ اس کے سامنے کھلے میدان میں سیدنا خالد بن ولیدؓ نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔ اس عرصے میں یہاں پہنچنے سے قبل سیدنا خالدؓ کا آمنا سامنا بنوحنیفہ ہی کے ایک اور کافر سردار مجاعہ بن مرارہ کے ساتھ ہوا، جو بنو عامر اور بنو تمیم پر شب خون مارنے کے بعد مال غنیمت لے کر واپس جارہا تھا۔ اس کے سب ساتھیوں کو قتل کردیا گیا اور سیدنا خالدؓ کے حکم سے اسے جنگی حکمت عملی کے پیش نظر قید کردیا گیا۔
سیدنا خالدؓ کے میدان جنگ میں پہنچنے کے دوسرے روز باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی۔ دشمن کا ایک جنگجو میدان میں نکلا اور مسلمانوں کو مقابلے کے لیے للکارا۔ سیدنا زید بن خطابؓ اس کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے اور اسے تہہ تیغ کردیا۔ دشمن کا یہ جنگجو رجال بن عنفوہ تھا جو اپنی بہادری کے لیے مشہور تھا۔ اس کے قتل پر مسیلمہ کی فوج بپھر کر مسلمانوں پہ حملہ آور ہوئی۔ یہ حملہ اتنا سخت تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں قدرے کمزوری نظر آنے لگی۔ اس موقع پر علم بردرانِ لشکر سیدنا زید بن خطابؓ سیدنا ثابت بن قیسؓ اور ان کے دیگر ساتھی بڑی پامردی سے لڑے اور مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دونوں علم برداروں نے جہاد کی عظمت، شہادت کا مقام ومرتبہ اور جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج آگے بڑھنے کا دن ہے۔
سیدنا ابوحذیفہؓ اور سیدنا سالمؓ مولیٰ ابوحذیفہؓ نے بھی اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے دشمن پر زوردار حملہ کیا۔ وہ بھی مسلمانوں کو مسلسل تلقین کیے چلے جارہے تھے: ہَلَمُّوْا اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی آؤ جنت کی طرف بڑھو۔ بنوحنیفہ بڑے ماہر تیرانداز تھے۔ مسلمان بنوحنیفہ کے تیراندازوں کے تابڑ توڑ حملوں سے منتشر ہونے لگے تو ان صحابہؓ کے ساتھ سیدنا عمار بن یاسرؓ بھی آگے بڑھ کر صحابہؓ کو پکارنے لگے: اے اہلِ ایمان! میں عمار بن یاسرؓ ہوں، میری طرف آؤ۔ وہ سامنے جنت ہے، جنت سے کیوں فرار اختیار کررہے ہو۔ سیدنا عمارؓ اس نازک مرحلے پر ایک بلند ٹیلے پر کھڑے تھے اور ان کا ایک کان شہید ہوچکا تھا، مگر اس تکلیف سے بے پروا وہ مردانہ وار دشمن سے برسرپیکار تھے، جب کہ سیدنا سالمؓ نے ایک گڑھا کھود کر اس میں پاؤں جما لیے اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
(جاری ہے)