ڈیلی ویجز ملازمین کیس ‘اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اور انصاف کے تقاضے 

1442

یکم نومبر بروز بدھ کواسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجز ملازمین کیس کا فیصلہ جاری کر دیا ۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ 50صفحات پر مشتمل تحریر ی فیصلے کے مطابق عدالت نے اشتہار جاری کیے بغیر بھرتی کیے جانے والے ملازمین کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے ملازمین جو لمبے عرصے سے نوکری کر رہے ہیں وفاق ان کا ’’معاملہ دیکھے ‘‘ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ملازمین کا ’’خیال رکھے ‘‘۔ وفاق کو ایسے ملازمین کے حوالے سے بروقت اقدامات اٹھانے چاہیے تھے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسے 15 اسکیل تک کے ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی کا معاملہ متعلقہ محکمے نئی ریکروٹمنٹ پالیسی 2017ء کے مطابق دیکھیں۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اہل افرادکی مستقلی کے لیے معاملہ محکمے کی سلیکشن کمیٹی کو بھجوایا جائے۔ 16ویں اور اس کے اوپر کے اسکیل کے ملازمین مستقل کے لیے براہ راست فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں درخواست دیں ۔میرے خیال میں اس فیصلے میں حکومت کو ایک نقطہ نگاہ سے با اختیار بنادیا ہے کہ وہ ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کر ے یا نہ کرے یا ملازمین کو فارغ کرنے کا قانونی دفاع کرے۔ معزز جج صاحب نے بال حکومت اور اداروں کے سربراہوں کے کورٹ میں پھینک دی ہے جبکہ ڈیلی ویجز ملازمین بھی دفاع کے لیے پہلے انٹرا کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کریںیا سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنی پٹیشن داخل کریں ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس اطہر من اللہ 2015 میں اس طرز کا فیصلہ ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں دے چکے ہیں لیکن اس فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نظر نہیں آتے۔ ہم تو قانون کی الف ۔ب بھی نہیں جانتے لیکن ایک طرح کی پٹیشن میں دو طرح کے فیصلے کاآنا یہ ہضم نہیں ہورہا ۔معزز جج صاحب نے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجز ملازمین کے ملازمتی امور کے حوالے سے تیز تر اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے نظام پیش کرنے کے حوالے سے 2015میں ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ معزز جج صاحب نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ملازمین کے وقار کو مجر وح کیے جانے کے ساتھ ملازمین کی لاچارگی اور انہیں انصاف کی فراہمی سے انکار جبری مشقت کی ایک شکل اختیار کر چکی ہے۔ عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ظاہر ‘ہے کہ 21ویں صدی میں انصاف کے بغیر ایک ملازم کی حیثیت دور جدید کے غلام کے جیسی ہے کیونکہ اس صورت میں وہ وسائل کی کمی ،عدے کے لحاظ سے غیر مساوی اختیار ات اور اپنے اہل خانہ کو ذریعہ معاش کی فراہمی سے محروم کیے جانے کی ناانصافی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوتا ہے معزز جج صاحب نے مزید کہا کہ مشکلات میں جکڑا ہوا ایسا ملازم حقیقی طورپر اس مقدر کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے یہ استحصال کی ایک صورت ہے جبکہ ریاست آئین کے تابع ہونے کے باعث اس کے آرٹیکل 3کے تحت اس استحصال کے خاتمے کی ذمہ دار ہے یہ ایک جبری مشقت کے شکل بھی اختیار کر چکی ہے اور غلامی آئین کے آرٹیکل11کے تحت ممنوع ہے۔ ملازمین کے ساتھ ایسا رویہ ریاست، اس کے ہر ادارے اور اتھارٹی اور اس شخص پر جوکہ کسی ادارے یا ریاست کی اتھارٹی کی جگہ فرائض سرانجام دے رہا ہو اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں اور فرائض کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
معزز جج صاحب نے مزید اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ وہ ملازمین جو کہ مقدمات پر رقم صرف کرنا برداشت کر سکتے ہیں اور آرٹیکل 199کی حدود و قیود سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں انہیں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ عدالتوں کو باقاعدہ مقدمات کی سماعت کے لیے اور ان درخواستوں پر فیصلہ دینے کے لیے وقت نکا لنا مشکل ہوجاتا ہے جوکہ ان کی تر جیحات کی فہرست میں بہت نیچے ہوتے ہیں ۔میں اپنی تحریر وں کے ذریعے اس فیصلے کی روشنی میں روزنامہ جسارت کے صفحہ محنت میں لکھ چکا ہوں کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے 2011ء میں جو پالیسی بنائی گئی تھی ان میں تو من پسند اداروں میں کام کرنے والے من پسند لوگوں کو ریگو لر کیا گیا تھا اصل حق دار تو آج تک محروم رہ گئے ہیں ۔پھر معزز جسٹس صاحب کے حکم پر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی حسیب اطہر کی نگرانی میں بنائی گئی تھی، اس کمیٹی نے بھی دس ہزار ملازمین کو سابق دور کی پالیسی کی تحت مستقل کیا ۔اگر یہ ملازمین غیر قانونی ہیں تو ڈیڑھ لاکھ ملازمین جو ریگولر ہو گئے ہیں وہ کیسے قانونی ہوئے ؟وہ حسیب اطہر کمیٹی جو خود معزز جج صاحب نے بنائی اس کمیٹی کی کارگردگی کی رپورٹ کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا ؟ کیبنٹ کمیٹی کی سفارشات سے بنائی جانے والی پالیسی اور وزیر اعظم پاکستان کی منظوری کے بعد عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا ؟ اسی طرح کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد انور باجوہ صاحب بھی ریٹائرمنٹ سے پہلے غالباً ان کا آخری فیصلہ تھا کہ حکومت کی صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ مستقل کرے یا نہ کرے۔ معزز جج صاحبان اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اکثریت ملازمین کی کم تنخواہوں کے باعث ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ناممکن ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی باز گشت سپریم کورٹ آف پاکستان بھی پہنچ چکی ہے ۔نواب علی ایڈووکیٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ملازمین کے کیس کی پیروی کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں معزز جسٹس اطہر من اللہ کے کیس کے حوالے سے کہا ہے کہ معزز جج صاحب نے واضح طور پر 2011 ؁ء کی ریگولرائزیشن پالیسی کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس پر سپریم کورٹ کے معزز جج صاحب نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جو پہلے ریگولر ہوچکے ان کو الگ کرو۔ اب آپ کو اسٹیمپ لگا کے تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ جو ریگولر ہوچکے آپ ان کی بات کریںآپ صرف ان ڈیلی ویجز ملازمین کی بات کریں جو ریگولر ہونے سے رہ گئے ہیں ۔آپ باقی رہ جانے والوں کے لیے اقدامات کریں۔ حالانکہ تین ماہ پہلے معزز جج میاں گل حسن اورنگزیب صاحب محترمہ صفیہ بانو کو 2011ء کی پالیسی کے تحت مستقل کر چکی ہے۔ سرکاری محکموں میں تیس تیس سال سے عارضی بنیادوں پر کم سے کم اجرت چودہ ہزار روپے پر ہزاروں کی تعداد میں کام کررہے ہیں اب تو وہ ہر سال ڈیلی ویجز کی حیثیت سے خالی ہاتھ ریٹائر بھی ہورہے ہیں ۔ایسے سرکاری اداروں میں سے ایک ادارہ پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی جوکہ وزات صنعت و پیداوار کے ماتحت ہے جہاں 600سے زائد ڈیلی ویجز ملازمین سے منسلک اہل خانہ کی ہزاروں میں تعداد ہے مگر حکومت کی عارضی پالیسی کا شکار ہے ۔اس ادارے کے ڈیلی ویجز ملازمین تیس سالوں سے مستقل ہونے کے انتظار میں ہیں ۔کئی اُسی انتظار میں انتقال کرگئے ہیں۔ وزارت صنعت ہی کے اداروں پاکستان اسٹیل مل میں پانچ ہزار سے زائد جبکہ یوٹیلیٹی اسٹور ز کارپوریشن میں ہزاروں کی تعداد میں ریگولر ہو چکے ہیں اور 2017ء کی ریگولر آئزیشن پالیسی کے تحت مزید سات ہزار سے زائد ریگولر ہونے والوں کی لسٹ بھی تیار ہوچکی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ کئی سالوں سے منتظر ڈیلی ویجز ملازمین کو انصاف فراہم کیا جائے گا کیونکہ یہ انسانی بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔