سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے قتل عا م کی لہر کے خلاف ہڑتال کے باعث آج نظام زندگی مفلوج رہا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ سرینگر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر تمام بڑے قصبوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل تھی۔قابض انتظامیہ نے نوجوانوں کی شہادت پر احتجاجی مظاہرے روکنے کے لیے سرینگر کے ڈائون ٹائون علاقوں میں پابندیاں نافذ کر دی تھیں،تاہم کشمیریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے کیے ۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاسکی کیونکہ انتظامیہ نے مسجد سیل کر دی تھی ۔قابض انتظامیہ نے بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف طلباکو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے مقبوضہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل آج مسلسل تیسرے روز بھی معطل رکھا۔ مقبوضہ وادی میں ریل سرو س بھی معطل کی گئی تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، محمداشرف صحرائی، شبیر احمدڈار، ، محمد اقبال میر، امتیاز احمد ریشی، غلام نبی وار، غلام نبی وسیم اور اسلامی تنظیم آزادی نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں بھارتی فوج کی طرف سے شوپیاں، پلوامہ اور بارہمولہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ یاسمین راجا اور محمد رفیق گنائی پلوامہ کے علاقے کریم آباد گئے اورشہید نوجوان نصیر پنڈت کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی ، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اورایمپلائیز موومنٹ کے چیئرمین محمد شفیع لون نے اپنے بیانات میں ارشد احمد ڈار نامی نوجوان کے قتل کی مذمت کی ۔ ارشد احمد ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن چھانہ بل میں پیر کے روز بھارتی فورسز کی پرامن مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گیا تھا اور وہ بدھ کی رات کو سرینگر کے ایک اسپتال میں چل بسا۔دریںاثنا جموں خطے کے ضلع ڈوڈہ کے قصبے بدھرواہ میں آج دوسرے روز بھی کرفیو کا نفاذ برقرار رہا۔ قصبے میں کرفیو بدھ کی رات کو ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایک مسلمان نعیم احمد شاہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف شدید مظاہروں کے بعد لگایا گیا تھا۔بدھرواہ میں آج ہڑتال کی گئی جس کی کال انجمن اسلامیہ بدھرواہ کے صدر پرویز احمد شاہ نے دی تھی۔ادھرکشمیر کونسل یورپی یونین نے مسئلہ کشمیرپر اپنی ایک ملین دستخطی مہم کے سلسلے میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک روزہ کیمپ لگایا۔