سندھ حکومت کا کراچی کی سڑکوں پر پارکنگ ختم کرانے کا فیصلہ

350

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی سڑکوں پر پارکنگ ہونے پراظہار برہمی کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک کو ہدایت کی کہ سڑکوں پر کہیں بھی پارکنگ کی اجازت نہیں دی جائے،

کراچی میں 40.6 ارب روپے کی 449 سالانہ ترقیاتی پلان (اے ڈی پی) اسکیمیں جاری ہیں اور 7 ارب روپے کی 11 نئی اسکیمیں شروع کی جارہی ہیں جس سے کراچی شہر مزید خوبصورت بن جائے گا،

وہ جمعہ کو نئی مجوزہ اسکیموں اور جاری اسکیموں پر ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے، اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات روشن شیخ، ڈی جی کے ڈی اے، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان، پی ڈی کراچی پیکیج خالد مسرور نے شرکت کی،

صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے توجہ دلانے پر 11 نئی اسکیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں شاہراہ نو ر جہاں عبداللہ کالج کا قلندریہ چوک شہاجہان ایوینیو واٹر پمپ سے قلندریہ چوک کی تعمیر بشمول گندے پانی کے نالے کی بحالی، صفورہ چوک تا فلائی اوور جوہر چورنگی پر پل، گریس ولیج تا وائی جنکشن سڑک بشمول گندے پانی کے نالے کی تعمیر،

سید رئیس احمد جعفری روڈ، پیپل چورنگی تا بینک کی تعمیر بشمول، گندے پانی کے نالے کی تعمیر، اسٹار گیٹ پر انڈرپاس، گارڈن روڈ پر دو رویہ پل، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ نیشنل اسٹیڈیم پر انڈرپاس، سپریم کورٹ کے اطراف سڑکوں کی تعمیر، ایمپریس مارکیٹ کی تزئین و آرائیش بشمول سرسبزہ، ٹوٹے ہوئے شیشوں کو لگانا، پرانے پتھروں کی بحالی، گھڑیال کی مرمت اور مارکیٹ کے اطراف میں روشنیوں کو بحال کرناہے،

اجلاس میں چرچ پر لائیٹس کی تنصیب اور تزئین و آرائیش کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور اسکی اصولی طور پر منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری بلدیات اور پی ڈی کراچی پیکیج کو ہدایت کی کہ وہ مل کر بیٹھیں اور اسکیمیں تیار کریں تاکہ انھیں بروقت منظور کیا جاسکے اور فوری طور پر شروع کیا جاسکے،

ان اسکیموں پر تقریباً 7 ارب روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انھوں نے کراچی پیکیج کے تحت 40.6 ارب روپے کی 449 جاری اسکیموں کے لیے 15.14 ارب روپے جاری کردیئے ہیں،

وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ جاری کردہ 15 ارب روپے میں سے ابھی تک صرف 7.1 ارب روپے ہی استعمال ہوئے ہیں۔ اس پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام 6 اضلاع میں سڑکوں کی استرکاری کا کام حال ہی میں شروع ہوا ہے،

انھوں نے کہا کہ فنڈز کا استعمال متوقع اخراجات سے کہیں زیادہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے خلیق الزماں روڈ ڈی ایچ اے فیز 2 کی جانب جاری سڑک کے لیفٹ ٹریک کو کھولنے میں تاخیر پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا،

جس پر وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ پنجاب چورنگی کے بائیں جانب ایک عمارت خالی کرانی ہے مگر ابھی صرف دو دکانیں خالی ہوئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ عمارت کا لے آؤٹ پلان دیکھیں گے کہ عمارت غیر قانونی ہے اور انھوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ بلڈوزر لے کر اور سن سیٹ بلیوارڈ کی جانب جانے والے ٹریک/سڑک کو بحال کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ اہم سڑکیں گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ خلیق الزماں کا سارہ روڈ بشمول دھلی کالونی، طارق روڈ، کلفٹن کی سڑکیں اور گلشن اقبال، ناظم آباد، اور نارتھ ناظم آباد کے کتنے ہی روڈوں پر گاڑیوں کی پارکنگ ہی پارکنگ نظر آتی ہے،

انھوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ انکی ہدایات ڈی ا?ئی جی ٹریفک پر پہنچائیں کہ وہ اس چیز کو روکیں اور انھیں رپورٹ پیش کریں۔ کراچی زولوجیکل گارڈن کی اسکیم جب زیر غور آئی تو وزیراعلیٰ سندھ نے سست رفتاری سے ہونے والے کام پر اپنی ناپسند یدگی کا اظہار کیا،

انھوں نے کہا کہ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ اسکیموں پر سست روی کے ساتھ کام ہو جبکہ میں نے تمام متعلقہ فنڈز جاری کردیئے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ چڑیا گھر میں موجود ہاتھی پر بچوں کو سواری کرانے کا بھی رجحان نہیں رہا ہے لہٰذہ انھوں نے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ایشیائی ہاتھی خرید کریں تاکہ اس پر چڑیا گھر آنے والے بچے سواری کرسکیں،

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ اسکیمیں جو مکمل ہوچکی ہیں مثلاً حیدر علی روڈ انڈرپاس، ٹیپو سلطان انڈرپاس، سن سیٹ بلیووارڈ پل، کورنگی کے برجز اور دیگر بہت سے پلوں کو اپنا پی سی IV جمع کراکے اے ڈی پی کی کتاب سے نکالا جائے گا،

مراد علی شاہ نے کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اتھارٹیز سے بات کرکے ناتھا خان یو ٹرن کے کام کو شروع کرائیں۔ میں زیادہ سے زیادہ اپریل تک اسکا افتتاح کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسٹارگیٹ تا چکرا نالہ برساتی پانی کے نالے پر ہونے والے کام کو نامکمل چھوڑا گیا ہے انھوں نے اس اسکیم پر بھی کام شروع کرنے کا حکم دیا،

مراد علی شاہ نے کہا کہ کے این اکیڈمی کی جانب جانے والی سڑک کی دوبارہ تعمیر ہونی چاہیے کیوں کہ یہ شہر کی مصروف سڑکوں میں سے ایک ہے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ مختلف سڑکوں کو خوبصورت بنایا جائے مثلاً اسٹیڈیم روڈ۔ ککڑی گراؤنڈ کی دوبارہ تعمیر، 8 ہزار روڈ کی تکمیل اور نارتھ ناظم آباد پارک کو ترقی دینے کا بھی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا،

مراد علی شاہ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ مالی سال کے لیے مہران ہائی وے کی تعمیر کی اسکیم تیار کریں اور اسے اسی سال مکمل بھی کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ اورنگی پل کی توسیع مکمل ہوچکی ہے،

مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ آئندہ 15 دنوں کے اندر جاری اسکیموں کا دورہ شروع کریں گے لہٰذہ ان پر اسی حساب سے کام شروع ہونا چاہیے۔انھوں نے ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان کو ہدایت کی کہ وہ شہر کا دورہ کریں اور گٹر سسٹم کا سروے کرائیں اور جہاں پر ضرورت ہو اسکی مرمت کرائیں اور سڑکوں پر کھڑے پانی کو صاف کرائیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو ہر ایک بات بتانا یا سمجھانا ضروری نہیں ہے، مگر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے طور پر کارروائی کریں۔