’’عمّۃ النبی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب‘‘

1387

ام ایمان
حضور اکرم ﷺ کے دادا عبدالمطلب کے دس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں ۔ ان کی ایک بیوی فاطمہ عمرو قبیلہ مخزوم سے تھیں جن سے حضور اکرم ﷺ کے والد عبداللہ اور دو چچا ابو طالب اور زبیر تھے اور پانچ پھوپھیاں برہ ، ام الحکیم الیفاء ، عاتکہ ، امیمہ اور ارویٰ تھیں ۔
عبدالمطلب کی دوسری بیوی ہالہ بنت بنی زہرہ میں سے تھیں ۔ ان سے حضور اکرم ﷺ کے تین چچا حضرت حمزہ ، مقوم اور حجل پیدا ہوئے اور انہی میں سے آپ کی پھوپھی صفیہ تھیں جو حضرت حمزہ ؓ کی سگی بہن تھیں ۔ حضور اکرم ﷺ کی دیگر پھوپھوں کے اسلام کے بارے میں اختلاف ہے لیکن حضرت صفیہ کے اسلام پر سب کا اتفاق ہے ۔
حضرت صفیہ کی والدہ ہالہ بنت اہیب حضور ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب کی چچا زاد بہن تھیں اس رشتے سے وہ حضور کی خالہ زاد بہن بھی تھیں ۔ لہٰذا حضرت حمزہ جو ان کے حقیقی بھائی تھے وہ بھی حضور اکرم ﷺ کے چچا اور خالہ زاد بھائی تھے ۔
عبدالمطلب کی تیسری بیوی نتیلہ بنت حناب بنی تر سے تھیں جن سے حضرت عباس ؓ اور ضرار پیدا ہوئے ۔ ایک اور بیوی سمراء بنت جندب بنی بکر سے تھیں جن سے حارث بن عبدالمطلب پیدا ہوا ۔ ایک اور بیوی لبنیٰ بنت ہاجرہ بنی خراء سے تھی جس سے ابو لہب پیدا ہوا ۔
تاریخ کی کوئی شخصیت ایسی نہیں جس کا نسب اس قدر تفصیل اور صحت کے ساتھ تاریخ نے محفوظ کیا ہو جس قدر حضور اکرم ﷺ کا کیا ہے ۔ آپ ﷺ کے حسب نسب اور نسل سے متعلق پوری تفصیلات تاریخ نے اپنے صفحات میں محفوظ کر لی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ عرب کسی غیر معروف خاندان سے نہیں تھے بلکہ پورا عرب آپ ﷺ کے خاندان اور نسب کے بارے میں جانتا تھا ۔
مکہ کے اطراف میں رہنے والا کوئی خاندان ایسا نہ تھا کہ جس سے آپ ﷺ کا نسبی تعلق نہ ہو بخاری میں عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ
’’قریش کے ہر خاندان سے آپ ﷺ کا کوئی نہ کوئی رشتہ موجود تھا ‘‘
حضرت صفیہ نے قبولیت اسلام کا شرف آغاز میں ہی حاصل کر لیا تھا اور سابقون الاولون کی مقدس جماعت میں شامل تھیں ۔ آپ کی اور حضور اکرم ﷺ کی ولادت کے زمانے میں بہت تھوڑا فرق ہے لہٰذا آپ حضور اکرم کی تقریباً ہم سن و ہم عمر ہی تھیں ۔
حضرت صفیہ کا پہلا نکاح ایک اموی نوجوان حارث بن حرب سے ہوا ان کے انتقال کے بعد آپ عوام بن خویلد کے نکاح میں آئیں جو ام المومنین حضرت خدیجہ کے بھائی تھے ان سے حضرت زبیر ؓ پیدا ہوئے ۔ یہ زبیر بن عوام وہ ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کے لیے تلوار نکالی ۔
حضرت زبیر ؓ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور حضرت صفیہ بیوہ ہو گئیں ۔ اس وقت اگرچہ وہ جوان تھیں لیکن اس کے بعد انہوں نے شادی نہیں کی اور ساری عمر بیوگی کی زندگی گزاری ۔
جب حضور اکرم ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو حق کی طرف بلانا شروع کیا تو حضرت صفیہ نے اسلام کے پکار پر لبیک کیا اور سابقون الاولون کی جماعت میں شامل ہو گئیں ۔ اس وقت حضرت زبیر ؓ کی عمر سولہ سال تھی ۔ وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔
حضرت صفیہ کی خواہش تھی کہ ان کا فرزند ایک بہادر اور نڈر سپاہی بنے لہٰذا وہ حضرت زبیر سے نہایت محنت اور مشقت کراتیں اور سخت گیری کے ساتھ کام لیتیں ۔ ایک دفعہ حضرت زبیر کے چچا نے ماں کے ہاتھوں بیٹے کو پٹتے دیکھ کر حضرت صفیہ کو ڈانٹا کے اس طرح تو تم بچے کو مار ڈالو گی ۔، ساتھ ہی قبیلہ کے دیگر افراد سے بھی کہا کہ وہ صفیہ کو بچے پر سختی سے روکیں لیکن حضرت صفیہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچے کو بہادر اور عقل مند آدمی بنانا چاہتی ہیں جس کے لیے سختی ضروری ہے ۔
ایک دفعہ لڑکپن کے زمانے میں حضرت زبیر ؓ کا مقابلہ ایک جوان اور قوی آدمی سے ہوا انہوں نے اس کو ایسی ضرب لگائی کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا ۔
حضرت صفیہ ؓ اپنے بیٹے کی بڑی خوبی سے تربیت کی اور اسلام اور پیارے رسول کی محبت دل میں ایسی ڈالی کہ ایک دفعہ نو عمری میں حضور ﷺ کے بارے میں کفار کے حملے کی خبر سنی تو تلوار سونت لی ۔ یہ پہلی تلوار تھی جو اسلام اور رسول کی حفاظت کے لیے اٹھائی گئی ۔
حضرت زبیر ؓ بن عوام نے حبشہ کی طرف ہجرت اپنی ماں کے کہنے پر کی ۔ حضرت صفیہ ؓ اگرچہ اپنے جگر گوشہ کی جدائی پر افسردہ تھیں لیکن قبیلے کے ظلم و ستم سے بچانے کی خاطر انہوں نے اپنے لاڈلے بیٹے کو حبشہ کی طرف روانہ کر دیا ۔
حبشہ میں مہاجرین کو کوئی زحمت نہ ہوئی اور وہ وہاں اطمینان کے ساتھ رہنے لگے کیونکہ قریش کے لیے حبشہ ان کی پرانی تجارت گاہ تھی جہاں وہ خوب رزق کماتے تھے اور تجارت کے اچھے فائدے لیتے تھے ۔

(جاری ہے)