سری نگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بھارتی لوک سبھا کے پانچویں مرحلے کے انتخابات کے موقع پر جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ کشمیری عوام نے نام نہاد انتخابی ڈرامے بیزاری کا مظاہرہ کیا۔ پیر کے روز مقبوضہ کشمیر میں لوک سبھا کی 2 نشستوں پر انتخابی عمل کا ڈراما رچایا گیا ۔ ایک نشست جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں پر مشتمل ہے جبکہ لداخ پارلیمانی حلقے میں 2 اضلاع لیہ اور کارگل شامل ہیں۔ الیکشن سے 2 روز قبل ہی پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں بھارتی پیرا ملٹری فورسز کی 300اضافی کمپنیاں تعینات کردی گئی تھیں ۔ انتخابات سے قبل دونوں اضلاع سے سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک پولنگ بوتھ پرگرینیڈ حملہ ہوا ہے تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔حساس ترین اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں بیشتر پولنگ مراکز پر کوئی گہما گہمی نظرنہیں آئی پلوامہ اور شوپیاں کے بیشتر علاقوں میں پولنگ مراکز پر صرف سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملہ کے اہلکار نظر آرہے ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق پلوامہ اور شوپیاں میں ووٹنگ کی شرح 1.09 فیصدرہی۔مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ وادی میں نام نہاد بھارتی پارلیمانی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کامکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی ۔ لوک سبھا کے حلقے اسلام آباد کی نشست والے اضلاع شوپیاں اور پلوامہ میںمکمل ہڑتال رہی ۔لداخ میں بھی انتخابی ڈراما رچایا گیا ۔ سینئر حریت رہنما اور تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ نام نہاد انتخابات محض ایک فوجی مشق ہے جس کا مقصد تنازع کشمیر کی متنازع حیثیت کو نقصان پہنچانا اور عالمی برادری کو گمراہ کرناہے۔ کشمیری عوام کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کے باعث بھارتی حکام کی جانب پولنگ عملہ اور سامان پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا ۔ جنوبی اضلاع شوپیاں اور پلوامہ میں حالات کشیدہ رہے ۔دونوں اضلاع کے کئی مقامات پر زبردست پتھرائو اور مظاہرے جاری ہیں ۔ شوپیاں اور پلوامہ کے کئی مقامات پر فورسز اور مقامی نوجوانوں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں۔بنہ گام،گاگرن ،بنہ بازار اور میمندر شوپیاں میں پتھرائو اور شیلنگ ہوئی جس کے باعث 2درجن کے قریب افراد زخمی ہوگئے جبکہ نامعلوم افراد نے چندر پورہ پلوامہ میں قائم ایک پنچایت گھر کو نذر آتش کردیا ہے۔ مذکورہ پنچایت گھر میں پولنگ اسٹیشن قائم تھا۔ کیگام شوپیاں میں نا معلوم افرد نے گورنمنٹ مڈل اسکول کی عمارت جسے الیکشن اتھارٹی نے پولنگ اسٹیشن مقرر کیاتھاکو نذر آتش کر دیا ۔یاد رہے اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 3 مراحل کے تحت ووٹنگ کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس دوران آخری مرحلے کے تحت پیر کو ضلع پلوامہ اور شوپیاں میں انتخابی ڈراما کیا گیا اس دوران اکثر بازار بند پڑے رہے جبکہ بعد دوپہر ہی اندرون و بیرون سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل مکمل طور پر غائب رہی۔ اس دوران یہاں کرفیو کی صورتحال چھائی رہی جس کے نتیجے میں تجارتی مراکز، دکانیںاور دیگر کاروباری ادارے مکمل طور پر ٹھپ رہے جبکہ بازاروں اور شاہراہوں سے لوگوں کی آ مدرفت غائب ہوئی۔