حسیب عماد صدیقی
طاقت کا حصول اور اس کے ذریعے وسائل پر قبضہ انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ازل سے انسانی سماج اسی ایک خواہش کے گرد گھوم رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں کسی شخص کی انفرادی جسمانی طاقت اسے ایک گروہ پر غلبہ عطا کرتی تھی اور کسی بھی جنگ میں دو گروہ اپنے ایک ایک طاقتور جنگجو کو میدان میں اتارتے تھے۔ اس طرح ہار جیت کا فیصلہ ہو جاتا تھا۔ بعد میں فولادی ہتھیاروں کا مہارت سے استعمال کسی گروہ کی طاقت کا تعین کرنے لگا۔ رفتہ رفتہ ہتھیاروں کے ساتھ تیزی سے حرکت کرتی منظم فوجوں کا ظہور ہوا۔
مصرکے ایک فرعون نے سریع الحرکت فوج کی بنیاد ڈالی جو گھوڑوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی رتھ میں سوار تیر اندازوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ یہ فوج نہایت تیز رفتاری سے حرکت کرتی اور رتھ میں سوار تیر انداز مخالفین پر چلتی گاڑی سے تیر برساتے۔ اس فوج کا مخالفین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور اس کی بدولت فراعین نے بہت بڑے علاقے پر طویل عرصے تک حکومت کی۔ اسی طرح چنگیز خان اور عربوں نے بھی گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھ کر تیز رفتاری سے حرکت کرنے والی افواج تشکیل دیں اور بے مثال کامیابیاں حاصل کی۔ زرہ بکتر سے لیس پیدل افواج میں رومیوں کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ رومیوں نے بھی نہایت منظم افواج تشکیل دیں اور یورپ کے بیش تر علاقوں پر طویل عرصے تک اپنا تسلط برقرار رکھا۔ بارود کی ایجاد نے طاقت کو نئے معنی دیے اور جن اقوام نے بارود کے استعمال پر مہارت حاصل کرلی اور بعد میں مشینی طاقت سے بارود کو دور تک پھینکنے کا ہنر سیکھ لیا انہوں نے دنیا میں دور دور تک فتوحات حاصل کیں اور دیگر اقوام کے وسائل اور علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ نیوکلیر اور کیمیائی ٹیکنالوجی کی ایجاد نے الیکٹرونک اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے امتزاج سے ہیبت ناک فوجی قوت تشکیل دی۔ آج کل کے جدید دور میں ان ٹیکنالوجیوں پر جن کی اجارہ داری ہے وہی دنیا کی طاقتور ترین اقوام ہیں۔
جدید اصطلاح میں فوجی طاقت کے ساتھ اچھی معیشت اور جدید تحقیق کے ادارے بھی بہت ضروری ہیں اور ان تینوں عوامل کا توازن کسی بھی قوم کو باقی دنیا پر من مانی کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی تجارت اسلحے کا کاروبار ہے اور سب سے بڑی سرمایہ کاری بھی اسی سے منسلک ہے۔ اس سرمایہ کاری سے انسان کی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔
اس طویل تمہید کا لب لباب یہ ہے کہ دنیا میں ازل سے طاقت کی حکمرانی ہے جس کے پاس طاقت ہے اسی کا سکہ چلتا ہے۔ بظاہر مختلف ملکوں کے درمیان تنازعات طے کرنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت کئی ادارے موجود ہیں۔ لیکن یہ سب ادارے صرف طاقتور کی طرف داری کرتے ہیں۔ ایک مثل موجود ہے کہ اگر تنازع دو چھوٹی اقوام کے درمیان ہو تو اقوام متحدہ انصاف کرے گا، اگر ایک طاقتور اور کمزور ملک کے درمیان ہو گا تو کمزور ملک غائب ہو جائے گا، اور اگر دو طاقتور اقوام کے درمیان ہو گا تو اقوام متحدہ غائب ہو جائے گی۔
دنیا کے تمام مذاہب نے طاقت کو نظم و ضبط کا پابند کیا اور اس کے وحشیانہ استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اسلام نے باضابطہ طاقت کے استعمال کی حدود قیود متعین کیں اور اس کے بے جا استعمال پر پابندی عائد کی۔ اسلام نے جنگ لڑنے کے لیے بھی اصول وضع کیے۔ بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور ہتھیار ڈالنے والوں کو تحفظ دیا۔ کھیتیاں، چراگاہیں، پانی کے ذخائر، راستوں، ہرے بھرے درخت اور گھروں کو نقصان پہچانے سے منع کیا۔ اسی طرح عیسائیت نے بھی طاقت کے بے جا استعمال پر پابندی عائد کی اور عیسائی حکمرانوں کو ظلم و ستم سے روکا۔ لیکن بعد میں کلیسا خود اتنا طاقتور ہو گیا کہ اس نے اپنی فوج بنا لی۔ اور پھر خود کلیسا کے مظالم تاریخ کا حصہ ہیں۔ مغربی اقوام نے کلیسا سے چھٹکارا پانے کے بعد مذہب کو اپنی اجتماعی حیات سے خارج کر کے اسے فرد کا ذاتی معاملہ بنا دیا اور طاقت کے استعمال کے اپنے قوانین وضع کر لیے۔ انہوں نے اپنی قوموں کے ساتھ تو انصاف کیا لیکن دوسری اقوام کے معاملے میں طاقت کا نہایت بے رحمانہ استعمال کیا۔
جاپان کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہایت غیر منصفانہ اور بے جواز تھا جس میں لاکھوں بے گناہ افراد یک لخت لقمہ اجل بن گئے۔ یہ انسانیت کے خلاف مکروہ ترین فعل تھا، لیکن دنیا کی سب سے مہذب کہلانے والی قوم نے صرف اپنی طاقت سے مرعوب کرنے کے لیے انسانیت کے خلاف یہ جرم کیا اور انسانی تاریخ اس فعل کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس ہتھیار کی طاقت نے دوسری اقوام کو مبہوت کر دیا۔ اور امریکا سپر پاور بن گیا۔ بعد میں اس ہتھیار کے حصول کی دوڑ میں دوسری اقوام بھی لگ گئیں اور دنیا ایک نئے شیطانی چکر میں پڑ گئی۔ آج کل طاقت کے ساتھ ایک نیا عنصر بھی جڑ گیا ہے جسے میڈیا کہتے ہیں۔ میڈیا نے جدید دور میں طاقت کی داشتہ کا کردار ادا کیا، اس کے مکروہ افعال کو خوب صورت بنا کر پیش کیا اور اس کے جرائم کی پردہ پوشی کی، غلط کو درست ثابت کیا۔ جس وقت بغداد پر امریکی طیارے رات بھر بمباری کرتے اور میزائل داغتے رہے اور ہزاروں بے گناہ انسان مرتے رہے۔ اس وقت مغربی میڈیا دھماکوں سے پھیلنے والی چنگاریوں کو کرسمس ٹری سے تشبیہ دے رہا تھا۔ اور اگلی صبح جب عراقی تیل بردار جہاز نے امریکی نیوی کو اپنے ساحلوں سے دور رکھنے کے لیے خام تیل سمندر میں بہا دیا۔ تو سارا مغربی میڈیا اس بطخ کی وڈیو بار بار دکھا رہا تھا جو تیل بہنے کی وجہ سے پانی میں تڑپ رہی تھی۔ اور سمندری حیات کو لاحق ان شدید خطرات کی نشان دہی کر رہا تھا جو صدام حسین کی ظالم افواج کے اس وحشیانہ عمل کی وجہ سے مہذب دنیا کو لاحق ہو سکتے ہیں۔ مغربی میڈیا میں بڑے بڑے جغادری اس بطخ پر ہونے والے ظلم پر گھنٹوں پروگرام کرتے رہے اور بغداد کے عوام پر قیامت صغریٰ جاری تھی۔ بلاشبہ انسانیت کے خلاف ہٹلر کے جرائم بے شمار ہیں لیکن مغربی اقوام کے جرائم بھی کسی طرح ہٹلر سے کم نہیں اب یہ میڈیا کا کمال ہے کہ ہٹلر مجرم ہے اور وہ ہیرو ہیں۔
صحافت میں آج کل ایک نئی اصطلاح ففتھ جنریشن وار فیئر ہے جس کے ذریعے میڈیا غلط اطلاعات پھیلا کر اس ملک کے عوام کو کنفیوز اور اداروں کو کمزور کردیتا ہے اور پھر بقیہ کام فوجی طاقت کے استعمال سے پورا کردیا جاتا ہے۔ طاقت کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ کسی اصول، ضابطے اور قانون کو خاطر میں لائے بغیر جو چاہے کر گزرے اور بعد میں میڈیا اس کے لیے دلائل تراشتا رہے۔ بڑے بڑے اینکرز ایسی ایسی توجیحات پیش کرتے ہیں کہ جھوٹ سچ معلوم ہوتا ہے۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
جمہوریت کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ اس میں عوام کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور عوامی رائے ہی حکومتی پالیسی کا تعین کرتی ہے۔ عراق کی جنگ کے خلاف خود یورپی اور امریکی عوام کی رائے ان بڑے بڑے احتجاجی مظاہروں کی صورت میں سامنے آ گئی تھی جس میں عوام نے اس جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا تھا لیکن طاقت کے مراکز کی اپنی رائے تھی اور وہ عوامی رائے کے خلاف تھی لہٰذا جنگ جاری رہی۔ بعد میں ثابت ہوگیا کہ عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا الزام غلط تھا۔ لیکن طاقت کی رائے ہر چیز پر مقدم ہے اور لاکھوں بے گناہ عراقیوں کا قتل عام کیا گیا۔ اسی طرح شامی عوام کی غالب اکثریت کی رائے بشار الاسد کی ظالم حکومت کے خلاف ہے لیکن روس کی فوجی طاقت کی بدولت اپنے ہی عوام پر بدترین مظالم ڈھا کر آج بھی مسلط ہے اور شامی عوام دنیا بھر میں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان نے بے پناہ ترقی کرلی ہے۔ ہم نے انصاف کے ادارے، یونیورسٹیاں، معاشی نظام، ہسپتال، ذرائع نقل و حمل اور جدید زرعی نظام تیار کر لیا، سمندر، فضا اور خلا تک کو تسخیر کرلیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی عدالت انصاف، خیراتی ادارے اور نہ جانے کیا کچھ تعمیر کر لیا ہے اور انسان بہت مہذب ہوگیا ہے۔ لیکن بقول مشہور دانشور اور استاد جناب اشفاق احمد: ’’انسانی فطرت ذرہ برابر تبدیل نہیں ہوئی۔ انسان نے ترقی نہیں کی بلکہ اس کے ماحول نے ترقی کی ہے انسان اتنا ہی وحشی اور ظالم ہے جو وہ ہزاروں برس قبل تھا۔ اور موقع ملنے پر اسی وحشت اور درندگی کا مظاہرہ کرتا ہے جو آج سے ہزاروں برس قبل کیا کرتا تھا۔ اور یہ کام جاہل اور پس ماندہ اقوام نہیں بلکہ مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کر رہی ہیں۔‘‘
دنیا میں تمام قوانین اور اصول و ضوابط اس وقت تک نافذ العمل ہیں جب تک وہ طاقتور کی مدد کر رہے ہیں دوسری صورت میں صرف طاقت ہی اصل قانون ہے۔ باقی سب فریب ہے۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیاکیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی