مقام ابراہیم

605

تحریر ؛ مولانا محمد تبریز

مقام ابراہیم ؑ پہلے دیوار کعبہ سے متصل تھا، کعبے کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب سے جانے والے کی دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا، جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اسے یہاں رکھوا دیا تھا، یا بیت اللہ کی تعمیر یہیں آکر مکمل ہوئی ہوگی تو مقام ابراہیم کو وہیں چھوڑ دیا۔ امیر المؤمنین عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اسے پیچھے ہٹا دیا، پھر ایک مرتبہ پانی کے بہاؤ میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا، خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا۔ یہ تفصیل تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ اور صاحب کتاب نے مختلف روایات کی روشنی میں یہ ثابت کر نا چاہا ہے کہ ابراہیمؑ سے لے کر ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت تک یہ پتھر ایک ہی جگہ رہا اورسب سے پہلے عمرؓ نے اسے پیچھے کیا۔ تاہم مجاہد کے حوالے سے انہوں نے ایک روایت ایسی بھی نقل کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ تبدیلی نبی پاکؐ نے کی تھی۔ (تفسیر ابن کثیر: 1/ 417)۔
عموماً مؤرخین نے وہی بات لکھی ہے جو صاحب تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے گذری کہ زم زم کے پاس مقامِ ابراہیم کو سب سے پہلے عمرؓ نے رکھوا یا، اس رائے کی بنیاد غالباً وہ واقعہ ہے جو عمرؓ کے دور میں پیش آیا تھا۔
ایک مرتبہ عمرؓ کے دور میں ام نہشل نامی سیلاب مکہ میں آیا۔ عمرؓ اس وقت مدینے میں تھے، اس سیلاب کی وجہ سے مقام ابراہیم اپنی جگہ سے بہہ کر دور چلا گیا اور سیلاب کی وجہ سے اس کی اصل جگہ مٹ گئی، عمرؓ عمرے کا احرام باندھ کر مکے آئے اور مقام ابراہیم کے حوالے سے بڑے فکر مند ہوئے، انہوں نے لوگوں سے کہا: جس شخص کو بھی مقامِ ابراہیم کی جگہ معلوم ہو میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ مجھے بتائے۔ ایک صحابی مطلب بن ابو وداعہ سہمی نے یہ سن کر کہا کہ مجھے معلوم ہے، مجھے اس کا خدشہ تھا، اس لیے میں نے مقامِ ابراہیم سے حجر اسود کی سمت والے دروازے تک اور دوسری طرف اس جگہ سے زم زم کے کنویں تک ناپ کر اس کی پیمائش کو محفوظ کر لیا تھا۔ عمرؓ نے وہ پیمائش فوراً منگوائی اور اس کے مطابق پیمائش کر کے مقام ابراہیم کو اس کی جگہ نصب کر ادیا جہاں وہ آج کل نصب ہے۔ (السیرۃ الحلبیۃ)۔

آپؐ نے فرمایا: جو شخص مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے گا اس کے اگلے پچھلے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے اور قیامت کے دن عذاب سے محفوظ رہے گا۔ (ہدایۃ السالک)۔
عبد اللہ بن عمرؓ نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر فرمایا بے شک ہر دو رکعت کفارہ ہے ان گناہوں کا جو دونوں نمازوں کے درمیان ہیں یا جو دو رکعت سے پہلے ہیں۔ (اخبار مکۃ للفاکہی)۔
چناں چہ مقامِ ابراہیم کے پیچھے دور کعت نماز پڑھنی چاہیے۔ اور طواف کی ان دو رکعت میں سورہ کافرون اورسورہ اخلاص پڑھنا مستحب ہے۔
نوٹ: طواف کے بعد دورکعت پڑھنا واجب ہے اور مقامِ ابراہیم کے پاس پڑھنا افضل ہے۔ لیکن وہاں جگہ نہ ملے تو مسجد حرام میں جہاں چاہے پڑھ لے؛ بلکہ گھر میں آکر پڑھ لے تب بھی جائز ہے۔
لیکن عوام بالکل مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعت پڑھنے کو لازم سمجھتے ہیں، طواف کر نے والوں کی بھیڑ میں وہیں گھس کر پڑھتے ہیں، جس سے طواف کر نے والوں کو اذیت اور پریشانی ہو تی ہے، یہ درست نہیں، بہت سے بہت افضل ہے اور افضل کو اختیار کر نے کے لیے خود پریشان ہونا اور دوسروں کو پریشان کرنا درست نہیں، گناہ کی بات ہے، اس سے بچنا چاہیے۔
مفتی سعید احمد پالن پوریؒ مقام ابراہیم پر دوگانہ پڑھنے کی وجہ لکھتے ہیں:
’’ ہر طواف کے بعد دو رکعتیں بیت اللہ کی تعظیم کی تکمیل کے لیے پڑھی جاتی ہیں، بیت اللہ کا طواف بھی اس کی تعظیم ہے، مگر کمالِ تعظیم یہ ہے کہ اس کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھی جائیں۔‘‘
آگے لکھتے ہیں:
’’مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے کر ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تھا، اس میں ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان ہیں اور اسی پتھر پر کھڑے ہو کر آپ نے لوگوں کو حج کی دعوت دی تھی اور وہ جنت سے لا یا گیا تھا، جیسے حجر اسود (فوائد شیح الہند) اس لیے وہ مسجد حرام کی بزرگ ترین جگہ ہے، اوراللہ کی قدرت کی وہ نشانی ہے جو خلیل اللہ پر ظاہر ہوئی ہے اور حج میں انہیں اْمورکو یاد کرنا مقصود بالذات ہے؛ اس لیے اس یادگار مقام پر دوگانہ طواف پڑھنا مستحب ہے۔‘‘ (رحمۃ اللہ الواسعۃ)۔