ایپکا ملازمین کو ٹائم اسکیل سے محروم رکھا ملازم دشمنی ہے ،مقررین

115

کوٹری (پ ر) آل پاکستان کلرک ایسوشی ایشن سندھ کا اہم ہنگامی اجلاس مرکزی سینئر نائب صدر ایپکا پاکستان میاں جاوید کمبوہ کی صدارت میں جامشورو ایٹ کوٹری میں منعقد ہوا، جس میں مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اپیکا پاکستان ایم اے بھرگڑی، عابد حسین چانڈیو، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایپکا پاکستان محمد حسن ٹانوری، محمد طاہر شیخ، عبدالوہاب، احسان علی مگسی، عبدالغفور عباسی، عابد سومرو، محمد طاہر بنگش کراچی، نیاز حسین خاصخیلی، احسان عالمانی، کاشف رضا کھوکھر جام شورو، مختار عالم، رکن الدین حیدرآباد و دیگر نے بھرپور شرکت کرکے متنازع صوبائی ایگزیکٹو باڈی ایپکا سندھ کا نوٹیفکیشن جو غیر آئینی اور ایپکا منشور 2011ء اور تنظمیی تمام اصولوں کیخلاف جاری کیا گیا ہے کو واپس لینے کا ایپکا قیادت و مرکزی صدر ایپکا پاکستان فضل غفار باچا سے مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے و قائدین نے کہا کہ ہم ایپکا پاکستان کا حصہ ہیں اور شہید ساقی ایپکا کے بانی رہنما، مرکزی سیکرٹری جنرل اور پہلے مرکزی چیئرمین ایپکا پاکستان تھے اور ملازمین کے حقوق کے حصول کے لیے پُرعزم تھے۔ شہید ساقی کے نام سے نفرت کرنے والے ایپکا اور ورکرز کے دوست نہیں۔ اس موقع پر ایک قرارداد مشترکہ طور پر منظور کی گئی، متنازع نوٹیفکیشن کو جلد واپس کرکے 10 رکنی صوبائی ایگزیکٹو باڈی ایپکا سندھ تشکیل دی جائے، عبوری باڈی کے لیے مختلف ناموں کی منظوری دی گئی۔ الیکشن کمیشن ایپکا سندھ کے سربراہ کے طور پر ایم اے بھرگڑی کا نام تجویز کیا گیا، اگر اپیکا ورکرز کی تجاویز پر غور نہیں کیا گیا تو عدالت میں جانے اور دوسرا گروپ تشکیل دینے کی مکمل حمایت کی گئی۔ کراچی، میرپور خاص، حیدرآباد، جام شورو و دیگر سطح کے عہدیداران کیخلاف انتقامی طرز عمل اور غیر جمہوری طریقہ کار استعمال کیا گیا تو ورکرز اپنے مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے اپنا تنظیمی اور اپیکا منشور 2011ء کے مطابق اپنا کام جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ملازمین کے AGEGA متحدہ گرینڈ الائنس کے احتجاج کی مکمل حمایت کی گئی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر عبدالغفور عباسی کو میڈیا کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کی تجویز منظور کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر مطالبات کی منظوری کے لیے جس میں شامل منظور شدہ کلاس چہارم گریڈ 1 تا 4/5 اور دیگر 15-11 کیٹیگریز جس کی فروری 2019ء میں وزیر اعلیٰ سندھ نے منظوری اور اپریل 2019ء سندھ کابینہ کی بھی منظوری ہوچکی مگر تاحال ٹائم اسکیل سے محروم رکھنا ملام دشمنی، سندھ اسپورٹس بورڈ حیدرآباد کے تمام ملازمین کو مستقل کرنے، تنخواہوں کی درستگی، عشر و زکوات ملازمین کو مستقل کرنے اور سندھ بھر میں کلریکل و دیگر اسٹاف کے پروموشن نا کرنے اور بار بار DPCs مؤخر کرنے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے سخت نعرے بازی کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جلد مسائل حل کیے جائیں۔