مقبوضہ کشمیر،بھارتی انتخابی ڈراما ناکام 300 بوتھ پر ایک بھی ووٹ نہیں پڑا

106

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پارلیمانی انتخابی ڈرامے کو کشمیریوں نے ناکام بنا دیا ہے ،695پولنگ بوتھوں میں سے 300پولنگ بوتھوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا،پانچویں اورآخری مرحلے میںپلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں پولنگ کی شرح 3 فیصد سے بھی کم رہی جو پانچوں مرحلوں کی سب سے کم شرح ہے جبکہ پولنگ بوتھ ویرانی کا منظر پیش کررہے تھے، پولنگ ایجنٹ غائب اور پولنگ عملہ خوفزدہ تھا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق چیف
الیکٹورل افسر شیلندر کمار نے کہاکہ دونوں اضلاع میں ووٹ ڈالنے کی شرح 2.81فیصد رہی جبکہ کل695 پولنگ بوتھوں میں سے 300بوتھوں پر ایک بھی ووٹ نہیں پڑا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پلوامہ میں 2.14فیصد جبکہ شوپیاں میں 2.88فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ پولنگ کی اصل شرح سرکاری ذرائع سے بتائی گئی شرح سے کہیں کم ہے۔ وچی کے علاقے میں 9 پولنگ بوتھوں پر 7سے کم ووٹ ڈالے گئے اورشوپیاں میں 14پولنگ بوتھوں پر 5سے بھی کم ووٹ پڑے ۔بیشتر پولنگ بوتھوں پر عملہ فارغ بیٹھا تھاجبکہ بھارتی فوجی مقامی نوجوانوں کی طرف سے کسی بھی ممکنہ خلل اندازی سے نمٹنے کے لیے مستعد کھڑے تھے۔سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجود نامعلوم افراد نے پولنگ والے اضلاع میں4 مقامات پردستی بموں اور پیٹرول بموں سے حملے کیے تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دونوں اضلاع میں لوگوں کی انتخابی عمل میں عدم شرکت کی وجہ بھارت کے خلاف پائی جانے والی نفرت اور غم وغصہ ہے۔دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیّد علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت جس جارحانہ اور جابرانہ انداز سے ایک منصوبہ بند فوجی مشق کو جمہوری عمل ثابت کرنے کی مذموم کوشش کررہا ہے اس کو کشمیری عوام نے بڑی بہادری سے ناکام بناکر اخلاقی برتری حاصل کرلی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سیّد علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںبھارت کے نام نہاد پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر کشمیری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی 7لاکھ سے زاید قابض افواج ،نیم فوجی دستوں اور پولیس انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ بھارت کے جبری قبضے کے خلاف ایک واضح اور غیر مبہم ریفرنڈم ہے۔انہوںنے نام نہاد انتخابی عمل کے زہرِ ہلاہل کو ریاستی عوام کے گلے اُتروانے کے لیے بھارت کے جابرانہ ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ انتخابات کا بگل بجاتے ہی جموںو کشمیر میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی اور مارشل لا کا نفاذ عمل میں لایا گیا اورجماعت اسلامی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جیسی سیاسی جماعتوں پر پابندی عاید کرکے ہزاروں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیاگیا اور انہیں تہاڑ، ہریانہ، کٹھوعہ، کوٹ بھلوال، ریاسی، امپھالا اور دیگر دور دراز جیلوں میں ڈالاگیا اورانہیں بنیادی سہولیات سے محروم کرتے ہوئے تنگ و تاریک سیلوں میں مقید کیا گیا ۔انہوں نے بھارتی حکمرانوںکو مشورہ دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو انتخابی سیاست کے زوایہ نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اپنی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کریں اور مسئلے کوان کی مرضی کے مطابق پرامن طریقے سے حل کریں۔