اسما صدیقہ
(گزشتہ سے پیوستہ)
مگر یہ عمر اتنی گہرائی میں جانے کی تھوڑی ہوتی ہے سوائے اس کے کہ حدود کا پتا بھی ہو اور احساس بھی
عمر کی لڑکی کو کیا نہیں مل جاتا یامگر عقل و شعور کی دنیا یا تو اسے خوش فہمی میں فٹ کرتی ہے غلط فہمی میں۔
اس کی چادر سر سے ڈھلک کر کندھوں پہ آگئی تھی کہ چاند بدلی سے نکلا تھا اس کو وہ پرنس لگا پہلے ہی رامین ماہا کو پرنسس کہہ چکی تھی اکثر ڈراموں اور فلموں میں لو اسٹوری کا آغاز ایسے ہی سین تو ہوتے ہیں بس ایک نظر، ایک جملہ چند ثانیے چند منٹ مگر اس میں کیا نہیں ہے۔
رامین پہلے بھی بتا چکی تھی کہ وہ ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ہیں تب اس نے ایسی کوئی توجہ نہیں دی تھی مگر آج سر سری سی منٹوں کی ہونے والی ملاقات یا تعارف خوابوں کے رنگ کو تیز کرگیا بس ایسا ہی کوئی یا اس جیسا کوئی دل مچل کر یہی کہہ رہا تھا حالانکہ دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں… وہاں تک
مگر یہ عمراتنی گہرائی میں جانے کی تھوڑی ہوتی ہے سوائے اس کے کہ حدود کا پتہ بھی ہو اور احساس بھی ’’اتنا گرم مت ہوا کریں عبدالکریم صاحب ڈنڈا چلانا ہرمسئلے کا حل نہیں گرم خون ہے بچوں کا ذرا آرام سے ورنہ اس عمر میں باغی ہوجاتے ہیں‘‘ ماہ جبیں شوہر کے پیر دباتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’ارے اگر انکو لگام نہ دی جائے تو نسل بگڑ کر خاندان بھر کا نام اچھالے گی ایک تو اندر سے چاہے کتنے کنگلے فقیر ہو مگر نیتیںنوابوں والی دیکھ لو عجیب بھنگ پی رکھی ہے سب نے رمیز کالج میں آگیا ہے کوچنگ سے سیدھا آنے کے بجائے کبھی پارک میں یار دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے کبھی کسی دکان پر سب پتہ چل جاتا ہے پھر اس کی ضد الگ ہے کہ موٹر بائیک لے دوں تاکہ اور خاک اڑاتا پھرے مگر اس کو سمجھا لو انٹر اچھے نمبروں سے پاس کرے گا تب ورنہ میرے ساتھ دکان پہ بیٹھا کرے اسی لیے تو معیز کو مدرسے میں ڈالا ہے۔ وہاں سخت نگرانی میں بچے ٹھیک رہتے ہیں تم الگ سب کو ڈھیل دے دیتی ہو اس سے وہ اور لا پرواہ ہوجاتے ہیں‘‘ عبدالکریم صاحب سختی کے ٹھیک جواز پیش کررہے تھے مگر سختی ہر وقت کی اچھی تو نہیں ہوتی۔
’’اچھا بس کریں ایسے بھی ہمارے بچے گئے گزرے نہیں مگر ربیعہ آپا ماہا کے لیے رشتہ بتارہی تھیں اچھے شریف لوگ ہیں لڑکا ایک کمپنی میں کلرک ہے انٹر تک تعلیم ہے اور ڈپلومہ ہولڈر ہے ماں نے بیوہ ہونے کے بعد سلائی کڑھائی کرکے بچوں کو پالا تعلیم دلائی ماشاء اللہ دو بہنوں کی شادی ہوچکی ہے بس ایک چھوٹا بھائی اور بہن اور ہے۔ کچھ آپ کا جمایا جوڑا کچھ میں نے بچت کی ہے دو تین ماہ میں اور کمیٹیاں بھی نکل آئیںگی۔ اب بچی کو رخصت کر ہی دیں ضمیرسے ماشاء اللہ اگلے ہفتے اکیس سال کی ہوجائے گی‘‘ ماہ جبیں نے ایک خوش کن اطلاع دیتے ہوئے شوہر کو ٹھنڈا کیا مگر دانستہ موبائل میں موجود جواد حسن کی تصویر دکھانا مناسب نہ سمجھا۔
’’اچھی بات ہے یہ تو بلا لو ان لوگوں کو کسی دن پتہ تو چلے کون اور کیسے لوگ ہیں ہمارے یہاں بہت اچھا رشتہ کیسے آسکتا ہے‘‘ وہ جیسے تشکر اور تفکر کے ملے جلے جال میں تھے۔
’’مگر … وہ … دیکھتے! وہ ہچکچاتے ہوئے اتنا ہی کہہ سکیں۔
’’مگر کیا پوری بات کیوں نہیں کرتیں؟ معاملہ کیا ہے؟رک کر انہوں نے سوال کیا۔ (جاری ہے)
’’ہاں بتائے بغیر کام کیسے چلے گا دیکھئے آپ کے مرحوم ماں باپ کا واسطہ بیٹی کا معاملہ ہے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کا کام ہے دراصل ماہا راضی ہو کے نہیں دے رہی ہے کہتی ہے ابھی ٹھہرجائیں انتظار کریں یہ ملا لوگ لگ رہے ہیں ماسی بنا کے رکھ دیںگے۔ پابندیوں میں ڈال کر گھونٹ دیںگے بہر حال بڑی گھبرا رہی ہے بچی‘‘ ماں نے بروقت تمام سچی بات سامنے رکھ ہی دی۔ ’’دماغ خواب ہوگیا ہے لڑکی کا۔ وہ اچک کر بولے آج کل تو ہر جمعرات کو عشاء کے بعد مولوی صاحب کے بیان میں جارہا ہوں وہ خود لڑکیوں سے اچھے سلوک کی تلقین کررہے تھے اور شادی کے لیے پہلے سے رضا مندی لینے پہ زور دے رہے تھے ایسی کوئی زور زبردستی مذہب میں نہیں بلکہ میرا غصّہ کچھ دنوں سے تم خود دیکھ رہی ہو کافی کم ہورہا ہے مگر دیکھو لڑکی کہیں پسند نا پسند کے چکر میں تو نہیں پڑ گئی آج کل موبائل اور ٹی وی چینلز نے بڑا جال بچھایا ہوا ہے لیکن حقیقت ہے کہ جال میں پھنسنا اور ہے اور لڑکی کی رضا مندی اور بات وہ تشویش کے لہجے میں تھے۔
’’نہیں چکر تو کچھ نہیں بس اس کی دوست کے گھر والے آنے کو کہہ رہے تھے اس کا بھائی ہے اچھی جاب پر مگر ڈر بھی لگتا ہے ہر جگہ دھوکہ دینے والے بھرے پڑے ہیں‘‘ امی خاصے تذبذب میں تھیں۔
’’ٹھیک ہے دونوں رشتوں پہ غور کرو کوئی ہرج نہیں بلکہ بہتر ہے کہ ماہا کے اطمینان کے لیے پہلے وہ جو کہہ رہی ہے ان ہی لوگوں کو بلاکر دیکھ لو مناسب لگے تو ٹھیک ورنہ یہ والے رشتے کو انکار نہ کرنا شریف لوگ لگتے ہیں‘‘ عبدالکریم صاحب کو جیسے جلدی تھی مگر بچی کا اطمینان اور اعتماد انہیں بھی مقدم تھا۔
’’ہاں سنو تمہاری بہنیں تو دوسرے شہر میں ہیں ابھی کہاں آسکیںگی، زینب کو اس دن بلا لیتا ہوں بھتیجی کو سمجھا لے گی‘‘
’’وہ اپنی بہن کا نام لیتے ہوئے معاملے کو مزید آسان کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ ’’جی اچھا یہ مناسب بات ہے اس کو اچھی سمجھ بوجھ ہے، چھوٹی ہونے کے باوجود‘‘ امی نے بھی اپنی نند کی تعریف کی جس سے بابا اور خوش ہوگئے۔
SMS ٹون پر ماہانے موبائل اٹھایا رامین کا میسج تھا ستاروں کی کہکشاں کے ساتھ سجا ہوا
’’تم اس دن کتنی پیاری لگیں میرے علاوہ بھی کسی اور کو ہیر اسٹائل اور ڈریسنگ بھی لاجواب تھی ذرا سا میک اپ کمال کر گیا تھا۔ میں تمہارے یہاں کب آئوں۔ ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے دیکھنا لائف بدل جائے گی اور سنو بھائی کا بھی یہی خیال ہے جو میرا ہے‘‘ یہ میسج کیا تھا خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی یقین دہانی صاف نظر آرہی تھی ’’ہائے اﷲ ابھی تو تمنا ہی مچل رہی تھی اس نے دعا کا کوئی خاص روپ بھی نہیں دھارا تھا اور قبولیت نظر آرہی تھی‘‘ وہ زیر لب کہہ رہی تھی۔
سرپرائز: زندگی بدل جائے گی کیا واقعی؟ میں بھی اونر بن جائوںگی گلیمر سے بھرپور دنیا میرے ساتھ ہوگی۔ وہ جیسے خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہی تھی۔ پھر اس سے اور رہا نہ گیا ہمت کرکے امی کو بتاہی دیا۔ اشارے تو وہ پہلے ہی دے چکی تھی ابھی ٹھیرجائیں ذرا انتظار کریں کہہ کر ’’نہ بھئی ہوا میں تیر نہیں چلاتے ہم کو ہم جس حیثیت کے لوگ ہیں حمیں اسی میں رہنے دو‘‘ وہ انکار کا اظہار کرکے اس کو دلچسپی کم کرنا چاہ رہی تھیں۔
’’مگر امی ایسا کون سا غلط کام ہوگا بس دوست اور اس کے گھر والے آپ سے ملنے آنا چاہتے ہیں۔ بابا کو ابھی مت لوائیں پھوپھو کو بلالیں وہ بھی دیکھ لیںگی‘‘ وہ خوشی سے بے قرار تھی۔
’’چلو تمہاری پھوپھو سے بھی رائے مشورہ کرتی ہوں کل ہی بلالیتے ہیں ان لوگوں کو‘‘ وہ یکدم تیار ہوگئیں جوکہ پہلے ہی اندر سے تیار تھیں مگر ماہا اس کا اظہار کرنا نہیں چاہتی تھیں۔
اوپر پھوپھو نے بھی یہی صلاح دی کہ آنے والوں کو آنے دیں باقی آگے فیصلے کااختیار تو ہمارے پاس ہے بس اﷲ بچی کا نصیب اچھا کرے وہ بابا سے کافی چھوٹی ہونے کے باوجود بہت سلجھی ہوئی سمجھ دار خاتون تھیں علمی حلقوں اور دینی لیکچرز میں شریک رہتی تھیں۔ آج ماہا کی خوشی دیدنی تھی کچھ تو جوانی دیوانی ہوتی ہے اور کچھ جال بھی دلکش بچھائے جاتے ہیں، شکاری بڑے شاطر ہوتے ہیں۔
کِسی نے بات کی تھی ہنس کے شاید
زمانے بھر سے ہیں ہم خوش گماں سے
گھر میں آنے والوں کے لیے سارا اہتمام جاری تھا ماہا کبھی خود کو نکھارنے سنوارنے اور آئینہ دیکھنے میں مصروف ہوتی کبھی امی اور پھوپھو کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹاتی کبھی صفائی اور ترتیب میں لگ جاتی اسے قرار تھا کہاں آج؟
’’آنٹی ماہا اتنی پیاری دوست ہے میری میں نے کئی بار آنے کا سوچا آپ سے ملنا چاہتی تھی آج یہ آرزو بھی پوری ہو ہی گئی شکر ہے‘‘ رامین خو ش ہوکر کہہ رہی تھی۔
’’ضرور بیٹا یہ تمہارا گھر ہے شوق سے آیا کرو لو یہ شامی کباب اور پیزا تو لو گھر میں بنایا ہے ماہانے‘‘ ماہ جبیں بڑی محبت سے کہہ رہی تھیں۔
’’سب لیا ہے آنٹی اور بھی بہت لوںگی‘‘ وہ پوری بے تکلفی سے چیزوں سے انصاف کررہی تھی بڑے اچھے ماحول میں چائے پی گئی۔
امی اور پھوپھو انتظار میں تھیں کہ وہ بات تو کرے مزید کچھ تعارف تو ہو خاندان کا۔‘‘
’’ تو بیٹا آپ اکیلے ہی آئی ہیں امی بھی ساتھ آجاتیں تو اچھا تھا ان سے بھی مل لیتے‘‘ امی نے بات خود آگے بڑھائی ، امی نے بات خود آگے بڑھانے کی کوشش کی‘‘
بالکل آنٹی امی ذرا مصروف ہیں آج کل ابھی تو میں ماہا کے لیے سرپرائز لے کر آتی ہوں بھائی بھی آئے ہیں باہر گاڑی میں ہیں‘‘ وہ خوش ہوکر بتارہی تھی۔
’’ماشااﷲ بھائی بھی آئے ہیں، بلائو نا ان کو بھی‘‘ پھوپھو یک دم چونک کر بولیں۔ ماہا کے چہرے پر خوشی کے رنگ تیز ہورہے تھے۔
’’نہیں ابھی نہیں ان کو ذرا کام سے جانا ہے بات اوکے ہوگی تو آئیںگے پھر‘‘ وہ سپاٹ سے لہجے میں بولی۔
’’یہ ساری چیزیں چائے کے ساتھ ٹرے میں رکھو میں رمیز سے بھجوادیتی ہوں گاڑی میں‘‘ امی بے قراری میں الل ٹپ سی ہونے لگیں۔
’’ارے بھابی کیا کرتی ہیں تحمل سے رہیں ایسا نہیں ہوا کرتا‘‘ ساتھ بیٹھی پھوپھو نے امی کے کان میں سرگوشی کی وہ اپنے بھائی کی ’’تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو والی بات سے متفق تھیں کہ ابھی تو ٹھیک سے تعارف بھی نہیں ہوا تھا۔
’’بیٹے ابھی اوکے کی منزل تو دور ہے بہت کئی بار آنے جانے اور چھان بین کے بعد ہی معاملہ طے ہوتا ہے‘‘ امی بولیں!
’’بھائی در اصل اصولوں کے پابند ہیں آپ کی منظوری کے بغیر اوکے نہیں ہوگا کچھ بھی‘‘ کیا ماہا نے آپ کو کچھ نہیں بتایا۔ رامین نے اب بات واضح کی اور بڑی ادا سے شانوں سے ڈھلکا آنچل درست کیا۔
’’ماہا نے آنے کا بتایا تھا کہ گھر والوں کے ساتھ آئوگی اور بس‘‘ پھوپھو نے کھری بات کی ماحول پہ اچانک سے پر اسرار پٹ سی چھانے لگی۔
ہاں میں نے دراصل ماہا کو اشارے دیے تھے کہ گھر آکر سرپرائز دوںگی بھائی کو ایک کیوٹ سی چارم فل لڑکی تلاش تھی کمپنی ایڈ کے لیے وہ ماہا کی صورت میں انہیں مل گئی یقین کریں بہت لڑکیوں کو ریجیکٹ کرچکے ہیں۔ (جاری ہے)