،،کر ب آگہی،، کے بارے میں تاثرات

439

ڈاکٹر عزیزہ انجم

آسیہ اور میری دوستی اس وقت سے ہے جب ہمارے بچے گودوںمیں تھے۔ عارف پرائمری میں تھا ، تابی چھوٹی سی گود میں ہوا کرتی تھی اور طیبہ اور طارق نے غالباً میٹرک نہیں کیا تھا۔ میری بچیاں بھی چھوٹی چھوٹی ادھر ادھر پھرا کرتیں
ہم دونوں جسارت میں لکھا کرتے تھے ۔ عطیہ اقبال زیدی جسارت صفحہ خواتین کی ایڈیٹر تھی اور ہم دونوں بچوں کے ساتھ بس میں بیٹھ کر عطیہ کے گھر جاتے اس کی چٹخارے دار باتیں سنتے اور سمیہ کے ہاتھ کے کھانے کھاتے ۔ زندگی کا سفر بھی گزر گیا ور قلم اور کاغذ کا سفر بھی آسیہ کے بال برف سے کچھ زیادہ ہی ڈھک گئے اور ادھر بھی بالوں میں چاندنی چٹکنے لگی ۔
آسی نے بہت لکھا اور مستقل لکھا اس کا ناول دل شکن شائع ہوا اور مارکیٹ سے ختم بھی ہو گیا ۔ اب آسیہ کے افسانوں کا مجموعہ کرب آگہی فرحت طاہر کی محنت اورمحبت کے نتیجے میں ہاتھوں میں ہے ۔
آسیہ کا کمال یہ ہے کہ اس نے مختصر لکھا اور سادہ زبان میں لکھا ۔ اس کے افسانوں کے کردار عا م سے لوگ ہیں ۔ متوسط طبقے کے سفید پوش لوگ ، ان کی مجبوریاں ، ان کے معاشی اور معاشرتی مسائل ، ان کے احساس کے زخم ، آسیہ کے افسانوں کا موضوع ہیں ۔ آسیہ کے کردار زندہ اور بولتے ہوئے کردار ہیں جو کبھی اپنا مدعا بیان کرتے ہیں کبھی کسی جملہ میں حالات پر تبصرہ کرتے ہیں ۔
سادگی مگر پر لطف اوربرجستے جملے اور لطیف مزاح آسیہ کے افسانوں کو پڑھنے والے کے لیے دلچسپ بناتے ہیں ، ’’چاند کا ٹکڑانہیں بھوسی کا ٹکڑا‘‘ بہن بھائی کی نوک جھونک کا پر لطف شرارتی جملہ ، جو دیر تک مزہ دیتا رہا ۔
آسیہ کے افسانوں کی ایک اور خوبی جو اسے ممتاز کرتی ہے کہ اس نے اردوبولنے والی ، مسائل میں گھری عورت کے شعور کو ذات کی قید سے نکال کر کائنات کی وسعتوں کی جھلک دکھائی ۔ فقط غمِ ذات ، اداسی ، شہنائی ، نچلی سطح کا رومانس ، آسیہ کے افسانوںمیں کہیں نظر نہیں آتا ۔ وہ اپنے ارد گرد کی دنیا کے ، اپنے آس پاس کے گھروں کی بہت سی حقیقت کہانی کی صورت میں سامنے لاتی ہے لیکن ساتھ میں امید کا چھوٹا سا دیا بھی طاق پر جلاتی ہے ۔ عمل اور امکان کا راستہ دکھاتی ہے ، مشورے دیتی ہے ، ہمت جمع کرواتی ہے ، مایوسی کے اندھیروں سے نکالتی ہے ، آسیہ کے افسانوں میں نہ روایتی ہیرو ہیروئن ہے نہ روایتی رومانس ، لیکن بولتے ہوئے ہنستے ہوئے محبت کرتے ہوئے، شگفتہ اور زندہ کردار ہیں ، ایسے کردار جو بلند سوچ کے مالک ہیں اور ان کے دل میں سب کی رضا کا چراغ روشن ہے ۔
بڑی بڑی پھیلی کہانیوں میں کہی گئی بات کو آسیہ دو مختصر صفحوں میں بیان کرتی ہے اور آج کے مختصر پڑھنے والے کی تسکین کا سامان کرتی ہے ۔ اس کی کہانی آخر میں عموماً ایک با معنی بات پر ختم ہوتی ہے اور ایسی با معنی بات آسیہ کے افسانوں کی جان ہے ۔
آسیہ کو اللہ نے آگہی کے کرب سے نوازا ہے ۔ اس کرب کو لے کر جینا آسان نہیں ۔ اور آگہی کے اس کرب کو دوسروں تک منتقل کرنا اس سے زیادہ مشکل ۔ آسیہ نے اپنی سادہ تحریروں سے اس مشکل کو عام سمجھ رکھنے والے قارئین خصوصاً عورتوں کے لیے آسان کیا ہے ۔
قلم اور بیان کی قوت وہ قوت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے ۔ ن و القلم وما یسطرون ، الرحمن علم القرآن ، خلق الانسان علمہ البیان ، قلم ایک امانت ہے ۔ آسیہ اور ہمارا تعلق اس فیصلے سے ہے جو قلم کو امانت سمجھتے ہیں ۔ لفظوں کا حساب دینا ہے اور لکھا ہوا بھی رب کے آگے پیش ہو گا ۔ معاشرے کی نا انصافیاں اپنی جگہ مضبوط اور بے چین فرد کی ذہنی کیفیت کو سمجھنا ، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنا ، نرم لہجے میں اچھی بات بتانا ،بہتر راستوں کی ممکن صورتیں دکھانا ہم سب کا فرض ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس فرض کو احسن طریقے سے ادا کرنا سکھائے اور قیامت کے دن اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں ملنے کا ذریعہ بنائے۔

صفیہ سلطانہ

وہ میرے قلمی سفر میں افسانہ نگاری کی ابتداء تھی جب میں نے جنگ اخبار میں ایک بہت ہی خوبصورت نازک اور دلکش افسانہ پڑھا ۔
ہلکا پھلکا انداز اور گہری بات ،
قرآن و حدیث کی روح اس تحریر میں رشی بسی تھی ۔ مگر اتنا ہلکا انداز کہ واضح نصیحت کا ذرا گمان نہ ہوتا تھا ۔
میری عادت تھی کہ صرف ان تحریروں کے مصنف کا نام پڑھتی تھی جو تحریر متاثر کر جائے وہ بھی پورا پڑھنے کے بعد مگر وہ افسانہ درمیان میں ہی مجھے اتنا سحر زدہ کر چکا تھا کہ میں نے بے چین ہو کر افسانہ نگار کا نام دیکھا ۔
آسیہ بنت عبداللہ صدیقی لکھا تھا ۔
میرے دل میں حسرت آئی کے میں بھی اس لڑکی کے جیسا لکھ سکتی وہ افسانہ فنی اعتبار سے اعلیٰ تھا ۔
موضوع پر گرفت تھی اور اندازِ تحریر ہلکا پھلکا ۔مجھے اس قلم کار سے ملنے کا بہت شوق ہوا ۔ میں نے بہت سی لڑکیوں سے پوچھا کہ طالبات کی ادبی نشستوں میں آسیہ بنت عبداللہ کیوں نہیںآتی کچھ نہ کہا معلوم کچھ نے بتایا کہ کراچی کی ہی ہیں آخر کار ایک قلم کار کے ذریعے ہی میں نے آسیہ بنت عبداللہ کو تلاش کر لیا ۔ اور حیرت میں رہ گئی کہ وہ لڑکی تو 2 شادی شدہ لڑکیوں کی والدہ ہیں ۔ ان کی تحریر کا تسلسل ادبی میدان میں مسلسل غیر اسلامی ادب کے خلاف جنگ لڑتا ہوا قلم لوگوں کی تعمیر سیرت کے لیے جذبے کی فراوانی اور جوا ن حوصلہ ہر تحریر سے جھلکتا ہوا نظر آتا ہے ۔
آج کے دن تک … جب کے میں100 سے زائد کتب میں سے10 ناول اور بے شمار افسانے لکھ چکی ہوں مگر آج بھی یہ حسرت دل میں موجود ہے کہ آسیہ بنت عبداللہ جسے افسانوں کے جیسا کوئی افسانہ لکھ سکوں ۔
وہ افسانوں کی تو بادشاہ ہیں ہی لیکن بچوں اور بڑوں کے ناول اور کہانیاں لکھتی ہیں تو فنی لحاظ سے بھی اور تربیتی لحاظ سے بھی گویا ہر صنف، ادب حق ادا کر دیتی ہیں ۔
اور ان کی تحریر کے پردے میں ان کی شاہین صفت شخصیت جھلکتی رہتی ہے ان سے ملاقات اور گہری دوستی میں میں نے محسوس کیا ہے وہ ایمان اور اخلاق جوان کی تحریر میں ہے ، وہی ان کی شخصیت اور برتائو میں بھی برابر نظر آتا ہے ۔
جس طرح ان کے ناول(دل شکن) میں لوگوں کی پسندیدگی کی سند حاصل کی ہے اسی طرح افسانوں کا یہ نیا مجموعہ کرب آگہی بھی یقیناً بہت پسند کیا جائے گا۔ انشاء اللہ
میں سمجھتی ہوں کہ آسیہ بنت عبداللہ صدیقی اسلامی ادب پر توانا قافلے کی ایک بہت اہم رہنما ہیں ۔ اسلامی ادب میں ان کا اپنا ایک منفرد لہجہ ہے جیسے ادب میں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا ۔ میری دعا ہے کہ وہ طالبات و خواتین کے لیے ایسی بہت سی کتابیں لکھیں ۔ اور اللہ ان کو لمبی زندگی صحت کے ساتھ عطا کرے ۔ آمین

غزالہ عزیز

یہ ایک پر مسرت موقع ہے خاص طور سے آسیہ بنت عبداللہ کے لیے لیکن ساتھ ہر ایک لکھنے اور پڑھنے سے دلچسپی رکھنے والے فرد کے لیے ہے کتاب اور قلم کا ساتھ ازل سے ہے ۔ قلم لکھنے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور کتاب پڑھنے والے کے ہاتھ میں یہ بڑا مضبوط رشتہ ہے ۔ یہ رشتہ ایسا رشتہ ہے جو زمان و مکاں سے ماورا ہوتا ہے ۔ لکھنے والا لکھ کر چلا جاتا ہے ۔ پڑھنے والا کسی اور زمانے میں اس کو پڑھتا ہے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نہ وہ فرد موجود ہوتا ہے نہ وہ زماں و مکاں ہوتا ہے ۔ لیکن لفظ پھر بھی موجود ہوتے ہیں ۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ مثبت الفاظ نور کے میناروں کی طرح روشنی پھیلاتے ہیں اور پڑھنے والا ان سے راہ نمائی لیتا ہے ، لہٰذا مثبت سوچ اور نظریات جب الفاظ میں ڈھلتے ہیں تو گویا مینارہ نور بن جاتے ہیں۔
آسیہ بنت عبداللہ کہتی ہیں کہ وہ نو سال کی عمر سے لکھ رہی ہیں ۔ ان کا سفر جو عشروں قبل شروع ہوا تھا ان کے لیے اب اس کتاب کی رونمائی ایک سنگ میل ہے ۔وہ آج جس مقام پر ہیں وہ ایک طویل جدو جہد کی داستان ہے ۔ اس داستان میں بہت کچھ اتار چڑھائو ہیں ۔آزمائشی اور امتحان ہیں ۔ لیکن سب سے اہم بات جو سیکھنے اور سمجھنے والی ہے وہ یہ کہ انہوں نے کبھی اور کسی موقع پر ہار نہیں مانی ہتھیار نہیں ڈالے اپنی سمت واضح طور پر سوچ سمجھ کر اختیار کی ۔اور پھر اس پر آگے ہی آگے بڑھتی رہیں ۔ مایوس نہیں ہوئیں ۔ اگر کبھی ایسا وقت آیا بھی تو مخلص ساتھوں نے آگے کر کے انہیں سنبھالا ۔ وہ جو شاعر نے کہا کہ رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں اتنی پڑیں ہم پر کہ آساں ہو گئیںمشکل میں انہوں نے قلم کا ساتھ نہ چھوڑا ۔ ان کا قلمی سفر آگے سے آگے بڑھتا گیا ۔انہوں نے بچوں کے لیے لکھنے کا ارادہ باندھا۔ ایک عمر گزار کر … سچ مانیں کہ یہ ارادہ بڑا نیک ارادہ ہے ۔ بچوں کے لیے لکھنا ہر ادیب پر قرض کی طرح ہے ۔ایسا قرض کہ جس کی ادائیگی بمع سود کے ہوتی ہے ۔ یہاں بھی اور وہاں بھی ۔ اور وہاں تو کتنے گنا ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ بس اخلاص نیت ہی ایک پیمانہ ہے ۔ خیر یہ پیمانہ تو ہر عمل کے لیے ہے۔ لیکن بچوں کی راہ گزر کو روشن کرنا ایک طویل عرصے تک اپنے لیے صدقہ جاریہ کا انتظام کرنا ہے ۔ یہاں ہر لکھنے والے سے میں یہ کہو گی کہ وہ سب کچھ لکھیں لیکن جو وقت اب ہاتھ میں ہے اس میں کچھ کر گزریں جیسے بچوں کے لیے تو لازمی سیکھیں گزرے وقت پر افسوس نہ کریں ۔ آسیہ بنت عبداللہ نے گزرے وقت کی مشکلات کو بھول کر قلم کو سنبھالے رکھا ۔ بقول ایک ڈاکٹر کے کہ یہ سوچنا کہ کام ، کیسے کریں؟ اور کام بگڑ جاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں بہترین بات یہ ہے کہ ہر ناکامی پر آپ اپنے آپ سے یہ کہیں کہ اگلی بار میں اس کام کو دوسرے ڈھنگ سے کروں گی۔ گلاب کا پھول کتنا خوبصورت ہوتا ہے ۔ لیکن جس ڈالی میں گلاب کا نازک پھول کھلتا ہے اسی ڈالی میں سخت نوکیلی کانٹے بھی لگے ہوتے ہیں ۔ یہ ہی قدرت کا قانون ہے ۔ ہم گلاب کے پھول کو کانٹوں سے جدا نہیں کر سکتے ۔ ہمیں کانٹوں کے ساتھ اسے لینا ہوتا ہے ۔ یہی دنیا کا سبق ہے یہی زندگی کا سبق ہے ۔ ناکامیوں کے ساتھ ہی کامیابی بھی ہوتی ہے ۔ خوشی کے ساتھ غم بھی ہوتا ہے ۔ خوشگور لمحوں کے ساتھ نا خوشگوارلمحے بھی قبول کرنے پڑتے ہیں ۔
کامیابی کا راستہ ناکامیوں سے ہی ملتا ہے ۔ یہاں ابھرنے دینا پڑتا ہے ۔ جیسے درخت کا معاملہ ہوتا ہے وہ ہی انسانی زندگی کا معاملہ ہوتا ہے ۔ بیج مٹی میں دبایا جاتا ہے ۔ پھر ایک دن وہ اپنا سر باہر نکالتا ہے ۔ او رپھر مضبوط سایہ دار درخت بنتا ہے ۔ ٹھوس اور دیر پا تعمیر اور ترقی کے لیے صبر آزما انتظار کا مرحلہ ضرور طے کرنا ہوتا ہے ۔ لمبے عرصے تک مسلسل محنت لازم ہے ۔ یہی بات آسیہ بنت عبداللہ تحریروں میں بین السطور کرتی ہیں ۔ بڑا اہم پیغام ہے ۔ شعر کی زبان میں حبیب جالب نے کیا خوب کہا ہے ۔

کوئی شعر نیا کوئی بات نئی کہنے کا جتن کرتے رہنا
انمول ہے پل پل جیون کا آہیں نہ یونہی بھرتے رہنا
کچھ کام نہیں آتی آہیں چلنے سے سمٹتی ہیں راہیں
تقدیر یہ کیا تہمت یارو بیٹھے بیٹھے دھرتے رہنا
سر ڈال کے چلتے رہنے سے کچھ اور بھی اونچی ہوتی ہیں
دیواریں تو ہیں دیواریں ہی دیواروں سے کیا ڈرتے رہنا
دنیا کو اگر سلجھا لیں گے ہر منزل کو ہم پا لیں گے
اک زلف کے غم میں کیا جالب جیتے رہنامرتے رہنا