ڈو مورمطالبات اور پاکستان

482

شہزاد سلیم عباسی
اوباما نے اپنی قوم سے ایک تاریخی خطاب کیا تھا کہ’’ میں چاہتا ہوں کب میری مدت ختم ہو اورمیں پورے امریکا کی سیر کروں اور اپنی ذمے داری احسن انداز میں کسی دوسرے کو سونپوں۔ اور مجھے بہت ہی عجیب لگتا ہے جو صدر یا وزیر اعظم اپنی مدت میں توسیع کی بات کرتا ہے۔ امریکا میں جیسے ایک عام آدمی کا احتساب ہو سکتا ہے ویسے ہی قانون جب چاہے میرا بھی احتساب کر سکتا ہے‘‘۔ امریکی وزیر خارجہ ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی دعوت خاص پر چار گھنٹے کے مختصر ترین دورے پرآئے اورایک بارپھر پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا۔امریکی مہمان ریکس ٹلرسن نے کہا کہ امریکا بھارت، افغانستان اور پاکستان کے ساتھ بہترین اور پائیدار تعلقات کا خواہاں ہے ۔پاکستان ایک اہم اسٹرٹیجک پارٹنر ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان سے گہرے تعلقات ناگزیر ہیں۔ اور پاکستان اور افغانستان کے مثالی تعلقات امریکا کے بہترین مفاد میں ہیں ۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق پرانے مطالبات کا ایک بار پھر اعادہ کیا گیا۔ڈو مور مطالبہ نمبر (1)۔ پاکستان کو دہشت گردی کے بھوت کو قبول کر کے دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ڈو مور مطالبہ نمبر (2)۔ داعش جس کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں اس کے تانے بانے ہمیں پاکستان میں نظر آرہے ہیں اس لیے پاکستان کو داعش کے نیٹ ورک کوبھی ختم کرنا ہوگا۔ ڈو مور مطالبہ نمبر(3)۔ پاکستان کو ملک میں بڑھتی انتہاپسندی ، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کے جن کو بھی قابو کرنا ہوگا۔ ڈو مور مطالبہ نمبر(4)۔ پاکستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ امریکی اعلامیہ کے بعد پاکستان نے بھی اپنا توتا مینا والی کہانی پڑھ کرسنا دی اور سادہ لوح عوام کو لولی پاپ دے کر امریکا کو ڈو مور کے معاملے پر خاموش رہ کر اثبات کا اشارہ دے دیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق کہاگیا ہے کہ ہم امریکا سے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں امن واستحکام کے قیام کے لیے دہشت گردی کے خلاف ہمارا غیر متزلزل اعلان جنگ ہے۔



پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنی عرضی بھی امریکا کو سنا دی اور معصومانہ مطالبات لکھ بھیجے۔ ’’مودبانہ التجا نمبر (1)۔ پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور ہم اس الزام کوبصداحترام مسترد کرتے ہیں۔ مودبانہ التجا نمبر(2)۔ بھارت کو پاکستان میں بدامنی کا ذمے دار قرار دیا جائے کیوں کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں کارروائیاں کراتا ہے۔ مودبانہ التجا نمبر(3)۔ بھارت کو بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرانے کی بدولت امن کا دشمن قرار دیا جائے۔ مودبانہ التجا نمبر(4)۔ بھارت کو ایل او سی کی بار بار خلاف ورزی سے روکا جائے۔ (5)۔ بھارت کو کشمیر میں ظلم ودرندگی سے باز رکھا جائے‘‘۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت امن اور پاکستان دونوں کے لیے خطرہ ہے تو پھر کچھ عرصے پہلے اسی حکومت نے مودی کو مہنگے اور پرخلوص تحائف سے کیوں نوازا تھا۔ پاکستانی سول وعسکری قیادتیں الگ الگ پریس و نیو ز کانفرنسوں میں امریکا کو کھلے عام دعوت دے چکے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہیلی کاپٹر پر بیٹھیں اور بتائیں کہ محفوظ پناہ گاہیں کہاں ہیں ؟ ہم خود انہیں تباہ کریں گے ۔اگر ایسا عاجزانہ اور بزدلانہ رویہ ہمار ا رہا تو پھر خدانخواستہ امریکا ہم سے کسی بڑی قربانی کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے جس کے ہم قطعی متحمل نہیں ہو سکتے۔سول و ملٹری لیڈر شپ میں ملکی سلامتی کے معاملے پر باہمی اتفاق و اتحاد اور داخلی مذاکرات بہت ضروری ہیں جن کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی ہے۔
سینٹرل ایشیائی ممالک، ساؤتھ ایشیائی ممالک اوربالخصوص مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی امریکی دلچسپی اور مداخلت نے پوری دنیا کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ ڈومور نہیں بلکہ کچھ لو اور کچھ دوکی پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہوگا جیسا کہ بھارت امریکا کے ساتھ دوٹوک انداز میں بات کرتا ہے۔



امریکا بہادر اوروطن عزیز دونوں کے لیے صلاح ہے کہ اس طرح سے دنیا کے سامنے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں، ڈومور کے مطالبو ں، مودبانہ التجاؤں اوراپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے کچھ حاصل حصول نہ ہوگا۔مستقل ، دیر پا اور مضبوط پالیسیوں کے بغیرنہ تو پاکستان، امریکی مسلط شدہ جاری جنگ میں دہشت گردی کے خلاف کچھ خاطر نتائج حاصل کرسکے گا اور امریکا کو دہشت گردی کے خلاف اپنے فرنٹ لائن اتحادی ہونے کاثبوت دے سکے گا اور نہ ہی امریکا اپنے عوام کو مطمئن کر سکے گا۔اب پاکستان کو امریکا ، بھارت، افغانستان، دہشت گردی، بلوچستان، کراچی، جائدادیں بنانے اور ذاتی و سیاسی مقاصد وغیرہ سے آزاد ہو کر ملک و قوم کے لیے سوچنا ہوگا۔ پھر وہ دن دور نہیں ہو گا کہ بڑی بڑی ایٹمی طاقتیں، اقتصادی قوتیں اور عالمی فورمز ہمیں ہر سطح پر ویلکم کریں گے۔ پاکستانی اور امریکی عوام تجارت محبت اور امن چاہتے ہیں جب کہ حکمران چوہے بلی کا کھیل رچا کر پتا نہیں کیا گل کھلانا چاہتے ہیں۔
ہمارے سول و ملٹری حکمرانوں کو سمجھنا ہو گا کہ ہمارے ساتھ ایک اللہ ،اسلام ، قرآن اور نڈر عوام کی طاقت ہے ہمیں کوئی ہرا سکتا، نہ ہی کوئی مصنوعی جنگ ہمیں زیر کرسکتی ہے۔ امریکا جن بیکار اور خود کار ترکیبوں سے ہمیں اقتصادی و سماجی ترقی سے روکنا چاہتا ہے یہ اس کی بھول ہے کہ پاکستانی سول و ملٹری ادارے اور عوام پاک سرزمین اور اسلام کی خاطر سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں جو کسی بھی جارحیت اور دشمن کو کچلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔