بین الاقوامی سیرت النبی کانفرنس 2017ء

907

(ڈاکٹر محمدعلی،ریسرچ آفیسرسیرت)
معلم انسانیت سیدنا محمد عربیؐ کے اُسوہ حسنہ کی اہمیت کے پیش نظر، وزارت مذہبی اُمور و بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان، آپؐ کی حیات و تعلیمات کے فروغ واشاعت کے لیے مختلف اقدامات کرتی رہتی ہے۔ جن میں ہر سال 12 ربیع الاوّل کو قومی یا بین الاقوامی سطح کی سیرۃالنبیؐ کانفرنس اور مقابلہ کتب سیرت ونعت کا انعقاد شامل ہے۔وزارت مذہبی اُمور و بین المذاہب ہم آہنگی حسب سابق اس سال 2 دسمبر2017ء کو جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ایک روزہ بین الاقوامی سیرت النبیؐ کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کے دو اجلاس ہوں گے۔ ایک افتتاحی اجلاس اور دوسرا اجلاس مقالات کا ہے۔ کانفرنس میں ہر مکتبہ فکر اور زندگی کے شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت فرمائیں گے۔کانفرنس کے مقالات کے اجلاس میں دنیا کے نامور علما اور مذہبی اسکالرز کانفرنس کے موضوع پر اپنے خیالات واحساسات کا اظہار فرما ئیں گے۔اس سال کانفرنس کا موضوع : ’’ اسلامی ریاست میں قومی قیادت (لیڈرشپ) کے راہنما اصول۔۔۔ تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں‘‘ طے ہوا ہے۔وزارت مذہبی اُمور و بین المذاہب، ہم آہنگی ہر سال 12 ربیع الاول کے موقع پر میلاالنبیؐ کی تقاریب کا شایانِ شان طریقہ سے انعقاد کرتی ہے اور اس کی ہدایت پر صوبائی اور ضلعی حکومتیں بھی اس کا اہتمام کرتی ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں1976ء سے اس دن کو منانے کے لیے قومی /بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں کا اہتمام بھی کیا جا رہاہے اوریہ 42 ویں سیرت النبی ؐ کانفرنس کا انعقاد ہے جو2 دسمبر 2017ء کو کیا جارہا ہے۔
اس سال بین الاقوامی سیرت النبی ؐ کانفرنس میں تقریباً 2500 افراد شرکت کریں۔کانفرنس میں 10 بیرونی ممالک اردن، یواے ای، قطر، تیونس، مراکش، انڈونیشیا، ترکی، قازقستان، چائنہ، بحرین، مصر، الجزائراور افغانستان کے 20 مذہبی اسکالروں کو مدعوکیا جارہاہے۔
سیرت النبیؐ کانفرنس کا ایک نمایاں پہلو مقابلہ کتب سیرت ونعت کا انعقاد ہے۔وزارت مذہبی اُمور ہر سال، قومی ، علاقائی، اور بین الاقوامی زبانوں میں کتب و سیرت و نعت کے مقابلوں کا اعلان بھی کرتی ہے۔جس میں خواتین و حضرات دونوں حصہ لیتے ہیں،جن میں قومی وعلاقائی زبان کے علاوہ غیر ملکی زبان (انگلش و عربی) میں بھی لکھنے والے سیرت نگار ومصنفین حصہ لیتے ہیں۔اس مقابلہ میں ایک کیٹیگری اسلامی موضوعات پر خواتین کی کتب کے مقابلہ کی بھی ہے جس میں صرف خواتین اسکالرزحصہ لیتی ہیں۔ اسی مقابلہ میں ایک کیٹیگری مقا بلہ مقالاتِ سیرت کی بھی شا مل ہے۔
سال 2017 ء کے مقابلہ کتب سیرت ونعت کا اعلان فروری کے مہینے میں کیا گیا تھا۔ اس مرحلے میں منتخب ہونے والی ہر کتاب اور ہر مقالہ کو کم از کم تین ماہرین پر مشتمل منصفین Judges کی کمیٹی کو تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے ارسال کیا گیا تھا۔یہ منصفین اور ماہرین یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی سطح کے پروفیسرز صاحبان ہوتے ہیں۔بعد ازاں اِن ماہرین کی رپورٹس کو ایک دوسری ماہرین کی اعلیٰ کمیٹی جسے اپیکس کمیٹی (committee Apex ) کہا جاتا ہے کے سپر د کیا جاتا ہے۔ یہ کمیٹی ہر کتاب اور اس کے بارے میں موصول شدہ تمام رپورٹوں اور آراء کی جانچ پرکھ کے بعد فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی کتاب کون سے انعام کی مستحق ہے۔ اس طرح بہترین انعام یافتہ قرار پانے والی کتاب یا مقالات سیرت کا تعین ہوتا ہے۔ سال 2017 ء کے مقابلہ کتب سیرت ونعت کے لئے کل 55 کتابیں موصول ہوئیں۔جن میں انعام حاصل کرنے والے خوش نصیب افراد کی تعداد 21 ہے جبکہ 100 مقالات سیرت موصول ہوئے جن میں انعام حاصل کرنے والے خوش نصیب افراد کی تعداد 36 ہے۔ اس سال خوش نصیب انعام یافتگان کی کل تعداد 57ہے۔مقابلہ کتب سیرت ونعت کی درج ذیل اقسام ہیں:
۱۔مقابلہ کتب سیرت اردو
۲۔مقابلہ کتب سیرت علاقائی زبان
۳۔مقابلہ کتب سیرت غیر ملکی (عربی اور انگلش)زبان
۴۔مقابلہ کتب سیر ت بچوں کے لیے
۵۔مقابلہ کتب نعت اردو
۶۔مقابلہ کتب نعت علاقائی زبان میں
۷۔مقابلہ کتب خواتین اسلامی موضوعات پر
۸۔مقابلہ رسائل و مجلات،سیرت ونعت کے خصوصی شمارے شائع کرنے والے مجلات
۹۔مقابلہ مقالات سیرت
سیرت النبیؐ کے حوالے سے کی جانے والی کانفرنسوں کی کارروائی، معیاری مقالاتِ سیرت کی نشرواشاعت اور مقابلہ کتب سیرت ونعت کے انعقاد کا مقصد پیغمبرِاسلام سیدنا محمدؐ کی سیرت اور تعلیمات کے مختلف پہلووں کو اُجاگر کرنا ہے تاکہ اسلام کا پوری دنیا میں اچھا تاثر (سافٹ امیج ) قائم ہوسکے۔اسلام کے سافٹ امیج کی نشرواشاعت ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے جسے ہمیں احسن سے احسن طریقہ سے نبھانا ہے تاکہ دور جدید کا انسان زندگی کے ہر شعبہ حیات میں اس سے بھرپور رہنمائی بھی حاصل کرسکے۔
وزارت کی طرف سے سیرت النبیؐ کی نشرواشاعت کے حوالہ سے کی جانے والی کوششوں کے پاکستانی معاشرے پر بڑے مثبت اورخوشگوار اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ نا صرف وطن عزیز بلکہ دنیاکے کونے کونے سے لوگ سیرت النبیؐ کی کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے تشریف لاتے ہیں اور مقابلہ کتب سیرت نعت کے انعقاد کی وجہ سے لوگوں میں سیرت ونعت کی کتابوں، مجلات اور مقالات کے لکھنے کے شوق میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔نیز یہ کہ وزارت لوگوں میں سیرت النبیؐ کے شوق کو بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً مزیداقدامات کرتی رہتی ہے۔جیسے انعامات کی تعداداور اس کی رقم میں اضافہ، مقابلہ کے طریقہ کار کوشفاف بنانے کیلئے اس کی شرائط وضوابط میں بہتری لانا اور قومی کانفرنس کے بجائے بین الاقوامی سطح کی کانفرنس کا انعقاد وغیرہ۔ان تمام اقدامات کا مقصد لوگوں میں اس شوق کو بڑھانا اور اسلام کے اچھے تاثر کوقائم کرناہے۔
موجودہ بین الاقوامی سیرت النبی ؐ کانفرنس کے پہلے حصہ میں مقابلہ کتب سیرت ونعت کی کتابوں کی کیٹیگری کے 21 انعام یافتگان کو جبکہ دوسرا حصہ جوکہ مقالات کے اجلاس کاہے، اس میں مقالات سیرت کے 32 انعام یافتگان میں انعامات تقسیم ہونگے اور 2 بجے ظہر تک کانفرنس کا اختتام دعا سے ہوگا جس کے بعد مہمانوں کو ظہرانہ پیش کیا جائے گا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ وزارت مذہبی اُمور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومت پاکستان کی سیرت طیبہ کے فروغ و اشاعت کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو قبول فرمائے، ہم سب کو محسنِ انسانیت سیدنا محمدؐ کے اُسوۂ حسنہ پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو فکری بے راہ روی سے بھی بچائے۔ آمین۔