کوئٹہ(آن لائن) معروف قانون دان و عدالت عظمیٰ کے وکیل علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے حیات بلوچ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہ ہے کہ تربت جیسے علاقے میں جہاں حالات اور واقعات کسی کے کنٹرول میں نہیں یہاں دوسرے ساتھی اہلکاروں کے سامنے جن کی خاموشی اور عدم مداخلت بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے، ایف سی کا ایک سپاہی جس ظالمانہ انداز میں حیات بلوچ کو قتل کرتا ہے اور ایک ، 2 نہیں بلکہ پورے 8 گولیاں جسم میں اتارتا ہے ۔ سکھر کے علاقے میں باپ کا بے دردی سے گھر کے افراد کو قتل کرنا معاشرے کی بے حسی کا ثبوت ہے۔معاشرے میں جس کی بہت بڑی اکثریت بھوک، افلاس بے روز گاری ہر طرح کی ظلم بے
انصافی ذہنی و قلبی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے ۔حالات کو بہتر نہ کیا گیا تو معاشرہ کسی لاعلاج مرض کی طرح ہوجائے گا۔