ہیپاٹائٹس کیا ہے؟

765

اسما طارق
پاکستان سوسائٹی فاردی لیور ڈیزیز سے وابستہ ماہرین امراض پیٹ و جگر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں روزانہ 111سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے جن میں سے اکثریت کو اپنی بیماری سے متعلق علم ہی نہیں۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں ٹی بی، ڈینگی ، ملیریا اور ایڈز کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ ہیپاٹائٹس 100فیصد قابل علاج مرض ہے۔ جس سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کیا ہے؟:
میں پائے جانے والے اعضا میں سے سب سے بڑا عضو ہے۔ یہ نہ صرف جسامت کے لحاظ سے بڑا ہے بلکہ اپنے افعال و کار کردگی کے حوالے سے بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جگر جسم کا سب سے اہم حصہ ہے، جو خوراک ہضم کرنے کے ساتھ جسم میں طاقت پیدا کرتا ہے اور مزید دوسرے اہم کام بھی انجام دیتا ہے۔ اس لیے اگر جگرکے افعال وکارکردگی میں نقص واقع ہوجائے تو پورا بدن ِ انسانی بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جگر کی سوجن انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے جسے ہیپاٹائٹس کہتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش، کار کردگی متاثر ہونے یا اس میں نقص واقع ہونے کو کہا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ایک موذی مرض ہے۔ اگر وقت پر اس کی تشخیص ہو جائے تو اس سے نمٹنا آسان ہوتا ہے لیکن اگر اس کے علاج پر بر وقت توجہ نہ دی جائے تو یہ جگر کو بری طرح متاثر کر کے ِ انسانی بدن کے لیے کئی دوسرے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کی اقسام:
دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جگر کی سوزش کی تمام اقسام موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو اس مرض کے بڑھنے کی شرح ایک طرف، اب تو بڑے شہروں میں بھی بڑوں بڑوں کو یہ بیماری لاحق ہوگئی ہے۔ جیسا کہ ہیپاٹائٹس اے ،بی، سی اور ڈی۔ اے اور بی اس مرض کی عام اقسام ہیں جبکہ سی اور ڈی کا شمار انتہائی خطرناک امراض میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال سیکڑوں لوگ اس مرض کے بگڑ جانے کی وجہ سے جگر کی پیوند کاری کے لیے بیرون ممالک کروڑوں روپے خرچ کر نے پر مجبور ہیں لیکن حکومتی ادارے حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بھی عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔
ہیپاٹائٹس کی وجوہات:
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 15 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس جیسے سنگین اور خطرناک مرض کا شکار ہیں۔ہیپاٹائٹس جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ وائرس خون کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتاہے۔ ہیپاٹائٹس کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جیسا کہ غیر معیاری اور غیر متوازن غذا کا متواتر استعمال، چکنائیوں کا زیادہ استعمال ،غیر محفوظ جنسی تعلقات، ہیپا ٹائٹس میں مبتلا افراد کے خون کی تن درست افراد میں منتقلی، ہیپا ٹائٹس سے متاثرہ افراد کی استعمال شدہ سرنج کا استعمال۔ دندان سازی کے غیر صاف شدہ آلا ت کا استعمال۔حجام کے غیر صاف شدہ اوزاروں کا استعمال۔دوران آپریشن آلات کی مناسب صفائی نہ ہو نا۔ ہیپاٹائٹس میں مبتلا ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔دورانِ حمل خواتین کو ہیپا ٹائٹس وائرس کے حملے کا عام دنوں کی نسبت زیادہ خطرہ ہو تا ہے۔ قوتِ مدافعت میں کمی واقع ہو نا۔ منشیات الکحل کا زیادہ استعمال اور ایسا کھانا یا پانی جس میں فضلاتی مادہ شامل ہو تو اس سے ہیپاٹائٹس کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کی علامات:
ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو اکثر بخار رہتا ہے وہ تھکن محسوس کرتے ہیں ان کے جوڑوں میں بھی درد رہتا ہے۔ انہیں کالے رنگ کا پیشاب آتا ہے۔ہلکا ہلکا بخار رہنا اور سردی محسوس ہونا۔مریض کی بھوک میں روز بروز کمی واقع ہونا۔ متلی اور قے کا تواتر سے آنا۔ڈائریا اور بد ہضمی کا اکثر رہنا۔ سر میں درد اور بھاری پن محسوس ہونا ،پیٹ کا ہر وقت بھرا بھرا لگنا اور اس میں درد کا محسوس ہو نا۔آنکھوں کی رنگت سفیدی مائل زرد ہو جانا۔بعض مریضوں کے جسم پر ہلکی ہلکی اور بعد ازاں شدید خارش ہونا۔ جگر کے بیرونی مقام پر جلد کا سرخ اور ابھرا ابھرا ہو جا نا۔جلد کو چھو نے سے زخم کا احساس ہو نا۔ تا ہم ان علامات سے نوٹس کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے ان علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ہیپاٹائٹس سے بچاؤ :
الکحل اور دیگر ہر طرح کی منشیات کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔کھانے پینے کی غیر معیاری اشیا سے مکمل پرہیز کریں اور باہر کے کھانوں سے بھی اجتناب کریں۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنے ہاتھ وغیرہ ہمیشہ صاف ستھرے رکھیں۔ ہیپاٹائٹس اے اور بی کی ویکسین ضرور لگوائیں تا کہ اس خطرناک مرض سے محفوظ رہا جا سکے۔
دانتوں کا معاینہ ، طبی معاینہ کے وقت استعمال ہونے والے آلات کی تسلی کر لیں کہ ان کو اچھی طرح سے اسٹیریلائز کیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ہیپا ٹائٹس بی اور سی کا وائرس خراب خون کی جسم میں منتقلی اور جراثیم سے آلودہ آلات کے استعمال سے ہوتا ہے۔ بر وقت علاج نہ ہونے پر جگر کے کینسر میں تبدیل ہوکر موت کا سبب بنتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کا علاج ادویات سے زیادہ احتیاط سے ممکن ہے۔تاہم مرض کی شدید علامات کی صورت میں خود معالجاتی طرزِ عمل سے بچتے ہوئے کسی ماہر معالج سے رجوع آپ کی تن درستی اور صحت مند زندگی کی ضمانت فرا ہم کرتا ہے۔