پی اے سی کو مؤثر بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے،ارکان کا مطالبہ

314

اسلام آباد(آن لائن)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے تاریخی اجلاس میں تمام اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں کرپشن کی روک تھام کے لیے پی اے سی کو مؤثرادارہ بنانے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے،گزشتہ18سال سے التوا میں پڑے آڈٹ رپورٹ کو نمٹانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں پی اے سی کا اجلاس ہوا۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے کہا کہ گزشتہ 8سال میں81ارب روپے کی ریکوری کرکے قومی خزانہ میں فنڈز جمع کرائے گئے ہیں۔پی اے سی نے متفقہ طور پر یہ بھی فیصلہ کیا کہ ملک میں جاری اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لیے پی اے سی ذمے داری پوری کرے۔تاریخی اجلاس میں اراکین پی اے سی نے اس عزم مصمم کا اعادہ کیا گیا کہ قومی خزانہ کے تحفظ کی قسم اٹھائی ہے ہم لٹیروں کو قومی خزانہ لوٹنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔اجلاس میں خورشید شاہ،شیری رحمان،اعظم سواتی،شفقت محمود،نوید قمر، عذرا پلیجو،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری، نذیر سلطان، عاشق گوپانگ،شیخ روحیل اصغر، میاں عبدالمنان کے علاوہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر اپنی ٹیم کے ساتھ شریک ہوئے۔



اجلاس میں تاریخی کارنامہ سرانجام دینے پر اراکین پی اے سی کو شیلڈ بھی دی گئیں۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ18 سال کا آڈٹ اعتراضات نمٹانا بڑا کام ہے تاہم افسران پی اے سی کو اہمیت دینے میں مخلص نہیں ہیں،اس اہم قومی ادارہ کو طاقتور اور مستحکم بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے اور احکامات پر عملدرآمد کرانے کا اختیار دیا جائے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا پی اے سی کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔