کورونا،لاک ڈاؤن عید کی برینڈڈ کلیکشن خطرے میں

440

رمضان کےآغاز میں اب چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں اور عموعاً رمضان کی آمد سے قبل ہی زیادہ تر لوگ عید کے کپڑے خرید لیتے تھے۔

اسی وجہ سے مختلف ڈیزائنرز کی جانب سے رمضان سے چند ہفتے قبل ہی عید کلیکشن لانچ کر دی جاتی تھی تاہم اس سال حالات مختلف ہیں اور ڈیزائنرز کی عید کلیکشن بھی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن ہے۔

پاکستان میں مختلف برینڈز کی جانب سے عید کلیکشن نہ آنے کی ایک وجہ فیکڑیوں کا بند ہونا بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ فیکڑیوں میں کام نہ ہونے کی وجہ سے کپڑوں کی تیاری ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کےمشہور برینڈز کا کہنا ہے کہ14 مارچ سے فیکڑیاں بند کر دی تھیں۔عام حالات میں اس وقت تک عید کے کپڑے تیار ہو کر دکانوں پر آجاتے تھے،تاہم عید کی کافی کلیکشن ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئی ہے۔

حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد بھی پولیس کی جانب سے اُن کو فیکڑیاں کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ملازمین کو کام نہ کرنے کے باوجود مارچ کی تنخواہیں بھی ادا کر دی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ مگر ہم کب تک ایسا کر سکیں گے کیونکہ دکانوں کے مالکان بھی کرائے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کام بند ہونے کی وجہ سے وہ کہاں سے ادا کریں گے؟

انہو ں نےحکومت سے ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب اگر فیکڑیاں کھل بھی جائیں تو دکانیں بند ہوئیں تو کپڑے کس کو بیچیں گے؟

بہت سے برینڈز ایسے ہیں جن کی لان کلیکشن لانچ کے لیے تیارتھی، تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب وہ فیکڑیوں اور دکانوں پر ہی موجود ہے۔

خسارہ کم کرنے کے لیے بے شمار برینڈز نے سیل بھی لگا دی ہے۔جبکہ آن لائن بیچنے کی اجازت بھی نہیں مل رہی حالانکہ ان کے برینڈ کے پاس آن لائن آڈرز موجود ہیں،تاہم کوریئر کمپنیوں کو صرف ضروری اشیا کی ڈیلیوری کی اجازت ہے۔برینڈز مالکان نے رمضان میں کاروبار کھولنے کی امید ظاہر کی ہے،

دوسری جانب عام عوام بھی اب حالات بہتر ہونے کی امید کر رہے ہیں۔وہ رمضان سے قبل اور رمضان کے دوران عید کی تیاریوں کے لیے بازاروں کے چکر لگاتے تھے مگر اب یہ کب تک ممکن ہوگا کوئی نہیں بتا سکتا ہے۔

ایک مشہور برینڈ کے سی ای او کا کہنا ہے کہ حکومت سے بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ رمضان میں حکومت اجازت دے دی گی جس کے بعد ہم فیکڑیاں اور دکانیں کھول سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں اُن کے برینڈ کی تین کلیکشنز آئی تھیں جس میں سے ایک مارچ میں سیل ہو گئی تھی جبکہ دوسری 60 ساٹھ فیصد سیل ہوئی ہے۔

گذشتہ دس روز سے آئن لائن سیل کی اجازت ملی ہے اور وہاں سیل 15 فیصد سے بھی کم ہے۔اگر حکومت رمضان میں کاروبار کھولنے کی اجازت دے دے تو اب بھی عید کی کلیکشن تیار کر لیں گے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا درزیوں کے پاس کام زیادہ ہونے کی وجہ سے ریڈی میڈ کپڑوں کی مانگ میں اضافہ ہو جائے گا؟اس پرمشہور برینڈز کا کہنا ہے کہ چھوٹے علاقوں میں کپڑوں کی فٹنگ کے مسئلے کی وجہ سے ریڈی میڈ کپڑوں کی سیل زیادہ اچھی نہیں ہوتی ہے۔اس لیے ان سلے کپڑے ہی زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے چودہ اپریل کو کئی شعبوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم اب بھی کئی جگہوں پر فیکڑیاں بند ہیں۔دوسری جانب کئی ڈیزائنرز نے کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لیے حفاظتی لباس بھی تیار کرنا شروع کیا ہے