سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں 28سالہ اسکالر اور جماعت اسلامی کے کارکن رضوان اسد کے دوران حراست قتل کے خلاف بدھ کو مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔رضوان اسد کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،شہید کو ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ میں اپنے آبائی علاقے میں آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعروں کی گونج میں سپرد خاک کیا گیا۔ قابض انتظامیہ کی پابندیوں کے باجود شہید کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رضوان اسد کی شہادت کے خلاف سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت کی ہڑتال کی کال کی تاجروں اور بار ایسوسی ایشن نے بھرپور حمایت کی۔ سرینگر شہر اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہا۔ قابض انتظامیہ نے سرینگر میں بھارتی فورسز کی بھاری تعداد کو تعینات کیاجبکہ احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کو روکنے کے لیے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل جبکہ بڈگام اور سرینگر کے اضلاع میں اس کی اسپیڈ کم کردی گئی ہے۔ ادھر انتظامیہ نے وادی میں ٹرین سروس کو بھی معطل کردیاہے۔ 28سالہ کشمیری نوجوان اسکالررضوان اسد جو اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کی فیکلٹی کا رکن تھا سرینگر کے بدنام زمانہ کارگو کیمپ میں پولیس کی حراست میں دوران تفتیش تشدد سے شہید ہوگیاتھا۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ممتاز آزادی پسند رہنما اور مجاہد تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمے میں 13 املاک ضبط کر لی ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نئی دہلی میں جاری ایک عبوری حکمنامے میں ایک کروڑ 22 لاکھ روپے مالیت کی املاک بانڈی پورہ کے رہائشی محمد شفیع شاہ اور 6 دیگر افراد کی ملکیت ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طورپر سیدصلاح الدین کے لیے کام کرتے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کاکہنا ہے کہ سید صلاح الدین ، محمد شفیع شاہ اوردیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی درج کیاگیا ہے ۔ محمد شفیع شاہ ایک جھوٹے مقدمے میں نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند ہیں۔